رفع نزاع باہمی وقت کی اہم ترین ضرورت: مولانا عارف الیاس ندوی میواتی

40

نوائے ملت نیوز میوات
مبارک میواتی آلی می

ہندوستانی مسلمان موجودہ وقت میں ایک ایسے دو راہے پر کھڑا ہے جہاں سے اس کے روشن اور تاریک مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال کسی سے مخفی نہیں ہے اور آئے دن نت نئے واقعات اور حادثات اس امر کو مزید واضح کر دیتے ہیں۔ اور اتنا واضح کر دیتے ہیں کہ وہ معاملہ تشریح طلب نہیں رہ جاتا، موجودہ صورتحال کا علم عوام اور خواص دونوں ہی کو ہو چکا ہے اور دونوں ہی آئے دن کبھی ذاتی طور پر اور کبھی دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے اس کا تجربہ کرتے رہتے ہیں۔ ہر زمانہ اپنے ساتھ تقاضوں اور چیلنجیز کی ایک طویل فہرست لیکر آتا ہے، اگر ایسے تقاضوں اور چیلنجیز کا مقابلہ کرکے ان کو ختم نہیں کیا جاتا تو ان کا مہیب سایہ ہمارے سروں پر اس وقت تک منڈلاتا رہتا ہے جب تک ہم ان کا مقابلہ کرکے ان کو ختم نہیں کر دیتے۔
زمانہ جس برق رفتاری سے ترقی کرکے آگے بڑھ رہا ہے انسان بھی مجبور ہو چکا ہے کہ اسی برق رفتاری سے اپنی منزل کی طرف گامزن ہو اور اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے۔ جو لوگ زمانہ اور حالات کے مطابق خود کو بدل کر وقت کے دھارے کے ساتھ چلنا شروع کر دیتے ہیں تو زمانہ ان کو ان کی منزل تک پہنچانے میں خود معین و مددگار بن جاتا ہے، اور جو لوگ اور قومیں ایسا نہیں کرتیں ان کا انجام بڑا بھیانک ہوتا ہے اور زمانہ خود ایسی اقوام کو اپنے پیروں تلے روند کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال نے مسلم قوم کو ایک ایسا موقع دیا ہے جہاں سے وہ اپنے روشن اور تاریک مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ آنے والے وقت میں جو چیلنجز پیش آئیں گے ان کا بہترین حل تلاش کرکے ان کا مقابلہ کیا جائے۔ ان سے نپٹنے کے لئے ہر طرح کی فکری، سیاسی اور انتظامی تدابیر اختیار کی جائیں۔ اپنے اندرونی اختلافات کو جتنا کم کیا جا سکے کم کیا جائے اور ایک مشترکہ فکری اور اتحادی سوچ کو پروان چڑھایا جائے، اور علاقائی سطح پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جہاں ہر قابل شخص کی صلاحیتوں کا بہتر سے بہتر استعمال کیا جاسکے۔ اپنے اپنے میدانوں میں ماہرین فن کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔
وقت آ گیا ہے کہ نسل نو کی تشکیل اور تعمیر کی خاطر ایک ایسا متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے جہاں ہر مسلک اور مکتبہ فکر سے منسلک افراد قوم و علاقہ کی خاطر اپنی خدمات پیش کر سکیں، ایک ایسا پلیٹ فارم ہو جہاں مسلکی اختلافات استفادہ اور افادہ کا ذریعہ ثابت ہوں، جہاں ہر مکتبہ فکر کے علماء اور دانشوروں کی ایک ایسی جماعت ہو جہاں مسلکی اختلافات کبھی بھی مسلکی منافرت کا روپ دھارن نہ کر سکیں۔ بلکہ یہی اختلافات استفادہ اور افادہ کی ایک نظیر بن کر قوم کے سامنے آئیں اور قومی و ملی تعمیر و ترقی ہر ایک کا مقصد اصلی اور اساسی بھی ہو، جہاں افضل اور اولی کے جھگڑے نہ ہوں، جہاں احساس برتری اور احساس کمتری نام کا فوبیا کبھی بھی نہ پنپنے پائے۔ جہاں افضل اور غیر افضل کی بحثوں کے لئے کوئئ جگہ نہ ہو۔ جہاں کسی ادارہ سے وابستہ حضرات کو صرف اس لئے مقدس یا غیر اہم نہ سمجھا جائے کہ ان کا تعلق فلاں ادارے سے ہے۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسے پلیٹ فارم کی تشکیل ہونی چاہئے جہاں صرف قومی و ملی تعمیر و ترقی سب کا ہدف اولین ہو، جہاں مسلکی اور فکری اختلافات کو ہوا نہ دی جائے، جہاں بیجا فتاویٰ کی بھرمار نہ ہو، جہاں عصری اداروں سے وابستہ اہل علم و دانش کی صلاحیتوں سے استفادہ کو عار نہ سمجھا جائے، تو آئیے علاقائی سطح پر اس کام کی ابتداء کی جائے اور اہل علم و دانش کے اس کارواں میں شمولیت اختیار کرکے اس کو مزید مستحکم کیا جائے۔
*نوٹ* : اگر آپ خود کو راہ راست پر گامزن اور دوسروں کو بھٹکا ہوا خیال کرتے ہیں تو یہ جگہ آپ کے لئے نہیں ہے۔
اگر آپ مسلکی اختلاف کو مسلکی منافرت میں تبدیل کرکے اپنی روٹیاں سیکنا چاہتے ہیں تو یہ جگہ آپ کے لئے بھی نہیں ہے۔
اگر آپ مدارس کے فضلاء کو اہم اور کالج و جامعات کے فارغین کو غیر اہم سمجھتے ہیں تو بھی یہ جگہ آپ کے لئے نہیں ہے۔
اگر آپ سب کو اہم اور سب کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کی وسعت اپنے اندر پاتے ہیں تو پھر آپ کا *استقبال* ہے