بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراترحمانی مکتب ڈومریا کاسالانہ انعامی وثقافتی پروگرام اختتام پذیر

رحمانی مکتب ڈومریا کاسالانہ انعامی وثقافتی پروگرام اختتام پذیر

تعلیم کے بغیر سماج کی ترقی ممکن نہیں ہے:مولانا جمیل احمدمظاہری
رحمانی مکتب ڈومریا کاسالانہ انعامی وثقافتی پروگرام اختتام پذیر
جناب مولانا حبیب الرحمن صاحب قاسمی،مفتی خالدانورپورنوی،مولانا محمود قاسمی،حضرت مولانا حسیب صاحب رحمانی ودیگر علماء کرام کااہم خطاب
پریس ریلیز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل دنیامیں ہر طرح کی برائیاں موجود تھیں،مگر جب اسلام آیا تو اللہ کی طرف سے سب سے پہلا پیغام اترا کہ پڑھو،یعنی اسلام نے علم کے حصول کو لازم اور ضروری قراردیا،رحمانی مکتب ڈومریا ارریہ کے سالانہ انعامی وثقافتی پروگرام سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے جناب مولانا جمیل احمدمظاہری صاحب استاذحدیث جامعہ رحمانی خانقاہ رحمانی مونگیر نے یہ باتیں کہیں،انہوں نے کہا:مکتب کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتاہے،یہاں پر قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہوتی ہے،اس کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صفہ سے ہے،خانقاہ رحمانی مونگیر کے استاذ حدیث نے لوگوں کو للکارابھی کہ وہ ہرحالت ان مکتبوں اور مدرسوں کے تحفظ کاسامان فراہم کریں،اس کے بغیر ہماراتحفظ ممکن نہیں ہے_واضح رہے کہ رحمانی مکتب حضرت مولانامحمدعلی مونگیری ؒ کی یادگارمیں مسلمانوں کی کثیر آبادی پر مشتمل ڈومریا(ارریہ) میں قائم کیاگیاہے، حضرت مولاناحبیب الرحمن صاحب قاسمی استاذ مدرسہ انوارالعلوم اسلام پور،پورنیہ کی صحیح فکر،اور جدوجہد کانتیجہ ہے،اس کی نگرانی جناب مولاناارشد صاحب القاسمی،اس کے اساتذہ کرام میں بالخصوص مولوی اطہر حبیب قاسمی وحافظ عبدالباسط اور ماسڑ محمد عاقل راہی کی محنت ولگن کی وجہ سے بہت ہی کم وقت میں تعلیمی اعتبارسے اپناایک نمایاں مقام حاصل کیاہے،اس وقت دوسوسے زائدطلبہ وطالبات علمی پیاس بجھارہی ہیں،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ،عصری تعلیم کابھی یہاں معقول انتظام ہے_سالانہ امتحانات کے بعد رحمانی مکتب کی جانب سے،جناب مولانا حبیب الرحمن صاحب قاسمی استاذ مدرسہ انوارالعلوم اسلام پور پورنیہ کی سرپرستی میں،انعامی وثقافتی پروگرام کاانعقاد عمل میں آیا،جس کی صدارت جناب مولانا جمیل احمدمظاہری استاذ حدیث جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر نے فرمائی،قرآن کریم کی تلاوت اور نعت نبی کے بعد رحمانی مکتب میں تعلیم حاصل کررہے بچے اور بچیوں نے ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا،ان کے والدین اور حاضرین،بالخصوص علماء نے خوشی اور مسرت کااظہار کیا،اور مکتب کی سالانہ کارکردگی کی خوب تعریف کی،مہمان خصوصی جناب مفتی خالدانورپورنوی المظاہری جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار نے بھی اس موقع پر اہم خطاب فرمایا،اپنے خطاب کاآغاز کرتے ہوئے غزوہ تبوک کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا:جو بھی مومن مخلص ہوتے ہیں،حالات اور مسائل بھی انہی کے ساتھ پیش آتے ہیں،ایسے میں ہمیں گھبرانا نہیں یے،بلکہ چیلنجوں کامقابل کرتے ہوئے آگے بڑھناہے،ایمان پر استقامت کس طرح حاصل ہو اس پر بھی انہوں نے تفصیلی گفتگو فرمائی،اجلاس کی سرپرستی کررہے جناب مولانا حبیب الرحمن صاحب قاسمی نے رحمانی مکتب اور اس کے اغراض ومقاصد کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے عوام وخواص کی توجہ اس جانب مبذول کراوئی کہ علم کے بغیر نہ ہم کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ ہماراسماج ترقی یافتہ ہوسکتاہے_جناب مولانا محمود صاحب نے مختصر خطاب فرمایا_خطاب کے بعد اول،دوم،سوم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے بیچ انعامات کی تقسیم بھی عمل میں آئی،درجہ ناظرہ میں مہجبیں بن مکو صاحب اول پوزیشن،
روحی گلاب بنت جناب نوشاد صاحب دوم پوزیشن،ناصیہ بنت محمد عاشق صاحب سوم پوزیشن، تشجیعی انعام پانے والوں میں سے ابوطالب ابن شمیم صاحب ۔ منہاج ابن نسیم صاحب، روبی بنت مشتاق صاحب،پاکیزہ بنت محمد کفیل صاحب، درجہ ناظرہ واطفال میں شان محمد ابن فروز صاحب اول پوزیشن ۔۔ صالحہ بنت محمد اسلم صاحب دوم پوزیشن روشنی بنت شمشاد صاحب سوم پوزیشن تشجیعی انعام میں
درجہ اطفال الف میں رحمت اللہ ابن شفیع الدین صاحب اول پو زیشن ۔عبدالمنان ابن علی اکبر صاحب دوم پوزیشن ۔محمد مبارک ابن محرم علی صاحب سوم پوزیشن
کاشانہ حبیب رحمانی مکتب میں حنابنت عبدالغفار صاحب اول پوزیشن ابونصر ابن محمد تنویر صاحب دوم پوزیشن ۔ فرحانہ بنت محمد اشتیاق صاحب سوم پوزیشن پچوں میں تین بچیاں نساء بنت حافظ نسیم الدین صاحب ۔زینب بنت عقیل الرحمان صاحب تشجیعی انعام پائی۔
جناب مولانا ارشد حبیب قاسمی اور مولانا اطہر حبیب نے نظامت کافریضہ انجام دیا،جناب مولانا جمیل احمد صاحب کی دعاء پراجلاس اختتام پذیر ہوا_

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے