جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتدیکھئے مقام محمود کو نگاہ معاذ سے

دیکھئے مقام محمود کو نگاہ معاذ سے

 

از قلم۔۔۔ محمد معاذ عابد محمودی
وانک لعلی خلق عظیم۔۔ دیکھئے خالقِ کائنات اللہ رب العزت جن کی شان میں فرمادیں، پھر کسی اچھے سے اچھے انسان کی گواہی کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن دنیا میں مثال سے بات آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔ صادق الامین محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبے کو سمجھنا ہو تو نگاہ صدیق سے دیکھئے۔ جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات صاف صاف نظر آئینگے۔ دوسری طرف شرر ابو جہل ہے، جس سے صاف ہو جائے گا کہ یہ دشمن رسول ہے۔ اسی طرح علماء وارث انبیاء ہیں، ان کے مقام و مرتبے کو پرکھنے کے لئے بھی اسی طرح کسی کا انتخاب کرنا ہوگا۔ جس طرح اپنے زمانے کے نبی کے سامنے باطل پوری طاقت کے ساتھ سامنے آیا، ٹھیک اسی طرح ان وارث انبیاء کے سامنے بھی باطل پوری پنجہ آزمائی کرتا ہے۔ لیکن ہمیشہ حق ہی غالب رہا، اور انشاءاللہ آگے بھی رہیگا۔ لیکن آج ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنے بھی کوئی موقعہ جانے نہیں دیتے۔ حد تو یہ ہے کہ اچھے کام میں بھی خامی تلاش کر خواہ مخواہ شور برپا کرتے ہیں۔
احقر نے ایک مضمون لکھا، اس میں قرآن و شریعت کا نام اس لئے نہیں لکھا کہ بیجا تنقید کرنے والوں کا ایمان سلامت رہے۔ اور بتانا یہ مقصود تھا کہ آج کے اس مادیت پرستی کے دور میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جو قرون اولیٰ کے اکابرین کی یادیں تازہ کر دیتی ہیں۔
خیر یہ بات یہیں ختم کرتا ہوں اور ایک بات لکھتا ہوں کہ،
شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمۃ اپنے ہم عصروں میں منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے۔ جس کی بنا پر اس زمانے کے کچھ علماء حضرت پر رشک کرتے تھے۔ حضرت کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے کمالات سے سرفراز فرمایا تھا۔ اور عوام وخواص میں نہایت مقبولیت و محبوبیت عطاء فرمائی تھی۔ خیر پھر بھی وہ اچھا زمانہ تھا، لوگ تحقیق کیا کرتے تھے۔ بلا وجہ لعن طعن بہت کم کرتے تھے۔ اسی زمانے کا ذکر ہے، فخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین مرادآبادی صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں کہ ہم سوچتے تھے کہ یہ مقام حضرت مدنی کو کیسے حاصل ہوا؟ چنانچہ ہم جستجو میں لگ گئے کہ معلوم کریں کہ حضرت کا وہ کونسا عمل ہے؟ فرماتے ہیں کہ جلد ہی ایک سفر میں حضرت مدنی کے ساتھ رات ایک ہی کمرے میں گزارنے کا موقعہ مل گیا۔ چنانچہ میں رات بھر بظاہر سوتے ہوئے جاگتا رہا، میں نے دیکھا کہ حضرت مدنی نے مختصر آرام فرما کر قیام و سجود کیا۔ فراغت پر اللہ کے سامنے آہ و زاری فرمائی، اور ذکر اس طرح فرمایا کہ بقول حضرت مولانا فخر الدین صاحب کہ حضرت مدنی جھوم جھوم کر جب ذکر کر رہے تھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ سب درودیوار ذکر کر رہے ہیں بس فخر الدین ہی مردہ ہے۔ اسی طرح جب حضرت مدنی رات میں گریہ و زاری کرتے تھے تو ایسے روتے جیسے پٹتا ہوا بچہ روتا ہے۔ مولانا فخر الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ حضرت مدنی کو یہ مقام و مرتبہ کیوں حاصل ہوا ہے۔
مختصر یہ ہے کہ خانوادہ مدنی کا یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر امت کے لئے گریہ و زاری اس خانوادے کے اکابرین کا معمول ہے۔ میرے شیخ و مربی پیر طریقت عالم ربانی محبوب سبحانی حضرت اقدس مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم صدر جمعیتہ علماء ہند کو بھی اللہ رب العزت نے ان صفات سے متصف فرمایا ہے۔ الحمدللہ احقر کو خانقاہ مدنی جامع رشید دارالعلوم دیوبند میں دو مرتبہ مسنون اعتکاف کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ حضرت والا جب رمضان المبارک میں دارالعلوم دیوبند کی جامع رشید میں ملک بھر سے آئے ہوئے مریدین و معتقدین کے ساتھ قیام و طعام فرماتے ہیں، ذکر و اذکار اور وعظ و نصیحت فرماتے ہیں، وہ دن وہ لمحے اہل دل زندگی بھر نہیں بھلا پائینگے۔ ہم نے جنید بغدادی، با یزید بسطامی، ابراہیم ابن ادہم، فضیل ابن عیاض، نظام الدین اولیاء، بابا فرید گنج شکر اور دیگر مشائخ عظام کی خانقاہوں میں روحانی تجلیات و کمالات کا تذکرہ کتابوں میں پڑھا اور بزرگوں سے سنا تھا۔ لیکن اپنی آنکھوں سے وہ سب ہم نے حضرت کی خانقاہ میں دیکھا۔ اور اپنے گنہگار دل میں بھی اس روحانیت اور تجلیات کے آثار محسوس کئے۔ بہت ہی عجیب منظر ہوتا ہے، جو حضرات ان روحانی مجالس میں شریک ہوئے ہیں وہ میرے اس بیان کی تائید کرینگے۔ حضرت قائدِ جمعیتہ کے تصوف و روحانیت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ مریدین و متوسلین آپ کی دعاؤں میں دہاڑیں مار مار کر روتے ہیں۔ وہ ایک الگ ہی دنیا ہوتی ہے، جس کو صرف اہل دل ہی جانتے ہیں۔
حقیقت دوستوں خود بخود ہو جائے گی عیاں
دیکھیئے مقام محمود کو نگاہ معاذ سے
محمد معاذ عابد محمودی
خادم مدرسہ اشاعت الاسلام و جمعیتہ علماء حلقہ قصبہ لاوڑ ضلع میرٹھ
2 ستمبر 2021 جمعرات

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے