رحمانی 30: تعلیم کے میدان میں کرنے کا ایک کام

146

امیر شریعت حضرت مولانا محمدولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم

_(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_ 

گیارہ سال پہلے ایک تعلیمی پودا لگایا گیا تھا،جس کا نام رحمانی ۳۰ہے، اب وہ تناوہ درخت بن چکا ہے، اور پہلے سال سے پھل دے رہا ہے، جب رحمانی ۳۰ کے تخیل کو زمین پر اتارا گیا، اس وقت کچھ لوگوں نے دلچسپی لی تھی، مگر نتیجہ کی طرف سے مطمئن نہیں تھے، یہ ایک تجربہ تھا، اور پہلے سال ہی جب دس کے دس طلبہ آئی آئی ٹی (انڈین انسٹی چیوٹ آف ٹکنا لوجی) کے انٹرنس ٹیسٹ (داخلہ امتحان) کے بہت مشکل ٹیسٹ میں کامیاب ہوئے تو رحمانی ۳۰ کا نام ملک بھر کے پڑھے لکھوں میں پہونچ گیا، میڈیا نے اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لیا، معتبر اخبارات،ہندو، انڈین اکسپریس، ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز نے بڑی اہمیت کے ساتھ پہلے صفحہ پر تفصیل کے ساتھ خبر چھاپی ، مضامین شائع کیے اور تعلیم کے اس نہج پر بڑی تحسین کی گئی۔مقامی ہندی اخبارات کے علاوہ اردو صحافت نے بھی اس عملی کوشش کی بڑی پذیرائی کی۔

آہستہ آہستہ یہ خدمت بڑھتی اور پھیلتی گئی، پہلے سال تو طلبہ کو تیاری کرنے کا موقعہ صرف آٹھ مہینہ ملا تھا، پھر تجربات ہوئے، طلبہ کی صلاحیت کا صحیح اندازہ ہونے لگا، تو یہ ترتیب بنائی گئی، کہ دسویں کلاس کے طلبہ کا ٹیسٹ لے کر رحمانی ۳۰ میں داخلہ ہوتا، دو سال بعد وہ بارہویں کا امتحان دینے کے ساتھ ہی ساتھ آئی آئی ٹی کے انٹرنس ٹیسٹ میں شریک ہوتے اور اکثر طلبہ اس مشکل ترین ٹیسٹ میںکامیاب ہوجاتے، یہ تجربہ اور طریقہ تعلیم طلبہ کو بھی پسند آیا، علم سے دلچسپی رکھنے والوں نے حیرت آمیز پسندیدگی کا اظہار کیا، اور اب رحمانی ۳۰ کے سنٹرس پٹنہ، جہان آباد(بہار) بنگلور، حیدرآباد، اور اورنگ آباد (مہاراشٹر) میں خاموشی کے ساتھ کام کررہے ہیں، اور بہترین رزلٹ دے رہے ہیں، اب آئی آئی ٹی کے انٹرنس ٹیسٹ کے علاوہ طلبہ نیٹ، (میڈیکل) سی اے (چارٹرڈ اکائونٹنٹ) این ڈی اے (نیشنل ڈیفنس اکیڈمی) کمپنی کے سکریٹری کے لیے بھی تیاری کررہے ہیں آئی آئی ٹی (انڈین انسٹی چیوٹ آف ٹکنالوجی) میں بھی داخل ہورہے ہیں، جو بچ جاتے ہیں وہ ٹرپل ای میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ جو کارواں دس طلبہ سے شروع ہوا تھا، اب آٹھ سو سے زیادہ طلبہ اور طالبات اس میں شریک ہیں، اور آگے بڑھتے جارہے ہیں۔اس سال رحمانی ۳۰ کی کامیابی کا فی صد اوسط بھارت کے تمام اداروں سے بہتر رہا ہے۔

مسلمانوں کے لیے تعلیمی میدان میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، اطمینان کی بات ہے کہ رحمانی ۳۰ کے تجربہ سے لوگوںنے تعلیم کے میدان میں بہت کچھ سیکھا، سونچا اور عملی اقدام کیا، آٹھ مسلم اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں رحمانی ۳۰ کے طرز پر طلبہ کی صلاحیت میں اضافہ اور تعلیمی ترقی کی اچھی خدمت انجام دے رہے ہیں، ایسے اداروں میں اضافہ کی بڑی ضرورت ہے، اور فکر مند اہل حضرات کو عزم وحوصلہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔تاکہ زیادہ بڑی تعداد میں ملت کے نونہال معیاری تعلیم حاصل کریں اور اعلیٰ تعلیم کی بلندیوں پر پہونچیں۔

*عام طور پرطلبہ کی بنیادی تعلیم کمزور ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کی بہت بڑی تعداد مقابلہ جاتی امتحان میں حصہ لینے کی ہمت نہیں کرتی،اور یہ حقیقت ہے کہ کمزور بنیادوں پربہت اونچی عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی، عام طور پر طلبہ بس کسی طرح امتحان میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں، مگر وہ اعلیٰ تعلیم میں نہیں چل پاتے ، اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ طلبہ کی ابتدائی تعلیم عمدہ ہو۔ان کی اچھی تربیت کی جائے اور انہیں اس لائق بنایا جائے کہ وہ اپنی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانوں میں علمی تیاری اور پورے حوصلہ کے ساتھ شریک ہوں، ان کے اندر کچھ کر گذرنے کا جذبہ اور آگے بڑھنے کی ہمت ہو*۔

 

*مسلمانوں کے لیے ایک بڑا ضروری کام ابتدائی تعلیم میں آگے بڑھنے اور اچھال دینے کا ہے، جو کام رحمانی ۳۰ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لئے کررہا ہے،ابتدائی تعلیم میں اگر طلبہ کی تعلیم پر پوری توجہ دی جائے خاص کر طلبہ کو پانچویں کلاس میں مسلسل ہوم ورک اور سوالات کے ذریعہ محنت کا عادی بنایا جائے، اور انمیں پانچویں جماعت کی اعلیٰ صلاحیت پیدا کی جائے، اور ہر طالب علم کی تعلیمی استعداد بڑھانے پر شروع سے پلاننگ کی جائے، تو بڑے اچھے اور کارآمدنتائج آسکتے ہیں۔

مرکزی حکومت نے ۱۹۸۵ء سے نواودے ودیالیہ شروع کیا ہے، اور پائلٹ پراجکٹ کے طور پر ہریانہ (جھجر)اور مہاراشٹر (امراوتی) میںیہ ودیالیہ شروع کیا گیا، اوراس وقت پورے بھارت میں ۵۱۸؍ اسکول چل رہے ہیں، یہ ملک کی عمدہ تعلیم گاہ ہے، جس میں چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک تعلیم ہوتی ہے، اورتعلیمی تربیت کا بہت مناسب اہتمام کیا جاتا ہے، اس میں داخلہ کے لئے ضلع کی بنیاد پر انٹرنس ٹیسٹ لیا جاتا ہے، ، جس میں پانچویں کلاس میں کامیاب ہونے والے طلبہ بیٹھتے ہیں، اور انٹرنس ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے نواُودے ودیالیہ میں داخل ہوتے ہیں، اس کی چھٹی جماعت میںکل اسی(۸۰) طلبہ اور طالبات کا داخلہ ہوتا ہے، اور عام طور پر بارہویں کلاس تک پڑھتے ہیں، ان اداروں میں تعلیم، رہائش،اسپورٹس اور کھانا کی ذمہ داری مرکزی حکومت کی ہے، یعنی عمدہ تعلیم اور خرچ کچھ نہیں____

*مسلمان طلبہ نواُودے ودیالیہ میں بہت کم پہونچتے ہیں، پہلی وجہ طلبہ میں واقفیت اور والدین میں دلچسپی کی کمی ہے اور دوسری وجہ انٹرنس ٹیسٹ میں ناکام ہونا بھی ہے، پڑھانے والے انٹرنس ٹیسٹ کے لیے طلبہ کو مناسب تیاری نہیں کراتے* ____نو اودے ودیالیہ میں مسلمان طلبہ کو پہونچانا تعلیم سے دلچسپی رکھنے والوں کی بڑی اہم ذمہ داری ہے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے بچوں میں بہت سے ہیرے جواہرات بکھرے ہوئے ہیں، انہیں چننا اور کام کا بنانا ہم سبھوں کی جوابدہی ہے، یہ کارواں آگے بڑھے تو یہ کل کو ہمارے سروں کا تاج ہوں گے، یہ بات شاید بہت سے لوگوں کے لیے بالکل نئی اورحیرت انگیز ہو کہ وزارت تعلیم (حکومت ہند) کی ایک رپورٹ کے مطابق اتر بھارت کے کئی صوبے کے مسلمان بچوں میں علم حاصل کرنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے، یہ رپورٹ ہمارے حوصلۂ اقدام کو بڑھاتی ہے۔اور کچھ بھلاکرنے کا پابند بناتی ہے۔

نئی نسل کی سرفرازی کے لیے تعلیم سے تعلق رکھنے والے فکر مند حضرات اگر عملی توجہ دیں تو یہ کام کا بہت سستا اور بیحد عمدہ میدان ہے، کہ اپنے بچوں کو نو اودے ودیالیہ میں پہونچایا جائے____یہ سچائی ہے کہ اب لوگوں نے تعلیم پر خرچ کرناشروع کردیا ہے، اور گائوں دیہات تک کے کچھ والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر اچھی خاصی رقم خرچ کرتے ہیں، بچوں کو شہروںمیں بھیجتے ہیں، اور وہاں کوچنگ کلاسز کے علاوہ رہنے اور کھانے کا خرچ دیتے ہیں،اور اس پر کم سے کم تیرہ چودہ ہزار روپئے مہینہ خرچ آتا ہے۔ *اگر والدین تھوڑی سی ہمت کرلیں اور بچوں کی ابتدائی تعلیم پر پوری توجہ دیں، تھوڑا خرچ کریں تو چھٹی جماعت سے لے کربارہویں جماعت تک تعلیم کا خرچ بچ سکتا ہے__ چھٹی سے بارہویں کلاس تک پڑھانے ، رہنے سہنے اور کھانے میں جو خرچ ہوتا ہے، اگر اس کادس فیصد پانچویں کلاس میں اچھی تعلیم اور کمپٹشن کی تیاری پر خرچ کیا جائے تو بڑے اچھے نتائج سامنے آسکتے ہیں، اور پانچویں کلاس کی معیاری تعلیم کے بعد بچے نو اودے ودیالیہ میں پہونچ سکتے اور مفت میں معیاری تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔*

 

*اس کے بعد ان طلبہ کو رحمانی ۳۰ یا اس جیسے ادارہ میں پہونچادیا جائے، جہاں نو اودے ودیالیہ کے کامیاب طلبہ اعلیٰ تعلیم کی راہ پر چلیں اور آئی آئی ٹی ، میڈیکل، این ڈے اے، سی اے وغیرہ کو منزل بنا کر تعلیم پر اور زیادہ محنت کریں اور پوری طاقت صرف کردیں، تو اونچی منزل کا سفر ہوسکتا ہے، اور بڑی کامیابی معمولی خرچ میں مل سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے موقعہ دیا تو اگلے تعلیمی سال سے رحمانی فائونڈیشن چار سنٹروں پر پانچویں کلاس کے طلبہ کو تیار کرائے گا، جسمیں طلبہ بھی ہوں گے اور طالبات بھی، یہ ایک تجرباتی مرحلہ ہوگا،دوسرے مقامات پر بھی فکر مند حضرات تجربہ کریں تو اچھے نتیجہ کا روشن امکان ہے!

_(مضمون نگار بانی رحمانی فائونڈیشن، بانی رحمانی ۳۰ ہیں)_

رحمانی فونڈیشن کے اس لنک پر کلک کیجیے اور اصل ویب سائٹ وزٹ کیجئے