رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے

44

(ہاتھرس اجتماعی آبرو ریزی سانحہ اور ارباب اقتدار) تحریر: حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم بارہمولہ کشمیر

اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہرہے، وہ قند

کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند

جنسی استحصال فقط اسلام میں حرام نہیں بلکہ کائنات میں تمام موجودہ مذاہب و ادیان اسے جرم و معصیت تصور کرتے ہیں. عصر حاضر کے تمام ممالک میں جنسی درندگی کے خلاف ملکی سطح پر مختلف سخت قانون بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ فتنہ دن بہ دن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے.جاہل سے جاہل شخص بھی اس جرم کی نفرت دل میں رکھتا ہے .جب بچی کی ولادت ہوتی ہے تو روز اول سے ہی والدین اپنی بچی کی عفت و عصمت کے تحافظ لئے فکر مند ہوتے ہیں.عصر حاضر میں ہندوستان و دیگر ممالک میں صنف نازک کی حفاظت کے لئے مختلف قانون بنائے گئے مثلاً “بیٹی بچاؤ,بیٹی پڑھاؤ” وغیرہ.لیکن جو صورتحال ملک میں درپیش ہے اس سے ایسا واضح ہورہا ہے کہ ارباب اقتدار ہی قانون کی دھجیاں اڑانے میں مشغول ہیں.انسانیت کی علم بلند کرنے والے اسے اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے نظر آرہے ہیں.یہ بات قطعاً درست ہے کہ جس ملک میں اہل قانون ,قوانین پر عمل پیرا ہوں وہاں کی فضا کافی حد تک پاک ہوتی ہے.مملکت سعودی عرب میں کتنی ہی خامیاں ہوں لیکن یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ وہاں جرائم کی سطح قابو میں ہے.اسکے برعکس دیکھا جائے تو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں کس قدر اصحاب قانون ہی قانون کی کتاب کو ورق در ورق آتش زد کررہے ہیں.صنف نازک کی حفات مذہبی مسئلہ بھی ہے,سماجی مسئلہ بھی ہے اور سیاسی مسئلہ بھی.جب کسی قوم میں اس نجس گناہ کو فروغ ملے تو جان لینا چاہئے کہ اس قوم کے افراد مذہب و انسانیت کا جنازہ نکال چکے ہیں.ایک بات تو سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر ارباب اقتدار قوانین نافض کرنے میں یتیم ہے تو عوام الناس کو جھوٹے اور پرفریب خواب دکھا کر کیوں گمراہ کیا جارہا ہے.جمہوریت کا نظام تو عدل و انصاف پر مبنی تھا لیکن یہاں تو عدل کے دعوے دار ہی انصاف کا خون کرنے پر تلے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں.اہل انصاف اس بات کا فہم رکھتے ہیں کہ ملک کی صورتحال ہر سمت بکھری ہوئی ہے,معاشی بحران اپنے عروج پر ہے ,جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں,بے روزگاری کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے,جرائم کی تعداد میں حد سے تجاوز اضافہ ہورہا ہے.ملک کے مذدور اور کسان کھانے کے ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں لیکن حکومت وقت خواب خرگوش میں سوئی ہوئی ہے.

کچھ روز قبل جو دردناک منظر اتر پردیش میں پیش آیا اس سے کچھ باتیں واضح ہوگئی.اولاً تو یہ حقیقت کھل گئی کہ اس ملک میں صنف نازک کی حفاظت ناممکن ہے .ثانیاً حکومت جو وعدے الیکشن (election process) کے دوران عوام سے کرتی ہے وہ خیانت کے سوا کچھ نہیں ہوتا.ثالثاً ہمارے اس ملک میں جگہ جگہ ہر سمت درندوں اور وحشی جانوروں کا راج چل رہا ہے.حق کی صدا بلند کرنے والوں کی آواز کو پست کیا جاتا ہے.جس معاشرے میں صنف نازک پر اس قدر وحشیانہ حملے کئے جائیں اس ملک کی ترقی ناممن ہے.مسلسل کچھ سالوں سے اجتماعی جنسی درندگی کے واقعات سامنے آرہے ہیں مثلاً جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی آصفہ (Aasifa) ,آٹھ سالہ یہ معصوم کلی ۲۰١۸ (2018)میں آٹھ نجس درندوں کی شکار ہوگئی.جنسی استحصال کرکے اس معصوم بچی کو قتل کردیا گیا.اس سے قبل ۲۰١٣(2013) میں ممبئ شہر میں ایک صحافی (photo journalist) کے ساتھ یہی گھناؤنا فعل انجام دیا گیا.یہ واقعہ “shakti mills gang rape” کے نام سے اہل علم کی یاداشت میں ہے. اس سے قبل ۲۰١۲ (2012) میں دہلی جیسے مرکزی شہر میں ایسا جرم سرعام انجام دیا گیا.جسے اہل درد “The Nirbhaya gang rape and murder case” سے یاد کرتے ہیں.اور اب اس صف میں ایک اور دردناک داستاں شامل ہوئی جسے ” The Hathras gang rape case” کے نام سے یاد رکھا جائے گا.یہ واقعہ یوگی حکومت پر ایک طماچہ ہے.مذکورہ صاحب پہلے سے ہی متنازہ شخصیت کے کردار سے معترف ہیں.وجوہات مختلف ہیں…..کہیں مذہبی منافرت تو کہیں نسل پرستی,کہیں ذات پات تو کہیں عیاشی.نشانہ تو ہماری بیٹیاں ,ہماری بہنیں ہی بن رہی ہیں.تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کے وحشی درندوں نے غیر ملکی سیاحوں کو تک نہ بخشا.اہل علم جانتے ہوں گے کہ 2009 میں جب برطانیہ سے ایک خاتوں بحیثیت سیاح (tourist) بھارت میں وارد ہوئی تو جنسی استحصال کرکے اسکے جسم کو غرق آب کردیا گیا جسے تاریخ ”
Scarlett Keeling Rape and Murder”.
کے نام سے یاد کرتے ہیں.اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں تو ارباب اقتدار کا ساتھ مجرموں کے حق میں ہوتا ہے .

بیٹیاں پروردگار عالم کی رحمت ہے ,بیٹیاں اس گلشن کائنات کی مہک و چمک ہے,بیٹیاں سخاوت و ہمدردی کا سرچشمہ ہیں,بیٹیاں قوم و ملت کے وجود کی ضامن ہیں.صد افسوس کہ انسانیت پھر سے جاہلیت کی طرف جاتی ہوہی نظر آرہی ہے.دور جاہلیت میں بیٹی کی ولادت کو معیوب تصور کیا جاتا تھا اور مختلف طریقوں سے اسے زندہ ہی درگور کیا جاتا تھا.حقوق نسواں پامال ہورہے تھے.لیکن قربان جاؤں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ پر کہ جنہوں نے آدم کی بیٹی کو اک پہچان دی بلکہ حیات جاوداں دی.بیٹی کو جنت کی راہ اور جہنم کے مقابلے میں ڈھال قرار دیا گیا.بیٹی کو جگر کا ٹکڑا اور آنکھوں کا نور کہا گیا,بیٹی کو جنت کی حور کا خطاب دیا گیا,ملت کی بیٹیوں کو اعلی حقوق سے نوازا گیا.حقوق وراثت ,حقوق ملازمت,حقوق علم و طب وغیرہ سے نوازا گیا.اتنا ہی نہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوا کی بیٹی کے تحافظ کے لئے ایسا قانون تشکیل دیا کہ جس کا ثانی آپکو پوری روئے ارض پر نہیں ملے گا.یوگی حکومت کیا جانے بیٹیوں کی قدر…اہل دل جانتے ہیں کہ اللہ خالق کائنات نے اس عورت کو مختلف اعزاز سے نوازا اور مختلف رشتوں کا مکلف ٹھہرایا ,اور یہ عورت بھی ہر رشتے میں اپنی جان نچھاور کرتی ہوئی نظر آرہی ہے.جو درندے آج گلشن کی اس مہک کو لوٹنا چاہتے ہیں وہ بھی کسی ماں کے اولاد ہیں,وہ بھی کسی بیٹی کے سرپرست ہیں,وہ بھی کسی بہن کے بھائی ہیں ,وہ بھی کسی عورت کے شوہر ہیں ,الغرض ان کا پورا وجود ہی عورت سے وابستہ ہے لیکن پھر بھی اپنی عقل و فہم کو ذبح کرکے دوسروں کے چمن کو اجاڑنے پر تلے ہوئے ہیں.فرمان ربانی ہے کہ “اور جب زندہ در گور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی”.(التکویر) کائنات کا اصول ہے کہ سؤال مجرم سے کیا جاتا ہے لیکن یہ گناہ ,یہ جرم اسلام کی نظر میں اتنا قبیح ہے کہ اللہ عزوجل ان وحشی جانوروں سے کلام بھی نہیں فرمائے گا.یہ ان کے لئے ذلت کی انتہا ہوگی.فرمان باری تعالی ہے کہ “آسمانوں اور زمین کی سلطنت وبادشاہت صرف الله ہی کے لیے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے.”(الشورٰی) رب ذوالجلال نے مرد و عورت میں کوئی فرق نہ کی ,شرعی احکام دونوں پر نافض کردئے گئے،سزا و جزا دونوں کے لئے یکساں رکھا البتہ حقوق کے معاملے میں عورت کو واقعی ملکہ (Queen) کا منصب عطا کیا گیا.نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی چا ربیٹیاں تھیں, سیدہ فاطمہ ، سیدہ زینب, سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم۔ آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی چاروں بیٹیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی تین بیٹیوں کا انتقال آپ کی زندگی میں ہو گیا تھا، سیدہ فاطمہ کا انتقال آپ صلی الله علیہ وسلم کے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی چاروں بیٹیاں جنت البقیع میں مدفون ہیں۔حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم سیدہ فاطمہ کے ساتھ بہت ہی شفقت او رمحبت کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب سفر میں تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ سے ملتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے جاتے۔امام ترمذی رحمہ اللہ جامع ترمذی کے اندر نقل کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک قصہ منقول ہے، وہ فرماتی ہیں کہ” ایک خاتون میرے پاس آئی، جس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں تھیں، اس خاتون نے مجھ سے کچھ سوال کیا، اس وقت میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہیں تھا، وہ کھجور میں نے اس عورت کو دے دی، اس الله کی بندی نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور ایک ایک ٹکڑا دونوں بچیوں کے ہاتھ پر رکھ دیا، خود کچھ نہیں کھایا،حالاں کہ خود اسے بھی ضرورت تھی، اس کے بعد وہ خاتون بچیوں کو لے کر چلی گئی۔ تھوری دیر کے بعد نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے اس خاتون کے آنے اور ایک کھجور کے دوٹکرے کرکے بچیوں کو دینے کا پورا واقعہ سنایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس کو دو بچیوں کی پرورش کرنے کا موقع ملے اور وہ ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرے تو وہ بچیاں اس کو جہنم سے بچانے کے لیے آڑ بن جائیں گی۔”

بڑا درد ہوتا ہے جب یہ حقیقت ہمارے سامنے واضح ہوجاتی ہے کہ اب عدالتوں کے فیصلے بھی ارباب اقتدار کی خواہشات کے مطابق سنائے جاتے ہیں.عدالتیں اب عدالتیں نہ رہیں.بلا لحاظ مسلک و مذہب ,یہاں کسی مظلوم کو انصاف نہیں ملتا.یہاں پیسہ بات کرتا ہے,یہاں پیسہ فیصلہ کرتا ہے,یہاں عیاش اور گنڈے اعلی عہدوں پر فائز ہیں.اہل فکر اور اہل فن اپنے ہنر کا جنازہ نکانے پر مجبور ہیں.بابری مسجد کے معاملے میں جو فیصلہ سننے کو ملا وہ بھی اسی بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب انصاف میدان محشر میں ہی ہوگا.تاریخ گواہ ہے تڑپتی ماؤں کے آنسوں ضایع نہیں ہوتے.تڑپتے والد کی صدا کبھی نہیں دبتی.مظلوم کی آہ اور پروردگار عالم کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا.لیکن اس بات کو سمجھنے سے یہ لوگ قاصر ہیں.شاید کہ یہ کسی دردناک عذاب کے منتظر ہیں.اس نظام کائنات سے مجھے ایک گلہ ہے کہ ہر کوئی فرد یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ اصلاح معاشرے کے لئے عورت کا کردار نہایت ہی لازمی ہے.میں بھی اس سے اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ بات کہنے پر بھی مجبور ہوں کہ اس معاشرے کا استحصال جتنا مردوں نے کیا وہ قابل مذمت ہے.یہاں میری باپردہ بہنیں بھی بدنگاہی سے محفوظ نہیں.یہاں اہل دانش ہی حجاب و پردے کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں.یہ جذبات نہیں حقیقت ہے.اصحاب جہل سے کیا گلہ یہاں اہل دین بھی غفلت میں پڑے ہیں.تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری وصیتوں میں امت سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ “میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں”,آخری سانس لیتے وقت یہی الفاظ مبارک زبان پر تھے کہ “اپنی عورتوں کا خیال رکھنا”.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “لوگو! عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو وہ تمہاری زیر نگین ہیں تم نے ان کو اللہ کے عہد پر اپنی رفاقت میں لیا ہے اور ان کے جسموں کو اللہ ہی کے قانون کے تحت اپنے تصرف میں لیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تمھیں ناگوار ہے اگر ایسا کریں تو تم ان کو ہلکی مار مار سکتے ہو اور تم پر ان کو کھانا کھلانا اور پلانا فرض ہے”.(صحیح مسلم) نیز فرمایا کہ “مجھے دنیا کی چیزوں میں سے صالح عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے”.(سنن نسائی) مغربی تہذیب بھی عورت کوکچھ حقوق دیتی ہے,مگر عورت کی حیثیت سے نہیں, بلکہ یہ اس وقت اس کو عزت دیتی ہے، جب وہ ایک مصنوعی مرد بن کر ذمہ داریوں کابوجھ اٹھانے پر تیار ہوجائے؛ مگر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کالایا ہوا دین عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے اور وہی ذمہ داریاں اس پر عائد کی جو خودفطرت نے اس کے سپرد کی ہے.

میری باعزت بہنو! عصر حاضر میں آپکو اپنی حفاظت کا ذمہ خود اٹھانا ہوگا.یہاں رہبر ہی رحزن بن بیٹھے ہیں ,یہاں قانون کے رکھوالے ہی عصمتوں کے لٹیرے بن گئے ہیں,یہاں قوم کا محافظ ہی ڈاکہ زنی پہ اتر آیا ہے,یہاں انسانیت کا فقدان ہے,یہاں جذبات و احساست کو پیروں تلے روندا جاتا ہے.میری باحیا بہنو! پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اول تا آخر تمہاری حفاظت کا خیال رکھا ہے,وقت کا تقاضہ ہے کہ شرعی احکام پر عمل پیرا ہوکر اپنی ذات کو اور اس معاشرے کو برباد ہونے سے بچالیں …حجاب و پردے کا اہتمام کریں,غیر محرموں سے دوری بنائے رکھیں ,اپنے گفتار و کردار میں سختی لائیں تاکہ آپکی جانب اٹھنے والی نگاہیں ,شرم سے جھک جائیں,تعلیمی اداروں میں اختلاط سے اجتناب کریں.اللہ سے رشتہ مضبوط کرلیں,موبائل فون کا جائز استعمال کریں.اپنی شرم و حیا,عفت و عصمت کی حفاظت کی خاطر ہر ممکن قدم اٹھائیں.یہ بات بھی یاد رہے کہ موجودہ تعلیمی نظام بھی تمہارے لئے زہر ہے اسی لئے کافی محتاط رہیں,دینی مدارس سے اپنا تعلق مضبوط کرلیں,شرعی علم سے بھی خود کو آراستہ کرلیں,بقول اقبال رحمہ اللہ……

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازاں
کہتے ہیں اس علم کو اربابِ ہنر موت

بیگانہ رہے دین سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق ومحبت کے لیے علم وہنر موت

ارباب اقتدار ہوش کے ناخن لیں اور وقت رہتے خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں ورنہ حالت اور بھی بگڑ سکتی ہے.جس اسلام کو ہر لمحہ آتنگواد سے جوڑا جاتا ہے ,اس اسلام کا نظام عفت و عصمت کا مطالعہ کریں تاکہ تمہاری بصیرت لوٹ آئے.فرمان ربانی ہے کہ “اورتم بدکاری کے قریب بھی نہ پھٹکو بلاشبہ یہ ایک فحاشی اوربہت ہی برا راستہ ہے”.(الاسراء) دوسری جگہ فرمان ربانی ہے کہ ” بد کار مرد وعورت میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ ، ان پر اللہ تعالی کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوۓ تمہیں ہر گز ترس نہیں کھانا چاہیے اگرتم اللہ تعالی اورقیامت کےدن پر ایمان رکھتے ہو ، اوران کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے”.(سورہ نور) امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کے اندر فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نقل کیا ہے کہ ” شادی شدہ کا شادی شدہ کے ساتھ بدکاری کی سزا سوکوڑے اور سنگسار ہے”.یہ ایسا جرم ہے جس کی سزا صرف دنیا میں ہی نہيں بلکہ آخرت میں بھی بہت سخت اوردنیا سے بھی بھی زیادہ سزا ہوگی جس کاذکر احادیث میں بھی ملتا ہے.اللہ سے دعا گو ہوں کہ ملت کی بہنوں کی حفاظت فرمائے اور ہمیں شرعی احکام پر عمل پیرا ہوکر ان وحشی درندوں سے محفوظ رکھے…….آمین یا رب العالمین.

رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ آئینہ دل ہے مکدر

بڑھ جاتا ہے جب ذوقِ نظر اپنی حدوں سے
ہوجاتے ہیں افکار پراگندہ وابتر