ذات پر مبنی مردم شماری کی ایس ڈی پی آئی بھرپور حمایت کرتی ہے

38

ذات پر مبنی مردم شماری کی ایس ڈی پی آئی بھرپور حمایت کرتی ہے
نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمدنے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ آئین(127 ویں ترمیم) بل پر بحث جو ریاستوں کو ذاتوں کی شناخت اور فہرست بنانے کا اختیار بحال کرتی ہے، اس سے ذات پر مبنی مردم شماری پر ایک نئی بحث شروع ہوئی ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری ہندوستان میں آخری بار سن 1931میں آزادی سے پہلے کی گئی تھی۔ آزادی کے بعد پہلی مردم شماری سال 1951میں کی گئی تھی لیکن ہندوستانی مردم شماری کے بعد کے 10سالوں میں ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کی گئی۔ ہندوستان کا معاشرہ گہرے طور پر تقسیم ہے اور 4635ذاتوں اور برادریوں پر مشتمل ہے۔ شناخت، حیثیت اور نمائندگی ذات کے نظام کے مطابق دی گئی ہے۔ منڈل کمیشن کی اسکیم کے تحت ریزرویشن کے طور پر خصوصی تحفظات کو ملک نے سال 1990میں قبول کیا تھا، لیکن پسماندہ ذاتوں کے اعداد و شمار کی عدم موجودگی اور ضروری معلومات کی کمی کی وجہ سے 1931کی ذات پر مبنی مردم شماری کے ساتھ 50سالہ شماریات کی بنیاد پر منڈل کمیشن پلان تیار کیا گیا تھا۔ اس سے بالخصوص او بی سی(OBC) سماجی آبادی میں عدم اطمینان پیدا ہوا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ہر مر دم شماری میں ہر گھر، ہر مویشی، ہر درخت وغیرہ کی گنتی کی جاتی ہے لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر ذات پات پر مبنی مردم شماری کو جان بوجھ کر انکار کیا جاتا ہے تاکہ ملک کو خاص طور پر پسماندہ طبقات کے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد کے بارے میں ملک کو بے خبر رکھا جاسکے۔مرکز میں حکمران جماعتوں نے ہمیشہ ذات کی گنتی پر مبہم سیاست کھیلی ہے۔ یہاں تک کہ سیاسی جماعتیں، پسماندہ طبقات سے طاقت حاصل کرتے ہوئے صرف چوہے بلی کا کھیل کھیلتی رہی ہیں۔ اس مسئلے کوکھبی کھبار اپنے موقع پرستی کیلئے اٹھاتی رہی ہیں، ایس سی /ایس ٹی یا پسماندہ طبقات کی طاقت پر مبنی کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلسل ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پسماندہ طبقات کے فائدہ اٹھانے والوں میں سے کچھ غالب ذاتیں بھی سیاسی طاقت کیلئے اس مسئلے کا کھلے عام استحصال کررہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ذاتیں سیاسی طاقت کیلئے ایس سی /ایس ٹی اور او بی سی کے درمیان اپنی سیاسی اجارہ داری رکھنا چاہتی ہیں۔ سال 2011میں اگرچہ ذات پر مبنی مردم شماری الگ سے کی گئی تھی لیکن ان اعدادو شمار کو 2011کی  مردم شماری کے اعداد وشمار کے ساتھ کھبی عام نہیں کیا گیا تھا۔ لہذا، یہ ضروری ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کو عام مردم شماری کا حصہ بنایا جائے تاکہ پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سمیت پر ذات کی طاقت کا درست حساب ہونا چاہئے۔ تاکہ اس طرح ان کی متعلقہ آبادی کے تناسب سے ان کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانے اور ملک کے تمام سماجی گروپوں کو بامعنی سماجی اور سیاسی انصاف فراہم کیا جاسکے۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اختتام میں کہا ہے کہ ایس ڈی پی آئی ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان سے متفق ہے جو مطالبہ کرتے ہیں کہ مردم شماری ذات کی بنیاد پر کی جائے۔ 2021کی مردم شماری میں پورے ہندوستان میں ذات پر مبنی مردم شماری کرانا ضروری ہے۔