جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہارات  دہلی میں پناہ گزیں روہنگیا کے درمیان جمعیۃ علماء ہند...

  دہلی میں پناہ گزیں روہنگیا کے درمیان جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے گرم کپڑے اور راشن تقسیم    

دہلی میں پناہ گزیں روہنگیا کے درمیان جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے گرم کپڑے اور راشن تقسیم

نئی دہلی ۴۱/جنوری ۲۲۰۲ء

 جمعیۃعلماء ہند کے قومی صدرمولانا محمود مدنی کی ہدایت پر دہلی اور این آرسی میں روہنگیائی مہاجرین کے درمیان کمبل، لحاف،لیدر جیکٹ اور راشن وغیرہ تقسیم کیے گئے۔شرم وہار میں 99/خاندان،کھجوری میں 78 خاندان، کالندی کنج میں 57 خاندان، فریدآباد میں 35اور اتم نگر میں 63خاندانوں میں یہ اشیاء تقسیم کی گئیں۔ واضح ہو کہ دہلی میں سخت سردی اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہاجرین کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا ہے۔جمعیۃ علماء ہند انسانی بنیاد پر ان ضرورت مندوں کی مدد کرتی رہتی ہے۔اسی طرح قاری عبدالسمیع جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے باہری دہلی کے علاقے میں جمعیۃ کے بینر کے تحت لحاف تقسیم کیے ہیں۔

  آج جمعیۃ علما ء ہند کے آرگنائزر مولانا غیور احمد قاسمی نے بتایا کہ روہنگیا روئے زمین کے سب سے مظلوم انسان ہیں، وہ ہمارے ملک میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جب تک یہاں ہیں یہ ہماری قومی، ملکی و دینی ذمہ داری ہے کہ ان کی مدد کریں۔اس سے ہمارے وطن کی نیک نامی بھی ہوتی ہے اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو تی ہے۔ انھوں نے دیگر اہل خیر حضرات اور تنظیمو ں کو بھی متوجہ کیا کہ وہ ان کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ تقسیم کے عمل کے موقع پر حاجی محمدیوسف نائب مولانا عابد قاسمی صدر جمعیۃ علما ء صوبہ دہلی، مولانا اسلام الدین قاسمی ناظم اعلی جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مولانا اخلاق قاسمی ناظم جمعیۃ علماء شمالی مشرقی دہلی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند، قاری ہارو ن اسعدی، حاجی محمد اسعد میاں خادم الحجاج و ناظم جمعیۃ علماء نئی دہلی، مولانا تنویر، مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہندسے حاجی محمد مبشر، حاجی محمد عارف، مولانا یسین جہازی، مولانا عرفان قاسمی وغیرہ بھی موجود تھے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے