دے تالی!

49

تحریر :خورشید انور ندوی
ہمارا ملک ہمیشہ سے ودوان رہا ہے. ودیا اور گیان جیوتی اس دھرتی سے پھوٹتی رہی ہے.. اتیت کے سارے یگ اتیہاس والے بھی اور اتیہاس سے پہلے والے بھی، یہی دعوی کرتے رہے ہیں.. یہ الگ بات کہ ان دعووں کی کوئی دلیل نہیں دی جاتی.. زیادہ تر باتیں آسٹھا کی اوٹ لے لیتی ہیں، پھر دلیل کی ضرورت نہیں رہتی.. فطرت اپنے اصولوں پر جاری رہتی ہے، اسے کسی کے گیان دھیان، آہوتی تیاگ اور آستھا سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا. اس کی حرکت اور محوریت سب ایک “قدر معلوم” سے بندھی ہوتی ہے.. جو دکھتی نہیں،، اس کو دیکھ پانے کے لئے انسان کے پاس قوت بصری نہیں ہے.. اس کو دیکھنے کا ذریعہ صرف وحی الہی ہے، یا خرق عادت معراج جیسی کوئی استثنائی ربانی کونی حرکیت ہے..
ذالک تقدیر العزیز الحکیم (القرآن)
کائناتی عناصر میں “قدر معلوم ” ایک توازن خاص ہے اور “تقدیر العزيز الحكيم” اس توازن کا استحکام ہے.. اس کا علمی ادراک “عزت” یعنی مثالی قوت ادراک اور “حکمت” یعنی مثالی قوت و پختگی کا متقاضی ہے، جو انسانی صلاحیت ادراک اور ملکۂ کشف سے ماوراء ہے.. اس کا کچھ حصہ فہم انسانی کے بقدر، وحی الہی کے ذریعہ ہی معلوم ہوسکتا ہے، دوسرا کوئی ذریعہ علم نہیں..
اسی لئے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، انسانوں کی دنیا کو اپنا مدار (آربٹ) چھوڑ بیٹھے کسی بھٹکے سیارے کی طرح نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اس کو ہر بات اور ہر واقعہ کو اللہ کی طرف موڑنے اور مداوا کے لئے اسباب ظاہر اختیار کرنے کا حکم دیا..مرض کی حالت میں بھی علاج کا حکم ہے.. لیکن شفا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے یہ ایمان کا حصہ ہے
“. واذا مرضت فھو یشفین.”(القرآن).
اوہام وخرافات کے پیچھے بھاگنے، اور نان سائنٹیفک اپروچ کو ہمارا دین کلیتأ مسترد کرتا ہے.. اسباب اختیار کا مطلب ہی ہے علمی اور تجرباتی طور پر برتا گیا طریقہ کار کو فالو کرنا.. اسباب ظاہری ہمیشہ معلوم ہوتے ہیں اور ہر معلوم، ایک گہری دریافت ہوتی ہے، اور علمی مشق و تمرین اس اس کی بنیاد ہوتی ہے…
کووڈ 19 کے علاج میں تمام مسلمان ملکوں نے چاہے وہ انتہائی پسماندہ اور طبی ریسرچ میں بہت پیچھے پڑے ہوئے ممالک ہوں، پوری طرح طبی سہولیات پر اعتماد کیا، اور ممکنہ حد تک توہم پرستی اور بدعقلی سے پرے رہے، لیکن علم ودانش کی دھرتی ہندوستان، جو اتنا گیا گزرا نہیں، تالی بجاتا رہا، تھالی پیٹتا رہا.. اور اس پر حماقت اور مضحکہ خیز کام کی اگوائی ہمارے گیانی دھیانی، پراچین کال میں ملک کو لے جانے کے رسیا پردھان منتری کرتے رہے.. بھانڈوں کی طرح مکیش امبانی جیسے دھنوان، امیتابھ بچن جیسے ودھوان، اور سبمت پاترا جیسے میڈیکل ڈاکٹر اور باتوں کے پہلوان بھی سنگت دیتے رہے.. ایک پرماننٹ دلت نیتا اور مرکزی کابینی وزیر “گو کرونا گو، کرونا گو” کی چاپ کرتے رہے اور سارا میڈیا ان مہمل بھکتوں کی کئی دن کوریج کرتا رہا…
کرنے کا کام نہ کرنے کا انجام یہ ہے کہ ہم برازیل سے آگے نکل گئے اور دنیا بھر میں اس بیماری سے نبردآزما دوسرا سب سے بڑا ملک بن گئے..
شاید امریکہ سے بڑھی نئی نئی قربتوں کے خمار میں ہمارے لئے یہ بات باعث فخر ہو،کہ ہم سپرپاور کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں.. کسی اور چیز میں نہ سہی مہاماری میں تو ہم برابری تک ارہے ہیں… جیسے ہی برابر ہوجائیں گے یا بخوبی قسمت آگے بڑھ جائیں گے، پھر
دے تالی…….