ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراترحمانی 30کی شاندار کامیابی

رحمانی 30کی شاندار کامیابی

رحمانی 30 کی انجینئرنگ کے مقابلہ جاتی امتحانات میں شاندار کامیابی

کووڈ 19 کے باوجود JEE Main اور JEE Advanced میں نمایاں ریزلٹ

پٹنہ (13/ نومبر 2021) پریس ریلیز:

لاک ڈائون میں تعلیمی سرگرمیوںکے فقدان کے باوجود نامناسب ماحول میں رحمانی ۳۰ کے اساتذہ اور منتظمین کی انتھک محنت کی وجہ سے رحمانی ۳۰ کے طلبہ وطالبات نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے، اور تمام پریشانیوںکے باوجوداچھا رینک حاصل کیا ہے، اور ایک مثال قائم کی ہے، رحمانی ۳۰ کے طلبہ کی یہ نمایاں کامیابی بتاتی ہے کہ وسائل کی کمی اور مخالف حالات میں بھی اگر حوصلہ اورہمت سے کام لیا جائے اور اللہ پر بھروسہ کرکے محنت کی جائے ، تو بڑی کامیابی ملتی ہے، آلات وحالات کی دشواری کامیابی میں رکاوٹ نہیں بنا کرتی۔

رحمانی 30 کے طلبہ وطالبات نے انجینئرنگ میں انڈر گریجویٹ داخلے کی دنیا میں سب سے سخت گیر امتحان میں سے ایک JEE Advanced میں کووڈ کے باوجودایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔اس امتحان میں کل 134 طلبہ نے شرکت کی تھی،جس میں 68 طلبہ نے کامیابی حاصل کی جبکہ گذشتہ سال55 طلبہ کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ JEE Main میں کل 218 طلبہ نے شرکت کی تھی جس میں کل 185 طلبہ کامیاب ہوئے۔ JEE Main میں113 طلبہ 90 پرسنٹائل یا اس سے اوپر رہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی قابل تعریف کوالیفکیشن کے علاوہ طلبہ کے بہت اچھے رینکس بھی آئے ہیں. زوریز احمد نے JEE-ADVANCE مین 28 کٹیگری رینک حاصل کرتے ہوئے آل انڈیا 393 رینک حاصل کیا جبکہ اس نے جے ای ای مین میں کٹیگری رینک 67 اور آل انڈیا 712 رینک کے ساتھ کامیاب ہوا ہے، لڑکیوں میں منتشا فردوس نےاعلیٰ نمبر سے کامیابی حاصل کی ہے، اس کے علاوہ فزکس میں شہنواز حسین کیمسٹری میں ضیاء بلال، ریان سلیمان اور میتھ میں ریان سلیمان نے صد فیصد پرسنٹائل کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔امن احمد نے WBJEE کے انجینئرنگ میں کیٹیگری رینک 9 اور آل انڈیا رینک 720 اور فارمیسی میں کیٹیگری رینک 10 اور آل انڈیا رینک 751 حاصل کیا ہے.

آئی آئی ٹی یعنی انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ملک کا سب سے نمایاں اور ممتاز انجینئرنگ کا ادارہ ہے، اور یہ انسٹیٹیوٹ آف نیشنل امپورٹینس میں بھی سب سے نمایاں ہے. آئی این آئی کیٹیگری ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ قائم کی گئی تھی تاکہ ہندوستانی جدت کی مسلسل کامیابی کے لئے ضروری تعلیمی تنظیموں کو شناخت اور خصوصی فنڈ فراہم کیا جاسکے۔ مذکورہ بالا مقابلہ جاتی امتحان کے ذریعہ آئی این آئی میں جاکر طلباء اعلی درجے کی تعلیم، مناسب تحقیقی سہولیات اور بین الاقوامی تحقیقی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ آئی این آئی میں تعلیم عملی طور پر مفت یا انتہائی سبسڈی پر ہوتی ہے۔

COVID-19 کے اس عالمی وبا کے دوران ان بہترین نتائج سے رحمانی پروگرام آف ایکسیلنس (رحمانی 30) کی پوری ٹیم ہمت افزا اور مطمئن ہے. سال در سال دو دو لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح ملکی پیمانہ پر تعلیمی سرگرمی بھی بری طرح متأثر ہوئی۔ سارے طلبہ وطالبات سینٹر سے دو دو بار گھر روانہ کر دیے گئے۔ لیکن رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کے ذمہ داروں نے دونوں لاک ڈاؤن میں آن لائن کلاسیز اور ٹیسٹ کا نظام جاری رکھا، اور اس کا اہتمام کیا کہ ہر بچے کے پاس ایک انٹرنیٹ ڈیوائس ہو جس کے ذریعے وہ اپنی کلاس کرسکیں، کلاس کی رپورٹ لکھ سکیں اور امتحان دے سکیں. طلبہ کے ساتھ صبح وشام بے پناہ محنت کی گئی. حالاں کہ طلبہ کی کارکردگی اور بہتر ہوتی اگر وسائل کی کمی جیسے کہ کمپیوٹر، مستحکم انٹرنیٹ، بجلی کی موجودگی، وغیرہ کا اور بہتر نظام ہوتا۔

رحمانی پروگرام آف اکسلنس ملک کے کئی شہروں میں کام کر رہا ہے جیسے پٹنہ، جہان آباد (بہار) اورنگ آباد، خلد آباد (مہاراشٹر)، حیدرآباد اور بنگلور میں متعدد میڈیکل و انجینئرنگ سینٹر پوری محنت کے ساتھ مسلم مائنوریٹی طلبہ وطالبات کے مستقبل کو سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سینٹرز میں ملک کے مختلف صوبوں کے علاوہ بیرون ملک کے این آر آئی طلبہ وطالبات بھی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کی نگرانی میں کر رہے ہیں، یقینا خلیج کے ملکوں میں رہنے والے ہمارے ملک کے باشندگان بھی اب اس بات کو محسوس کر رہے ہیںکہ رحمانی پروگرام آف اکسلنس مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔

رحمانی پروگرام آف اکسلنس (رحمانی 30) اپنی سرپرست تنظیم رحمانی فاؤنڈیشن کے ساتھ بہت مؤثر انداز میں کمیونٹی کی تعلیمی نا امیدی کو امید اور یقین میں بدل رہا ہے، ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ اپنے سیکھنے کے طریقہ کار کو مؤثر بنا رہا ہے۔ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سرپرست رحمانی 30 نے کہا کہ یقیناً یہ سب مفکر اسلام امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی علیہ الرحمہ (بانی رحمانی 30) کی دعاؤں کی قبولیت اور مسلم طلبہ و طالبات کے لیے دیکھے گئے خواب کی تعبیر ہے۔ جناب فہد رحمانی (سی ای او رحمانی 30) نے کہا کہ یقینا یہ کامیابی جناب ابھیانند جی سابق ڈی جی پی بہار کی انتھک محنت و رہنمائی، سینئر لیڈر شپ، فیکلٹی، مینجمنٹ ودیگر عملہ کے ساتھ طلبہ اور ان کے گارجین کے درمیان مقصد کی شناسائی اور باہمی تعاون ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم سب کا باہمی تعاون نہ ہو تو ایسی تاریخ ساز کامیابی کا حصول ہرگز ممکن نہیں۔فہد صاحب نے والد بزرگوار حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کو اس موقعہ پر یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقعہ پر اس سال کے رزلٹ سے مایوس ہوگیا تھا، والد صاحب ؒ نے مجھے حوصلہ دیا ، ان کی باتوں سے ہی حوصلہ پاکر جو ٹوٹے پھوٹے وسائل تھے، ان کے ساتھ کام شروع کیا، اور اللہ نے یہ کامیابی دی، جس پر آج ماہرین کو حیرانی ہورہی ہے، انہوںنے کہا کہ رحمانی ۳۰ انشاء اللہ آگے اس سے اور بہتر کرے گا، اور اپنے پچھلے ریکارڈ کو توڑے گا۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے