راشٹریہ علماء کونسل کے کارکنان سے سیدھی بات!مفتی ابوحذیفہ قاسمی

109

راشٹریہ علماء کونسل کے کارکنان سے سیدھی بات!مفتی ابوحذیفہ قاسمی
ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)
روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہے کہ “راشٹریہ علماء کونسل” ظلم اور ناانصافی کے خلاف ایک مضبوط آواز ہے، جسکا تفصیلی ذکر میں نے سینکڑوں مضامین اور مراسلوں میں کرچکا ہوں، آج میں اس کے کارکنان سے سیدھی بات کرنا چاہتا ہوں کہ مختلف ریاستوں میں ترتیب وار کئی انتخابات آنے والے ہیں، ہماری تیاری کیا ہے ؟ کیا ہم ووٹرلسٹ میں اپنے لوگوں کے ناموں کا اندراج کروا رہے ہیں؟ کیا ہم سماج کے اندر سیاسی بیداری پیدا کررہے ہیں؟ کیا ہم کونسل پر اعتراض کرنے والوں کا مثبت جواب دے پارہے ہیں؟ کیا ہم کونسل کی مختلف الجہات خدمات کو متعارف کروا رہے ہیں؟ ہمارے قائدین جو اپنی ہزارہا مشغولیات اور اور دیگر عوارض کی وجہ سے متحرک سیاست سے دور ہوئے ہیں کیا ہم ان کے دست و بازو بننے کیلئے آگے بڑھے ہیں؟ بےشمار الجھے ہوئے سوالات ہیں جن پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے، 

راشٹریہ علماء کونسل ایک زندہ و جاوید تحریک ہے جس کی شہادت کے لاکھوں افراد چشم دید گواہ ہیں، کسی بھی تحریک کا اصل سرمایہ اس کے بے لوث کارکنان ہوتے ہیں،الحمدللہ راشٹریہ علماء کونسل کے بے لوث خدام بے سروسامانی کے عالم میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ،راشٹریہ علماء کونسل کی روز اول سے یہ تاریخ رہی ہے کہ اس کے کارکنان کبھی ذاتی مفاد کے کیلئے اپنے ضمیر کو فروخت نہیں کیا، یہاں تک کہ کونسل کے پیغام امن کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچانے کے لئے اپنی جان، مال کو قربان کرنا اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے، ادھر کافی دنوں سے میں محسوس کررہا ہوں کہ ریاست اتر پردیش بالخصوص اعظم گڑھ میں کونسل کے کارکنان میں متحرک ہونے میں کافی کمی واقع ہوئی ہے، یاد رکھیں کسی بھی تحریک میں کارکنان ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور کارکنان کی نقل و حرکت ہی تحریک کو تقویت بخشتی ہے، اس لئے کارکنان بیدار ہوجائیں ! کیوں کہ راشٹریہ علماء کونسل کا وجود مسعود اس وقت ہوا جس وقت ہمارے اوپر قیامت صغری برپا کردی گئی تھی، ایسے دلخراش حالات میں راشٹریہ علماء کونسل ابر رحمت بن کر برسی ، خوف و دہشت کے منڈلاتے بادل کو ابر رحمت میں تبدیل کیا، ظلم و تشدد کے خونی پنجے کو مروڑنے کی صلاحیت پیدا کی، ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت پیدا کی، نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے سیاسی شعور بیدار کیا،کسی کو ہرانے اور جتانے کی پالیسی کو ترک کرکے خود میدان عمل میں اپنی قسمت آزمائی کا حوصلہ پیدا کیا، باوقار سیاسی اور متحدہ پلیٹ فارم مہیا کیا جس میں تمام طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنایا، الحمدللہ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں ستر سالوں سے مسلمانوں کے ووٹ سے اقتدار کا مزہ چکھتے ہوئے اور مسلمانوں کو حاشیے پر کھڑا کرکے آخری سانس لے رہی ہیں، اس لئے اب وقت آچکا ہے کسی کو ہرانے اور جتانے کی ٹھیکیداری سے ہٹ کر خود کامیاب ہونے کی طبع آزمائی کریں، غلامی نہیں دربار میں حصہ لیں گے سرکار میں اس کے حقیقی مصداق بن جائیں، ہمیں معلوم ہونا چاہیے قائد ملت حضرت مولانا عامر رشادی مدنی صاحب نے جو ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا ہے اس کو شرمندہ تعبیر کرنا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے، ابھی حال ہی میں کونسل کے مرکزی دفتر میں قائد ملت نے کارکنان کو بیدار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی سے تیاری شروع کردیں تاکہ آنے دنوں میں کونسل کے پرچم کو بلند کیا جاسکے ،مجھے امید کہ کارکنان اپنے ذاتی مفاد کو ترک کرکے ملت کو عروج ثریا پر پہنچانے کے لئے، سیاست میں شفافیت لانے کے لئے، ظالم کے پنجوں کو مروڑنے کے لئے،ظلم و ناانصافی کے خاتمے کے لئے، کرپشن کے خلاف کھڑے ہونے کے لئے، سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے، سیاسی و سماجی حصہ داری کے لئے، سسٹم میں داخل ہونے کے لئے، ہندو مسلم اتحاد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے، ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے، گیڈر نہیں لیڈر پیدا کرنے کے لئے، دلالی سے نجات دلانے کے لئے، اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کے لئے، سماج کے دبے کچلے لوگوں کو ترقی کے دھارے میں جوڑنے کے لئے، راشٹریہ علماء کونسل کے مشن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلسل، پیہم اور لگاتار محنت کرنی ہوگی ،تبھی ہم کامیابی و کامرانی کی بلند چوٹیوں پر فائز  ہوسکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو باوقار اور بے خوف مستقبل دے سکتے ہیں، یہ تمام کامیابیاں سیاسی حصہ داری کے بغیر ممکن نہیں ہیں ، اسی لئے راشٹریہ علماء کونسل مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کیلئے گذشتہ کئی سالوں سے کڑا سنگھرش کررہی ہے

(قاسمی دواخانہ سرائے میر اعظم گڑھ )

خادم :راشٹریہ علماء کونسل