رافیل سودے میں بدعنوانی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے جانچ کرائی جائے۔ ایس ڈی پی آئی

35
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ رافیل سودے میں بدعنوانی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے ذریعے جانچ کرانے کی ضرورت ہے۔ بھارت اور فرانس کے مابین رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے میں دونوں فریقوں پر ایک بار پھر بدعنوانی کے الزام نے طول پکڑ لیا ہے۔ ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت اس بدعنوانی کو قومی سلامتی کی آڑ میں چھپا نہیں سکتی ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ فرانس کے نیشنل فنانشیئل پروسیکیوٹرز آفس(پی این ایف) نے بدعنوانی کے شبہات پر بھارت کو رافیل لڑاکا طیاروں کی متنازعہ ملٹی ملین ارب ڈالر کی فروخت کی تحقیقات کیلئے ایک جج مقرر کیا ہے۔ اس سودے میں ہوئی بہت بڑی بدعنوانی کا پتہ ہر کوئی آسانی سے کرسکتا ہے۔ ڈاسالٹ ایوایشن نے 36لڑاکا طیاروں کو غیر تجربہ کار ریلائنس گروپ کے توسط سے526کروڑ کی بجائے 1670کروڑ روپئے کی قیمت میں خریداری کا معاہدہ بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ مودی حکومت نے ابھی تک اس معاملے میں ملک کے عوام کو جواب نہیں دیا ہے کہ اس نے کیوں جنگی طیاروں کو ہر ایک طیارے پر 1144کروڑ روپئے اضافی قیمت سے خریدا جو 44ہزار کروڑ کی اضافی رقم ہے۔ مودی حکومت  کے پاس ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں ہے کہ اس نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ(ایچ اے ایل) کو خریدار کے طور پر کیوں منسوخ کیا ہے اور اس معاہدے میں ریلائنس گروپ کی حمایت کیوں کی ہے جس کو اس شعبہ میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ پچھلی حکومت نے لڑاکا طیاروں کے پرزے جمع کرکے ٹیکنالوجی کو ایچ اے ایل میں منتقل کرنے کا معاہدہ کیا تھالیکن مودی حکومت نے اس معاہدے کو منسوخ کردیا جس سے ہمارے ملک کو بھاری نقصان ہوا۔ ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوانی کی تحقیقات کیلئے پی این ایف فرانس کی طرف سے جج کی تقرری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس معاملے میں گڑبڑی ہوئی ہے۔ پچھلے سال مودی حکومت قومی سلامتی کی وجہ ظاہر کرکے قانونی طریقوں سے اس الزام کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ قومی سلامتی کی آڑ میں اس طرح کی تحقیقات کو روکنا خود ہماری قومی سلامتی کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا کہ ہندوستانی عوام قومی سلامتی کے آڑ میں ہونے والے بڑے پیمانے پر نقصان پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا اس بدعنوانی کی تحقیقات کیلئے فوری طور پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔