رمضان میں صدقہ:ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ استاد مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ

80

رمضان میں صدقہ
موضوع گفتگو صدقہ نافلہ ہے،یہ ماہ رمضان ہے،جو تمام مہینوں کا سردار ہے،اور اس کا پورا نام رمضان المبارک ہے۔یہ مہینہ صرف فرائض سے مبارک نہیں ہے بلکہ نوافل سے بھی عبارت ہے،عموما دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ روزہ دار زکوة وصدقہ فطر ودیگرفرائض و واجبات کا اس مہینے میں خاص اھتمام کرتے ہیں، مگرنوافل بالخصوص صدقات نافلہ پر اس درجہ دھیان نہیں دیتے ہیں، باوجود یہ کہ حدیث شریف میں صدقہ نافلہ اس ماہ میں صدقہ واجبہ کے اجر کا حامل ہے، دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان سے قبل کی تقریر ہے،مشہور صحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے”ایک بہت ہی مبارک مہینہ تمہارے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے،اس مہینے میں ایک رات ہزار مہینے سے بہتر ہے،دن میں اس کے روزے فرض ہیں اور رات کی عبادت میں ثواب ہے، اس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر ،اور فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ملتا ہے یہ صبر کا مہینہ ہے۔اور صبر کا اجر جنت ہے،یہ ہمدردی اور سلوک کا مہینہ ہے، اس میں مومن کی روزی زیادہ ہوتی ہے ۔جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرادے اس کو ایک روزہ کا ثواب ملے گا ۔اس پر صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے دریافت فرمایا، یارسول اللہ ہم میں ہر شخص کے پاس اتنا وافر کھانا تو نہیں ہوتا کہ خود بھی کھائیں اور کسی کو افطار بھی کرائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کچھ نہ ہو تو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہی افطار کرادو۔
یہ تقریرصدقہ نافلہ کے عنوان پر ہرصائم کے لئے دلیل ہے،ہرروزہ دار جو صاحب ثروت ہے یا نادار ہے،باوجود اس کے رمضان المبارک میں صدقے کی اسے تلقین کی گئی ہے، ایک بسکٹ یا ایک گلاس پانی ہی سہی اس پر بطور صدقہ کے رمضان میں اس حدیث سے واجب وضروری ہے ،ہرچند کہ فقہا کرام نے اسے نفل پر محمول کیا ہے، مگرمدعاوشریعت اسلامیہ کا منشا تو یہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر یہی کہ رہی ہے اوراس کے بدلہ فرض واجب صدقہ کااجربھی اسے مل رہاہوتا ہے۔رمضان کا ایک دوسرا نام حدیث شریف میں ” شہرالمواساة”ہے، دوسروں کےساتھ ہمدردی اور نیک سلوک کا یہ مہینہ ہے۔اس کا مطلب صاف اور واضح ہے،یہ مہینہ غریب بھائیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے، اورعام صدقہ وخیرات کرنے کا مہینہ ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے دریافت کیا کہ، کونسا صدقہ افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رمضان کا صدقہ افضل ہے”۔ترمذی شریف کی یہ حدیث ہے اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےمروی ہے۔
مذکورہ حدیث کی مکمل تشریح جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان والی زندگی ہے،آپ کا صدقہ ہےاور رمضان المبارک میں اس تعلق سے آپ کا خاص اھتمام ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے،حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے،مگر رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت تیز ہوا کے جھونکے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی ۔اماں جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر زمانہ میں غریبوں کی امداد اور صدقہ وخیرات کا خیال فرماتے تھے لیکن خاص طور پر رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جذبہ بے حد بڑھ جاتا تھا۔
صدقات وخیرات کے عنوان پر آپ صلی اللہ کا رمضان میں یہ خاص عمل ہمیں دراصل نفلی عبادات کے ساتھ ساتھ نفلی صدقات کی طرف تحریک کرتا ہے،آج کی تاریخ میں اور اس رمضان میں اس پر خاص اھتمام کی بھی وصیت کرتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی یہ سنت رہی ہے،اور اکابرین نے بھی اس عنوان پر ہمیشہ مداومت کی ہے، چنانچہ حماد بن سلمہ رح مشہور محدث ہیں، رمضان میں روزانہ پچاس لوگوں کو افطار کرانااپنا معمول آپ نےبنا لیا تھا ۔
کسی روزہ دار کو افطار پر ایک روزہ کا اجر ہے،روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی یا کٹوتی نہیں ہوتی ہے، روزہ کا اجر دراصل خدا کی خاص رضاکانام ہے،یہ کتنی بڑی چیز ہےاور کتنی بڑی بات ہے، اس بے حد وحساب اجر وثواب کا تصور وادراک بھی ہمارے لئے امر محال ہے۔کسی روزہ دار کوافطاری کرانا یہ بھی شرعی نگاہ میں ایک قسم کا صدقہ نافلہ ہے،اپنے علاقہ میں کسی روزہ دار کو کھانا کھلاکر اورافطاری کراکرصدقہ کےاجرکاحامل ہونامعیوب سمجھا جاتا ہے جو صحیح نہیں ہے، اسی لئے افطار پارٹی وغیرہ نام کی غلط رسومات پنپنے لگی یے، اور خالص نام ونمود اور سیاسی ڈش میں یہ تبدیل ہوگئی ہے، غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس پاڑٹی میں امیروں کومدعو کیا جاتا ہے،یہ شارع کے منشا کے خلاف عمل ہےاورسنت وشریعت سے ہٹی ہوئی بات ہے، صدقہ میں صرف پیسے یاکوئی سامان دینا ہی نہیں ہے بلکہ کھانا کھلانا اور افطاری کرانا بھی شامل ہے،اسمیں غریبوں کو چھوڑا نہیں جاسکتا ہے بلکہ یہ ان کا واجبی حق ہے۔ مذہب اسلام میں صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے،
’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے صدقہ ضروری ہے۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ اگر کوئی شخص اِس کی اِستطاعت نہ رکھے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے، جس سے اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ لوگوں نے عرض کیا: اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو یا ایسا نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرورت مند اور محتاج کی مدد کرے۔ لوگ عرض گزار ہوئے: اگر ایسا نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ خیر کا حکم کرے یا فرمایا کہ نیکی کا حکم دے۔ لوگوں نے پھر عرض کیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے رکا رہے کیونکہ یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
صدقہ مذہب اسلام میں ایک ضروری عمل ہے،خواہ وہ نفلی کیوں نہ ہویہ بھی شرعی نگاہ میں ضروری ہے، مذکورہ حدیث سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے، اور کوئی صاحب ایمان اس سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں، صحیحین کی یہ حدیث ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، ہرروز جس میں سورج طلوع ہوتا ہے لوگوں کے لئے اپنے ہر جوڑ کا صدقہ ہے، جو لوگوں کے درمیان عدل کرتا ہے اس کا یہ عمل بھی صدقہ ہے،
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا فرمائی تو وہ ہلنے لگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کئے اور انہیں زمین پر رکھ دیا چنانچہ وہ ٹھہر گئی۔ فرشتوں کو پہاڑوں کی شدت اور قوت پر تعجب ہوا، انہوں نے عرض کیا: اے پروردگار! تیری مخلوق میں پہاڑوں سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں! لوہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رب! تیری مخلوق میں لوہے سے بھی زیادہ طاقت والی کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں! آگ ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا: اے پروردگار! تیری مخلوق میں آگ سے بھی زیادہ طاقت والی کوئی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں! پانی ہے۔ پھر عرض کیا: اے رب! تیری مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں! ہوا ہے۔ پوچھا: ہوا سے بھی زیادہ سخت کوئی مخلوق ہے؟ فرمایا: ہاں انسان ہے۔ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پوشیدہ رکھتا ہے۔‘‘(ترمذی )
اس وقت ملک میں بےروزگاروں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے، پچھلے رمضان سے لاک ڈاون والی مصیبت تاہنوز پیچھا کررہی ہے،اس وقت بھی ملک کے کچھ حصوں اور ریاستوں میں لاک ڈاون جیسی پابندیوں کا سامنا ہے،باہر روزگار کے مواقع معدوم ہوتے چلے گئے ہیں، اپنے خطہ سیمانچل میں بھی اس کا خاص اثر دیکھنے میں آرہا ہے، اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں، اور غریب ونادار کی فہرست میں شمار کئے جانے کے لائق ہیں، یہ کوروناوائرس عذاب الہی ہے، اس رمضان میں ہماری ذمہ داری دوگنی ہے، ایک تو ان ناداروں کی کفالت کا سامان بن جانا اور دوسرے اس عذاب الہی سے اس ماہ مبارک میں دعا ومناجات کرنا۔آج کا ہمارا یہ عنوان دونوں مسائل کا حل اور تریاق بھی ہے،آئیے خود آقائے مدنی کی زبان میں ملاحظہ کرلیجئے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک صدقہ اﷲ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔‘‘
(ترمذی )
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
استاد مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ
رابطہ، 9973722710