“رجب” کے آنگن سے

74

“رجب” کے آنگن سے
شاہد عادل قاسمی ارریہ
“رجب”مشتق ہے ترجیب سے جسے تعظیم وتکریم کے معنی سے یاد کیا جاتا ہے ،آفرینش جہاں سے خالقِ کائنات نے کل بارہ مہینے بنائے ہیں جن میں خود چار ماہ(ذیقعدہ/ذوالحجہ/محرم الحرام/رجب المرجب) کو رب دوجہان نے اپنی زبان میں “اشہرحرم”کہا ہے ان میں ایک ماہ” رجب “کا بھی ہے ،جو آج ہم پر سایہ فگن ہے،جس ماہ کے آنگن سے کچھ خوشبو ہم لیکر حاضر خدمت ہیں
ان عدتہ الشہور عنداللہ اثناعشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منہا اربعتہ حرم ذلک الدّین القیم فلا تظلمو فیھن انفسکم(سورہ توبہ)
آیت بالا میں” منہا اربعتہ حرم”کی تفسیر میں مشہور مفسر قرآن مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ علیہ نے معارف القران میں لکھا ہے کہ “ان کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا ہے ایک تو اس لیے کہ اس میں قتل وقتال حرام ہے اور دوسرا اس لئے کہ یہ مہینیے متبرک اور واجب الاحترام ہیں ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے ان میں پہلا حکم تو شریعت اسلام میں منسوخ ہوگیا دوسرا حکم (ادب واحترام)اور ان میں عبادت گزاری کا اہتمام اسلام میں ابھی باقی ہے”
ماہ رجب کی اہمیت قبل ازظہور اسلام بھی رہی ہے اور زمانہ اسلام میں بھی اس کا اہتمام رہا ہے،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان
رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرما اور رمضان تک ہم کو پہنچا
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے –
رجب کو کھیتی بونے ،شعبان کو پانی سینچنے اور رمضان کو کھیتی کاٹنے کا مہینہ کہا گیا ہے، جو بویاجائیگا وہی کا ٹا جائے گا
آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان فی الجنتہ قصرا لا يدخلہ الا صوام رجب
جنت میں ایک محل ہے جس میں رجب کے روزے داروں کے علاوہ کوئی نہیں جائے گا
یقینا رجب کامہینہ اشہر حرم میں شامل ہے، اس کے فضائل سےانکاربھی نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ ضعیف اور موضوع روایات کے ذریعہ اس میں مبالغہ آرائی سے کام بھی لیا گیا ہے اور دین میں ایک نئی چیز اور بدعت کو رواج دیا گیا ہے جس کو درست نھیں کہا جاسکتا ،
27ویں شب کاروزہ، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے معراج کا سفر اور کونڈا وغیرہ کا اہتمام اسی ماہ میں کرنا کہیں سے بھی ثابت نہیں ہے ، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے 27ویں کے روزے کی کوئی فضیلت بتائی ہے اور نہ ہی اس شب کی کسی نفلی عبادات کی، بلکہ صحابہ اور تابعین نے بھی اس قسم کی کوئی عبادت کی فضیلت نہیں بتائی ہے، اصحاب سیر لکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب لوگ اس تاریخ میں روزہ رکھنے لگے تو آپ گھر سے نکل پڑے اور ایک ایک فرد سے کہنے لگے کہ ” تم میرے سامنے کھانا کھاؤ اور اس بات کی ثبوت
دو کہ تمہارا روزہ نہیں ہے “لوگوں کے اس اہتمام کو دیکھ کر آپ نے بدعت کی سد باب کے لیے یہ قدم اٹھایا تاکہ لوگوں کے دلوں میں یہ خیال نہ جم جائے کہ آج کاروزہ زیادہ فضیلت والا ہے
فتاویٰ محمودیہ میں حضرت مفتی محمود الحسن گنگوھی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ 27ویں شب کے روزے سے متعلق جو حدیثیں ہیں محدثین کے نزدیک وہ روایات درجہ۶ صحت کو نہیں پہنچتی ہیں, بعض تو ضعیف ہیں بعض موضوع ہیں،
ستائیسویں شب سےمتعلق روزے کی حقیقت پر حافظ ابن حجر عسقلانی نے ایک مستقل کتاب لکھ دی ہے،
اسی طرح آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے سفرکو اسی ستائیسویں شب میں کہنا بھی درست نہیں ،اصحاب سیر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے سفرکی تعیین تاریخ کو مختلف گردانا ہے، بعض مورخین نے معراج کے سفر کو ،،ربیع الاول میں کہا ہے تو بعض نے دیگر کسی ماہ کا ذکر کیا ہے گرچہ راجح قول رجب کا ہی ہے ،
ایک بات تو ذہن نشین کرلیں کہ خواہ شب معراج کا واقعہ کبھی بھی پیش آیا ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی فضیلت نہیں بتائی ہے اور نہ ہی شب معراج کو شب قدر جیسی فضیلت والی رات بتائی گئی ہے، اس لیے اس رات میں کسی طرح کے نوافل عبادت کو افضل اور خاص سمجھ کرکرنا درست نہیں،
البتہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے کہ اشہر حرم کی وجہ سے اس ماہ میں روزہ رکھنا مندوب ہے کسی دن کو مختص کرکے روزہ رکھنا ضروری نہیں البتہ حصول خیراوراستحبابی عمل ضرور ہے ،
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رجب کے تین دنوں(جمعرات جمعہ سنیچر)کو جو روزہ رکھے گا تو اللہ اس کے لیے نو سو برس کے ثواب لکھ دیتے ہیں،
تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعت اس بات پر متفق ہے کہ ان چار حرمت والوں مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہوجاتا ہے اور ان میں کوئی گناہ کرے تو اس کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہوتا ہے ،اچھے یا برے دنوں کی شرعی حیثیت بھی یہی ہے کہ اسلام نے خیر و شر کے واقعات کو ایّام کے معیار فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ کسی مصیبت کے آجانے پر زمانے کو کوسنے اور مورد الزام ٹھہرانے سے منع بھی کیا ہے قرآن کہتا ہے ومايهلکنا الی الدھر (الجاثیۃ)
رجب المرجب کا مہینہ بہت تیزی سے جارہا ہے اللہ ہمیں ان کے برکتوں سے متصف کرے اور مشیت ایزدی پر گامزن کرے