دیا جلاؤ “نظم از قلم: شیبا کوثر (آرہ )بہار

87

دیا جلاؤ !

کہ دیا جلانا ضروری ہے

اندھیرا ہے ہر گام پر

روشنی ضروری ہے

پھیلا ہوا ہے

سارے عالَم پر

خوف و و حشت کی تاریکی!!

زندگی بےبس ہے

اور لاچار بہت

آفت بڑی ہے

پر امید بہت

یقین ہے پھر بھی

اپنے ہونے کا

احساس سب کو

ہر لمحہ کھونے کا

ایک عجیب وحشت ہے

کیا ہوگا ،کب ہوگا

کیسے ہوگا ۔۔۔۔۔؟

سوال بہت ہیں !!

لیکن کسی کو کچھ بھی تو

معلوم نہیں

ہاں

ایک “چراغ ”

جو دور روشن ہے

امید کی لو

جہاں سے کچھ ہو کے آتی ہے

دیا جلاؤ

کہ دیا جلانا ضروری ہے

ضروری ہے بہت

بہت ضروری ہے !!!