دیوانگی نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے

83

دیوانگی نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
آج بتاریخ 7/مارچ 2021ءبروزیکشنبہ کو پیام انسانیت کے مشرقی زون کی مٹنگ چل رہی ہے، یہ نشست مسجد عبدالحمید کی بالائی منزل کلکتہ میں ہورہی ہے، تلاوت کےبعد تمہیدی باتیں کل ہند تحریک پیام انسانیت فورم کے ناظم عمومی جناب حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی مدظلہ نے کی ہے، آپ حضرت علی میاں رح کے پوتے ہیں، اس وقت پورے ملک میں حضرت علی میاں رح کی تحریک پیام انسانیت کے امین ہیں، اور بہتر جانشین بھی!اس کااندازہ ہمیں حضرت والا کی اس تمہیدی گفتگو سے بھی ہوتا ہے، جبکہ دراصل آپ کام سے جانے پہچانے جاتے ہیں، بیان سے نہیں، لیکن حضرت علی میاں رح جیسی فکر مندی کس قدر مولانا موصوف کی تمہید سے چھلکتی ہے،اس کا فیصلہ کرنا،اس تحریر کے پڑھنے والے کے لئے بھی مشکل نہیں ہے،ناچیز اس مجلس کا اسوقت حصہ ہے،اور مستفیدبھی ہورہا ہے، آپ جملہ احباب وحضرات کی بھی شرکت چاہتاہے، اسی لئے اس اہم پیغام کو آپ جملہ حضرات کی نذربھی کرتا ہے،لیجئےحضرت والا کی ابتدائی گفتگو کا خلاصہ آپ سبھوں کےپیش خدمت ہے۔
حضرات!
آپ اور ہم یہاں تحریک پیام انسانیت کے پروگرام میں شرکت کے لئے حاضر ہیں،یہ مشرقی زون کی کارگزاری کےلئے نشست بلائی گئی ہے،آٹھ ریاستوں سے یہاں نمائندگی ہونی ہے،اس اعتبار سے آپ کی اسوقت تعداد معمولی نظرآتی ہے،نمائندگی نمائندگی ہے، ایک آدمی بھی پوری ریاست کی نمائندگی کے لئے کافی ہے، خودآپ کے بنگال کی تاریخ کہتی ہے، بقول مولانا علی میاں رح:مولانا کرامت علی جونپوری رحمہ اللہ علیہ ہیں، جنکا اصل نام “احمد علی “جونپوری ہے، وہ تنہا آدمی ہیں ،جنکی محنت سےبنگال وخلیج بنگال کے تقریبادوکروڑ لوگ راہ ہدایت پر آگئےہیں،اسی کرامت کی وجہ کر”احمد علی” “کرامت علی” کہلائے ہیں ۔ آج اسی صوبہ بنگال میں کیا ہورہا ہے؟یہاں کی اس خوبصورت اور سازگار ماحول میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ ہم نے اور آپ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا، یہاں نفرت دندنا رہی ہے، اور ملک کو تقسیم کرنے کی پلاننگ ہورہی ہے، پیام انسانیت فورم کا مقصد یہی ہے، انسانیت کی بات کرنا،آپس میں ہمدردی پیدا کرنا،ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کرنا۔
حضرت علی میاں رح نے جب اس کو شروع کیا اچھے اچھوں کے ذہن میں اس کی افادیت کا مکمل رسوخ نہیں ہوا تھا، آج تمام علماء واکابرین کی متفقہ رائے یہی ہے کہ نفرت کے اس ماحول کو محبت سے ٹھنڈا کرنے کا کام ہونا چاہیے، یہی پیام انسانیت کا کام ہے،اور اس کا مقصد ہے،اس لئے آپ جو لوگ یہاں موجود ہیں، ابتدا ہی سےیہ نیت کریں کہ، ہم ایک انجمن ہیں، اور یہ خیال کرکے اس پروگرام میں بیٹھیں کہ،پورے شہر کے لئے ہم کافی ہیں، ہم نمائندگی کا حق ادا کریں گے، اور نفرت کا خاتمہ کریں گے، اس خیال وارادہ کے ساتھ آپ کا یہاں بیٹھنا عبادت ہے۔
انسانیت ومحبت،اور ہمدردی جس کی پوری دنیا کو ضرورت ہے، مگر اپنے ملک کو اس وقت شدید ضرورت ہے، آج ڈھیر ساری تحریکیں ہیں، لیکن پلاننگ نہیں ہے، اگر ہے بھی تو پینٹنگ کی نوعیت کی سی ہے، ایک عمارت میں پینٹنگ ہورہی ہے، پلمبر ہیں، رنگریز ہیں، رنگ وروغن کا کام ہورہا ہے، مگر اس عمارت کی بنیاد میں آگ لگی یے،جو کسی کو نظر نہیں آرہی ہے، جبکہ اس آگ سے پوری عمارت ہی خاکستر میں تبدیل ہونے جارہی ہے۔
خدا کا نظام یہ کہتا ہے، جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرتا ہے، وہی پھل پاتا ہے،حضرت علی میاں رح نے بھی یہی کہا ہے کہ اس وقت دیوانوں کی ضرورت ہے، دیوانگی نہیں ہے اس کام میں تو کچھ بھی نہیں ہے، مجاہدہ دراصل یہی ہے،قرآن کریم نے مسلمانوں سے میدان عمل آنے کی تعلیم کی ہے، اور خبردا کردیا ہے کہ اگر یہ نہیں ہوگا، تو فساد پیدا ہوگا اور جان ومال اور املاک سب کے ضیاع کا سامان بن جائے گا، پلاننگ کی اس وقت ضرورت ہے، پیام انسانیت انسانیت کا درس دیتا ہے اور اس کے پلاننگ بھی کرتا ہے۔
اللہ کی طاقت سب سے بڑی ہے،اور سب سے بڑھکر بھی ہے،قرآن میں ارشاد ربانی ہے، مسلمان قوم ہی سب سے بلند ہے،مگر اس کے لئے مکمل ایمان شرط ہے،
میں تمہید کے طور پر یہ باتیں اس لئے کہ رہا ہوں کہ، آپ نیک عزائم لیں،کیا بعید ہے کہ اللہ اسی چیزکو پورے ملک کے لئےخیر کا ذریعہ بنادے، آمین
“وما ذالك على الله بعزيز”
راقم الحروف
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
بتاریخ،7/مارچ 2021ء
بمقام، عبدالحمید مسجد،کلکتہ
رابطہ، 9973722710