رمضان اور شوال کے چھ روزوں کا ثواب ۔ شمشیر عالم مظاہری۔ دربھنگوی۔ 

82
رمضان اور شوال کے چھ روزوں کا ثواب ۔
شمشیر عالم مظاہری۔ دربھنگوی۔
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار۔
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے اور  صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں یہ درویش صفت صحابی تھے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔  یہ حدیث قدسی ہے۔ ،، حدیث قدسی،،اس کو کہتے ہیں کہ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی کوئی بات نقل فرمائیں کہ اللہ تعالی نے یوں فرمایا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ :-  جو شخص اس دنیا میں کوئی نیک عمل کرتا ہے تو میں اس کو اس عمل پر دس گنا اجر و ثواب دیتا ہوں اور جو شخص برائی یا گناہ کرتا ہے تو اس کی سزا اتنی ہی دیتا ہوں جتنا اس نے ناجائز کام کیا گناہ کی سزا دوگنی بھی نہیں کرتا،  بلکہ گناہ کے برابر سزا دیتا ہوں یا معاف کر دیتا ہوں ۔
ہر نیکی کا ثواب دس گنا ۔
بہرحال اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ تم کوئی بھی نیکی کرو تو اس کا دس گنا ثواب میرے پاس تیار ہے،  اور نیکی کے اس ثواب کا وعدہ کسی مخلوق کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے وعدہ ہے،  اور اس ثواب کو کسی خاص نیکی کے ساتھ مخصوص نہیں فرمایا،  بلکہ یہ فرمایا وہ کسی بھی قسم کی نیکی ہو۔ چاہے وہ عبادت فرض ہو یا نفل ہو،  یا ایک مرتبہ،، سبحان اللہ،، کہنا ہو یا ایک مرتبہ،، الحمدللہ،،کہنا ہو، ان سب کا ثواب دس گنا ہ دینا لازم ہے ۔
یہ شوال کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں ،،شش عید،،  کے روزے رکھے جاتے ہیں حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رمضان کے بعد ماہ شوال میں چھ روزے رکھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کو سارے سال روزے رکھنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ یہ سارے سال روزے رکھنے کا ثواب اسی اصول پر مبنی ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا دیا جائے گا۔ لہذا رمضان المبارک کے تیس (30) روزے ہوۓ۔ چاہے رمضان انتیس ( 29)  دن کا ہوا ہو،  لیکن اللہ تعالی کے ہاں تیس ( 30)ہی شمار ہوتے ہیں کیونکہ حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-  عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے، اگر انتیس (29) ہوں تب بھی تیس ( 30) ہی شمار ہوتے ہیں (صحیح بخاری)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:  جس نے ماہ رمضان کے  روزے رکھے اس کے بعد ماہ شوال میں چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہوگا (صحیح مسلم)
بہرحال رمضان المبارک کا مہینہ اگر انتیس (29)ہی دن کا ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے تیس (30)روزوں کا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ اور اس سال تو،، الحمدللہ،، رمضان کے تیس روزے ہوئے اور شوال کے چھ نفلی روزے شامل کرنے کے بعد روزوں کی تعداد چھتیس (36) ہوجاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کریمانہ قانون،، الحسنۃ بعشر امثالھا،، (ایک نیکی کا ثواب دس گنا) کے مطابق چھتیس (36)کا دس گنا تین سو ساٹھ (360)ہو جاتا ہے اور سال کے تین سو ساٹھ (360)دن ہوتے ہیں پس جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ نفلی روزے رکھے وہ اس حساب سے تین سو ساٹھ (360)روزوں کے ثواب کا مستحق ہوگا اس طرح اجر و ثواب کے لحاظ یہ ایسا ہی ہوا جیسے کوئی بندہ سال کے تین سو ساٹھ (360)دن برابر روزے رکھے ۔
یہ مسئلہ جو عوام میں مشہور ہے کہ، ماہ شوال کے چھ نفلی روزے عید کے دوسرے دن سے رکھنا ضروری ہے بالکل غلط ہے۔  عید کے دوسرے دن روزہ رکھنا کوئی ضروری نہیں بلکہ عید کے مہینے میں جب بھی چھ روزے رکھ لئے جائیں خواہ لگاتار رکھے جائیں یا متفرق طور پر پورا ثواب مل جائے گا،  بلکہ بعض اہل علم نے تو عید کے دوسرے دن روزہ رکھنے کو مکروہ کہا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ مکروہ نہیں ہے دوسرے دن سے بھی روزہ رکھ سکتے ہیں ۔
وہ دن جن میں نفلی روزہ رکھنا منع ہے ۔
سال میں بعض مخصوص دن وہ بھی ہیں جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے، اور اللہ تعالیٰ حاکم مطلق ہے اس نے نماز کو عظیم عبادت بھی قرار دیا اور بعض خاص اوقات میں (مثلاً طلوع و غروب اور استواء کے وقت) نماز کی ممانعت بھی فرما دی۔  اسی طرح اس نے روزہ کو محبوب ترین عبادت اور روحانی ترقی کا خاص وسیلہ بھی قرار دیا اور بعض خاص دنوں میں روزہ رکھنا حرام بھی کر دیا یہ بات حاکم مطلق کی شان حاکمیت کے عین مطابق ہے اور ہم بندوں کا کام بس حکم کی تعمیل اور فرماں برداری ہے ۔
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا یوم الفطر کے روزے اور قربانی کے دن روزہ رکھنے سے  ۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا یوم الاضحٰی اور یوم الفطر میں روزہ رکھنے سے ۔ (صحیح مسلم)
ابو عبید مولیٰ ابن ازہر تابعی سے روایت ہے کہ میں نے عید کی نماز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں پڑھی انہوں نے نماز پڑھائی نماز سے فارغ ہو کر خطبہ دیا اس میں فرمایا کہ۔  عید کے یہ دونوں دن تو (پورے مہینے رمضان کے روزوں کے بعد) تمہارے فطر کا دن ہے اور دوسرا اپنی قربانیوں کے گوشت کھانے کا دن ہے ۔(صحیح مسلم)
نبیشۃ ھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایام تشریق (11 ،12 ،13 ،ذی الحجہ) کھانے پینے اور اللہ کی یاد کے دن ہیں ۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو ہریرہ، اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہم کی مندرجہ بالا حدیثوں میں یوم الفطر اور یوم النحر کے دنوں میں روزہ رکھنے کی صریح ممانعت فرمائی گئی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ارشاد میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یوم الفطر کا روزہ تو اس لئے منع ہے کہ اس کو اللہ تعالی نے رمضان کے بعد فطر کا دن یعنی روزہ رکھنے اور کھانے پینے کا دن قرار دیا ہے اسی لئے اس دن روزہ رکھنے میں منشاء الٰہی کی مخالفت ہے اور یوم النحر کا روزہ اس لئے منع ہے کہ وہ قربانی کا گوشت کھانے کا دن ہے گویا اللہ تعالی کی مرضی یہ ہے کہ اس دن جو قربانیاں اللہ تعالی کے لئے کی جائیں اس کے بندے ان قربانیوں کا گوشت اللہ تعالی کی طرف سے اور اس کی ضیافت سمجھ کر اور اس کے در کے فقیر بن کر شکر کے ساتھ کھائیں اور وہ بندہ بلاشبہ بڑا متکبر اور کافر نعمت ہے جو اللہ کے عام ضیافت کے دن دانستہ روزہ رکھ لے اور چونکہ ذی الحجہ کی گیارہویں اور بارہویں بھی قربانی کے دن ہیں اس لئے ان کا حکم بھی یہی ہے اور نبیشۃ ھذلی کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے ایام تشریق کو کھانے پینے کے یعنی اللہ تعالیٰ کی ضیافت کے دن فرمایا ہے جس میں 13 ذی الحجہ بھی شامل ہے اس لئے دس (10)ذی الحجہ سے تیرہ (13) ذی الحجہ تک پانچوں دن روزہ رکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے اب ان دنوں میں روزہ رکھنا عبادت نہیں بلکہ معصیت ہوگا