دینی و دعوتی دنیا ایک قابل قدر انسان سے محروم ، رحمت اللہ ندی

114

دینی و دعوتی دنیا ایک قابل قدر انسان سے محروم ، رحمت اللہ ندی

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ ڈاکٹر محمد علی ندوی کے والد الحاج محمد شفیق امیر حلقہ دعوت و تبلیغ حجاز کے انتقال پر تعزیتی نشست

سمریاواں، سنت کبیر نگر( رپورٹ محمد رضوان ندوی)
بھلے لوگوں کا دنیا سے رخصت ہونا اور برے لوگوں کا ظلم و جبر کے ساتھ ی پر مسلط ہونا قرب قیامت کی علامات میں شمار کیا گیا ہے، دنیا نے بہت ترقی کرلی ہے اور بڑی آسانیاں پیدا کرلی ہیں لیکن حادثات اور موت کی رفتار کوئی نہیں روک سکا ہے، اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر مخلوق پیاری اور کسی نہ کسی اعتبار سے مفید ہے لیکن جو بہت پیارے ہوتے ہیں ان کے جانے سے عام انسانیت کو دکھ بھی بہت ہوتا ہے، الحاج محمد شفیق مرحوم بھی ایسے ہی برگزیدہ لوگوں میں تھے جن کا وصال دینی و دعوتی دنیا کے لئے بہت تکلیف دہ اور باعث رنج ہے، اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، ان خیالات کا اظہار دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ فقہ و ادب مفتی رحمت اللہ ندوی نے مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں میں منعقد ایک تعزیتی نشست کو خطاب کرتے ہوئے کیا.
انھوں نے کہا کہ امیر تبلیغ حاجی محمد شفیق مرحوم پارسا، دین دار، ملنسار، اخلاق مند اور نام و نمود سے بے نیاز ایک خیر خواہ انسان تھے، حجاز مقدس میں دین کی دعوت اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ہمیشہ کوشاں رہے، دین کے راستے وہ ہر قربانی کے لئے تیار رہتے تھے، اس دور میں بھی نمازوں کی پابندی کرنے والے، ذکر و تلاوت میں مصروف رہنے والے بہت مل جائیں گے لیکن پورے مہینہ اور پورے سال صوم داؤدی پر پابندی کرنے والے خال خال اور شاذونادر ملیں گے, حاجی شفیق مرحوم ان روزوں پر ہمیشہ پابندی کرتے تھے،اسلاف کی طرز زندگی سے انھیں پیار تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کی جاں نثاری کے قدردان تھے، پوری کوشش کرتے تھے کہ ایسا کوئی کام ان سے دانستہ طور پر سرزد نہ ہو جس سے اللہ ناراض ہو، اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے.
مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن نے کہا کہ حاجی شفیق علیہ الرحمۃ نے صرف اپنی زندگی پاکیزہ اور رب والی بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھی ایسی چیزوں سے ہمیشہ دور رکھا جو دین و شریعت کے منافی اور مخالف ہوں، ان کی اچھی تربیت ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کے ایک صاحب زادہ مفتی عمر شفیق حجازی ندوی نے مجمع الفقہ الاسلامی الدولی جدہ میں دس سال تک ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے خدمت انجام دی ہے، اسی اکیڈمی سے 42 جلد پر فقہی اصول پر ایک انسائیکلوپیڈیا شائع ہوئی اس میں کتاب کے تعارف میں انواع القواعد الفقہیۃ کے نام سے ایک تفصیلی مقدمہ لکھا اور 171 فقہی قواعد بھی مرتب کئے، کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں فقہ پر ہفتہ وار آپ کا درس ہوتا ہے، کئی اہم کتابوں کے مصنف اور مؤلف ہیں، چھوٹے صاحب زادے ڈاکٹر محمد علی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ ہیں، اس کے علاوہ انھوں نے گھر کے تمام بچوں کی بھی اچھی طرح ترتیب کی، اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور انھیں اپنی رضا کا پروانہ عطا فرمائے، اس موقع پر مولانا عبد الماجد ندوی، مولانا غفران احمد ندوی نے بھی اپنے دکھ درد اور مرحوم کے محاسن کا ذکر کیا، آخر میں مرحوم کے حق میں بلندی درجات اور مغفرت کی دعاؤں پر یہ تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوئی