ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتدہلی فساد: رتن لال مرڈر کیس میں ملزم سلیم عرف منااور سمیر...

دہلی فساد: رتن لال مرڈر کیس میں ملزم سلیم عرف منااور سمیر کو ضمانت

جمعیۃ علما ء ہند کی کوششوں سے جیل میں بند نوجوانوں کی ضمانت کا سلسلہ جاری۔ جمعیۃ کی نگرانی میں 154مقدمات میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے: ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی

نئی دہلی 5/اکتوبر
شمال مشرقی دہلی فساد میں کے کے ڈی کورٹ کے ایڈیشنل جج ونود یاود نے آج اپنے اپنے الگ فیصلوں میں رتن لال قتل مقدمہ میں ایف آئی آر نمبر 60/20کے تحت گرفتار سمیر عرف ساحل اور سلیم ملک عرف منا کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے اس سلسلے میں جمعیۃ علما ء ہند کی طرف سے مقررکردہ وکیل ایڈوکیٹ سلیم ملک کے اس دعوی کو تسلیم کیا کہ اسی طرح کے کیس میں دہلی ہائی کورٹ نے ملزم محمد ایوب او رملزم شہنواز کو14/ستمبر 2021ء کو ضمانت دی تھی۔اس لیے کچھ شرطوں کے ساتھ ان دونوں ملزموں کو بھی ضمانت دی جاتی ہے، اس سلسلے میں ان دونوں پر مبلغ پینتیس ہزار زر ضمانت طے کی گئی ہے، نیز سلیم ملک عرف منا چاند باغ کے اپنے پتہ پر ہی رہیں گے، وہ شہر سے باہر نہیں جائیں گے، اسی طرح سمیر بھی چاند باغ کے اپنے پتہ پر ہی ٹھہریں گے۔

واضح ہو کہ ان دونوں کو دہلی فساد میں ڈیوٹی پر تعینات ہیڈ پولس کانسٹبل رتن لال کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، حالاں کہ وکیل دفاع کا یہ دعوی ہے کہ ان دونوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن دہلی پولس نے فساد کے بعد ’کامن سنس‘ کا استعمال کیے بغیر بڑی تعداد میں رکشہ پولروں اور روز مرہ کمانے والوں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیا تھا، جس کے بعد کئی گھر تباہ ہو گئے، کئی ایسے گھرانے تھے جن کے پاس مقدمہ لڑنے تک کی حیثیت نہ تھی۔اس درمیان جمعیۃ علماء ہند نے ایسے مظلوموں کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا،حالاں کہ جمعیۃ کے زیادہ تر وسائل فساد زدہ لوگوں کی مدد میں خرچ ہو رہے تھے، ایسے میں بے قصور گرفتار شدگان کی رہائی کا مسئلہ بڑا بوجھ بن سکتا تھا۔

جمعیۃ علماء ہند کے قانونی معاملات کے نگراں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی کہتے ہیں کہ اللہ کے بھروسے اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا بوجھ اٹھا یا گیا، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے ایک ایسی خاتون کے بارے میں سناجس کے پاس کچھ نہیں تھا، اس کا بیٹا رکشہ چلاتاتھا اور وہ اکلوتا نور چشم بھی مہینوں سے بند تھا، تب انھوں نے فیصلہ کیا کہ بے قصوروں کو جیل سے آزاد کرانا بھی ایک بڑا فرض ہے۔ الحمدللہ آج جمعیۃ علما ء ہند کی کوششو ں سے 340 افراد ضمانت پر رہا ہیں، تقریبا 154مقدمات میں ٹرائل شروع ہوچکا ہے، جمعیۃ علماء ہند نے یہ عزم کیا ہے کہ قید ناحق سے آزادی دلا کر ہی دم لیں گے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے