ربیع الاول اور عید میلادالنبی کی فضیلت

72

از۔محمدقمرانجم فیضی

یقیناََ خالق کائنات عزوجل نے ہم کو بہت سی نعمتیں انعام واکرام اور وافر برکتوں سے نوازا ہے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ لازم وضروری کیا ہے کہ ہم ان نعمتوں ہو اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس نعمت کے ملنے پر خوشی اور مسرت وشادمانی کا بر ملا اظہار کیں، اس پاک پرور دگار عالم جا شکر بجالائیں، ان تمام نعمتوں میں سب سے افضل واعلی نعمت بلکہ تمام نعمتوں کی اصل وبنیاد سرکار دوعالم، رحمت عالم، نور مجسم، حضور سرکار مدینہ محمدعربی روح فدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات با برکات ہےجن کی ولادت باسعادت ماہ ربیع الاول شریف کی بارہویں تاریخ کو ہوئی اسی لئے ماہ ربیع النور شریف کے آتے ہی تمام عالم اسلام کے اہل ایمان کے قلوب میلاد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیوں سے جھوم اٹھتے ہیں،

[نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول،

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں]

ربیع الاول کی وجہ تسمیہ۔اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول شریف ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتدائے میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا، یہ مہینہ فیوض وبرکات کے اعتبار سے بہت ہی افضل واعلی ہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں باعث تخلیق کائنات فخر موجودات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا، 12 ربیع الاول شریف بروز پیر مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی،

اس لئے تمام اہل ایمان اس ماہ مبارک کے آتے ہی خوشیوں سے جھوم جاتے ہیں، ہر طرف مسرت وشادمانی کا پرکیف سماں بندھ جاتاہے، اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت تاریخ انسانی کا سب سے بڑا واقعہ اور دُکھی وبےسہارا انسانیت کے لئے فرحت ومسرت کا سب سے بڑا

سامان یے، نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل وکرم، سب سے بڑا احسان، سب سے بڑی نعمت، اور تمام جہان والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت ہے،

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(یقیناً اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر سب سے بڑا احسان ہوا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھتے ہیں انہیں پاک کرتے ہیں، انہیں کتاب وحکمت سکھاتے ہیں اور اس سے پہلے وہ لوگ ضرور کھلی گمراہی میں تھے)

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نبئی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات کو واضح طور پر اپنا فضل واحسان قرار دیا ہے، لہذا یہ بات روز روشن کی طرح عیاں اور بیاں ہوگئ کی نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت، سب سے بڑا فضل، سب سے بڑا احسان اور تمام جہان کے لئے رحمت بن کر ہمارے درمیان تشریف لائے تو ہمیں چاہیے کہ اس عظیم الشان نعمت کے ملنے پر خوب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں،

محقق زمانہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا بارہ ربیع الاول کے دن میلاد منانا اور فیوض و برکات کا نازل ہونا ۔حضرت [شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ “میں نے بارہ ربیع الاول کے دن قدیم دستور کے مطابق قرآن مجید کی تلاوت کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیاز تقسیم کی اور موئے مبارک کی زیارت کی درمیان تلاوت ملاء اعلی [آسمانی مخلوقات] حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پر فتوح نے فقیر اور فقیر کے دوستوں کی طرف انتہائی توجہ فرمائی ، اس وقت میں نے ملاء اعلی اور مسلمانوں کی جماعت کو ایک ایسے دائرہ کی شکل میں دیکھا کہ جن کے ناز و نیاز اوپر کی طرف جارہے ہیں اور برکات و نفحات اوپر سے ان پرفضیلت

ہورہے ہیں ثم و ثم.[القول الجلی،ص74]

بخاری شریف کی حدیث مبارکہ میں ایک صحابی بیان فرماتے ہیں:کہ ایک رات نبوت ورسالت کے آفتاب و مہتاب ، انبیا مرسلین کے تاجدار ، مجسم ِ رحمت ، شافع محشر ، فخردوعالم نورِ مجسم ، سید ابرار شاہِ دو عالم حضرت محمد ؓ رونق افروز تھے کہ میں آپ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آسمان پر چودھویں کا چاند روشن تھا۔ کبھی میں آسمان پر چاند کو دیکھتا ہوں کبھی زمین پر آپ سرکار ؓ کا روشن چہرہ مبارک کبھی میں چاند کو کبھی آپ ؓ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا ہوں خدا کی قسم آپ ؓکا چہرہ مبارک چاند سے زیادہ روشن اور چمکدار تھا اِسی طرح ایک دن فرشتوں کا سردار جبرائیل امین آپ ؓ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے یا رسول اللہ ؓ میں نے حضرت آدم سے لے کر آپ ؓ تک تمام انبیا اکرام کو دیکھا ہے میں نے حضرت یوسف کو بھی دیکھا عرش پر اور فرش پر ایک بھی چہرہ آپ ؓ کے چہرہ مبارک سے زیادہ حسین اور روشن نہیں دیکھا آپ ؓ سب سے خوبصورت اور روشن ہیں آپ ؓ جیسا کوئی نہیں ہے بلا شبہ خالقِ کائنات نے سب سے پہلے بلواسطہ اپنے حبیب محمد ﷺ کا نور پیدا کیا پھر اِسی نور کو خلقِ عالم کا واسطہ ٹھہرایا۔

بارہویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا۔

بارہ برجوں سے جھکا اک اک ستارہ نور کا۔

جب اس ماہ مبارک کےچاند کی بارہ تاریخ آتی ہے تو ربیع الاول کی 12 تاریخ کی خوشی میں چاند سجدہ کرتا ہے بلکہ عالم فلک کے بارہ برجوں کا ایک ایک ستارہ سر بسجود ہوتا ہے۔ اور یہ سب آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں نیاز مندی و عقیدت مندی و عاجزی بجا لاتے ہیں،

جہاں ایک طرف ربیع الاول شریف کی آمد پر مبارکبادیاں دی جا رہی ہیں وہیں میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے عجیب عجیب طرح کے بے تکے اعتراضات اور فضول میسیجز کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں، ہر سال ہی میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پر مسرت موقع پر اس طوفان بے ہودگی و بدتمیزی کو پھیلانے کے بھرپور کوششیں کی جاتی ہیں۔ میرا نہایت ہی مخلصانہ اور دردمندانہ مشورہ ہے کہ اپنا قیمتی وقت اور توانائی کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ بحث و مباحثہ میں برباد نہ کرنا جسے میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے چِڑھ ہے

محبت محض سکھائی نہیں جا سکتی۔ یہ تو ایک تحفہ ہے، ایک سعادت ہے، جو صرف نصیب والوں ہی کا حصہ ہے۔ افسوس ہے اس شخص پر جس کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔ بہرحال مجھے اور آپ کو چاہیے کہ میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراضات یا ایسے کسی بھی میسیج پر کان نہ دھریں اور اخلاص کے ساتھ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے جشن میلاد النبی ﷺ کی تیاریوں میں مصروف رہیں۔

قارئین کرام یقین جانو! ہم پر کسی بھی بے سر و پا اعتراض کا جواب دینے کی کوئی پابندی نہیں۔ ہاں، ضرورت ہے تو اپنے عقائد و معمولات کی مکمل جانکاری کی۔ اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اپنا رابطہ مستند و معتمد علمائے اہلسنت سے مضبوط تر بنائیں، ان کی صحبت میں بیٹھیں، ان کی کتب کا مطالعہ کریں اور ان کے ایمان افروز بیانات بغور سنتے رہیں۔کیا ہم ذکرِ رسول ، ان بد مذہبوں سے پوچھ کریں گے جو کبھی جشنِ افتتاحِ و اختتامِ بخاری

تو کبھی جشنِ پاکستان تو کبھی اپنے نومولود کا جشنِ ولادت مناتے ہیں؟ان بد مذاہب کے کان اس وقت کھڑے ہوتے ہیں جب اس کائنات عظیم ترین ہستی کا ” جشنِ ولادت ” دائرہ شریعت میں رہ کر منایا جاتا ہے، جن بے ادبوں نے اس

میں خرافات شامل کیں وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں

مگر فی نفسہٖ جشنِ ولادت منانے کی اصل شرع میں

موجود ہے،امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی جامع میں ایک باب باندھاباب ما جا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

اور میلاد کا معنی یہ ہے کہ جس میں ولادت کے واقعات

و اذکار بیان کئے جائیں ،سیدھی و سچی بات ہے اس سے کس کافر کو انکار ہوگا؟اب رہ گیا مروجہ طریقہ سے میلاد منانا تو یہ بھی جائز و مستحب ہے

ہلڑ بازی، اختلاطِ مردو زن، شور شرابہ،نمازیں قضا کرنا،

سائلنسر نکال کر بائکس و کاروں کا دوڑانا، و دیگر افعال

ویسے بھی ناجائز، حرام، فسق ، فجور ہیں،

اس سے اہلسنت و جماعت بری ہیں ، یہ جہال نے اس میں

داخل کردیا جس سے نفسِ میلاد ناجائز و بدعت نہیں

بن جاتا ، جیسے کوئی مسجد الحرام میں زنا ، چوری،بد نگاہی کرےتو اس وجہ سے مسجد کو بند نہیں کیا جائے گا بلکہ ان افعالِ قبیحہ و شنعیہ کو بند کیا جائے گا،

اسی طرح ہم کہتے ہیں ان میں ناجائز امور کو روکا جائے

نہ کہ شیطان کے کہے میں آکر عید میلاد کو بند کیا یا روکا جائےبہت عام و سادہ فہم بات ہے، اللہ سمجھ دے،

حضور سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سرور کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان و عظمت اور بارگاہ خداوندی میں آپ کے علو مرتبت کا تذکرہ کرتےہوئے حضرت سیدی شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی کے حوالہ سے رقم طراز ہیں :

“اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنی صفات مدح سے عرش پر استوا بیان فرمایا تو اس نے اپنے حبیب ﷺ کو بھی اس صفت استوا علی العرش کے پرتو سے مدح ومنقبت بخشی” ۔ ﴿فتاوی رضویه ، ٤١٠/۱۸﴾

فرش والے تِری شوکت کا عُلو کیا جانیں

خُسروا عرش پہ اُڑتا ہے پَھریرا تیرا۔میں تو مالِک ہی کہوں گاکہ ہو مالِک کے حبیب۔یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا