دورعالمگیریت میں موجودہ نسل کے مسائل اورمعلم کارول، محمدعنایت اللہ ندوی

57

ارریہ( توصیف عالم مصوریہ)
ہرپھول تمہارا ہے ہر خار تمہارا ہے
تم نے ہی دے کر گلشن کو سنوارا ہے
دورعالمگیریت میں موجودہ نسل جن مسائل سے دوچار ہورہی ہے،وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،بلکہ ایک ایک دورکی طرح واضح اورروزروشن کی طرح عیاں وبیاں ہے،موجودہ نسل بے راہ روی کی طرف گامزن ہے وہ بھی سب پر اس طرح سے واضح ہے کہ اس کو آسانی سے سمجھ کر اس کی صحیح طورپر شناخت کرسکتے ہیں،اس کے بعد ان مسائل کا تحلیل وتجزیہ کر کے ایک مثبت حل تلاش کرکے موجودہ نسل کے لیے پیش کرسکتے ہیں۔
بہر حال آج کی موجودہ نسل دنیا کی برائیوں خرابیوں،بربادیوں اورہر طرح کے جھمیلوں میں پوری طرح سے جکڑ اورپھنس چکی ہے،اپنے مقاصد واہداف کو پس پشت ڈال دینا ان کا اہم فریضہ بن چکا ہے،با ت یہیں پر ختم اوررکتی نہیں ہے بلکہ عیاشی وفحاشی میں ملوث ہونا اوراس کے لیے راہ ہموارکرنا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے،اپنے اوقات کو غلط طریقے سے استعمال کرنا ان کا فیشن بن چکا ہے،وہ جدید آلات مثلاً کمپیوٹر،انڈورائڈ موبائل،ٹیلی ویژن اورانٹر نیٹ کا صحیح بامقصداستعمال کرنے اوراس سے صحیح فائدہ حاصل کرنے کے بجائے غلط استعمال کرنا وقت کا اہم فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں۔
ان تمام چیزوں کا نتیجہ پورے معاشرے ہی نہیں بلکہ پورے سماج میں بہت ہی اثرپڑرہا ہے جس کا اندازہ لگانا نہایت مشکل وناممکن نظرآرہا ہے،ان چیزوں کی وجہ سے ایک غلط معاشرے کی تشکیل ہورہی ہے،جس میں کہ ہر طرح کی برائیاں جنم لے رہی ہیں،لوگ خود غرض اورمطلب پرست ہو رہے ہیں،بڑوں کا حترام دل سے نکلتا جارہا ہے،چھوٹوں کے لیے شفقت ومحبت دل سے ختم ہوتی جارہی ہے،یہی نہیں نتیجہ یہاں تک پہونچ چکا ہے کہ اپنے والدین کی خدمت کرنا گوارا نہیں کررہے ہیں،گویا آج کی موجودہ نسل فلسفہ فطرت پسند (Naturelism)پر عمل کررہی ہے،جس کی تعلیم کا مقصد مطلب پرستی ہے اورخودغرضی پر مبنی ہے اورجس سے واضح ہوتا ہے کہ جومطلب کی چیز ہے اس کو رکھو اورجو مطلب کی چیزنہ ہو اس کو نکال باہر کرو،یہی سلوک وہ لوگ اپنے والدین کے ساتھ کرتے ہیں،آج ہم امریکہ ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں ا س کی واضح مثال اپنی آنکھوں سی دیکھ سکتے ہیں کہ بچے اپنے والدین کے بوڑھے ہونے کے بعد Old Ages Hostel میں ڈال دیتے ہیں،جس کا نتیجہ معاشرے پر بہت ہی براپڑتا جارہاہے۔
فلسفہ فطرت پسندی کے روحانیت اورمذہبیت کی کوئی حیثیت ہی نہیں رکھی ہے،حالاں کہ روحانیت میں یقین رکھنے کے بعد ہی انسان اپنے اندر موجودہ حیواناتی خواہات سے اوپر اٹھ کر ایک مکمل انسان بنتا ہے،اورمذہبیت کی تعلیم سے انسان کے اخلاق و کردارمیں ربدیلی آتی ہے،غوروفکر سے صاف اورواضح طورپر پتہ چلتا ہے کہ اسی فلسفہ کا نتیجہ ہے کہ آج کی موجودہ نسل میں اتحاد واتفاق کی جڑیں کاٹی جارہی ہیں حسدوکینہ ظلم و ستم اورنفرت وعداوت کی بیچ بوئی جارہی ہے۔
یہی نہیں،بات یہیں پر نہیں رکتی ہے بلکہ اس کے علاوہ فلسفہ علمیت پسندی نے توحد کردیا،انہوں نے تواستاذکو محدود حق دیا ہے،فلسفہ ئ علمیت پسندی اسکول تک ہی استادمانتے ہیں،اس سے باہر استاد کی کوئی حیثیت نہیں،یہ فلسفہ صرف مادہ پرستی کی تعلیم دیتا ہے،آپ خود غورفرمائیں کہ اس طرح کے فلسفے سے معاشرے میں اورموجودہ نسل میں خدمت کا جذبہ کہاں سے پیدا ہوگا اورماحول کیسے خوش گوارہوسکتا ہے،ایسے پرخطر وپرآشوب دورمیں معلم کی ذمہ داری مزید دوچند ہوجاتی کیوں کہ معلم ہی ایک ایسی ہستی ہے جو کہ پوری دنیا اورپوری قوم وملت کے لیے رہنما اورمعمار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اکثر بیشتر دیکھا گیا ہے کہ طلباء اورموجودہ نسل کے نوجوان زیادہ تراپنے اساتذہ کو ہی اپنا ماڈل ورنہما سمجھتے اورمانتے ہین والدین کی جن باتوں پر بچے عمل نہیں کرتے ہیں،ان باتون کو اساتذہ کے کہنے پر ہی عمل کرتے ہیں حتٰی کہ بعض طلباء تو اساتذہ کی ہی تقلید کرتے ہیں جس طرح استاد کرتے ہیں طلباء بھی اسی طرح کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اورپھر میرا مانناہے کہ اگر اساتذہ کی قدروقیمت سماج میں نہ ہو تو پھر کس کی ہوگی کیوں کہ استاد ہی ایسا فرد ہے جو کہ طالب علم کی روح کوپاکیزگی،سوج کوپختگی اورکردار کوپاکبازی وبلندی عطاکرتا ہے،استاد معاشرہ کا نباض اورفطرت شناس ہونے کے ساتھ ساتھ قوم کا معمار اورقوم کا امین ہوتا ہے،کسی شاعر نے بجا کہا ہے کہ اورمیں اسے استاد کے لیے پیش کررہا ہوں۔
نہ جانے کونسی دولت ہے تیرے لہجے میں
توبولتا ہے تو دنیا خرید لیتا ہے
بہر حال استاذہ کی ان تمام فضیلتوں کو کے ساتھ ایسے موجودہ دور کے بگڑتے ماحول میں اساتذہ /معلم کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ اپنے طلباء اورنواجوان نسل کی صحیح اوراچھی رنہمائی کریں اوراپنے طلباء اورنوجوان نسل کی صحیح اوراچھی رہنمائی کریں اوراپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ وہ ھقیقی معنوں میں طلباء کے لیے قابل تقلید وآئیڈیل اوررول ماڈل ہوں،ساتھ ہی ساتھ اساتذہ کو اپنے مضمون پر مکمل عبور ہونا چاہئے،کیوں کہ طلباء بڑے حساس اورتجسس پسندی ہوتے ہیں اوران میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کا جذہ ہوتا ہے اس لیے وہ بہت زیادہ سوالات بھی کرتے ہیں،مضمون سے متعلق اوردیگرعام معلومات پر مبنی سوالات پوچھنے پر طلباء کی حوصلہ افزائی کی جائے،اسکولوں،کالجوں اوریونیورسیٹیوں میں قومی تہوار اورقومی رہنماؤں ومذہبی رہنماؤں کی یوم ولادت ویوم وفات اوردیگر خصوصی دنوں کے کے پروگرام منعقد کیے جائیں اوران کی اہمیت وافادیت طلباء کے سامنے واضح کی جائے تاکہ ان میں بھی قومی رہنماؤں ومذہبی رہنماؤں کے اوصاف پیدا ہوں اورقوم سے وابستگی کا جذبہ پروان چڑھ سکے،طلباء کو مختلف سرگرمیوں کے تحت دیہاتوں،جھونپڑیوں اورگاؤں میں لے جایا جائے،وہاں کے ماحول سے ان کی پہچان کرائی،طلباء کے ذریعہ گاؤں میں صفائی،حفظان صحت کے بارے میں معلومات اورتعلیم کی اہمیت کے بارے میں تشہیر کی جائے اوران کاموں کے لیے طلباء یا موجودہ نسل کے نوجوانوں کی مدد کی جائے تاکہ ان میں سماجی خدمت اوراپنے لوگوں سے وابستگی اوران کے لیے اپنی ذمہ داری کا احساس پیداہوسکے۔
گویا ان تمام چیزوں پر عمل کیا جائے تب جا کر موجودہ نسل کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اورایک نئی نسل اورنیا سماج کی تعمیر ہوسکتی ہے؛ لیکن موجودہ نسل کے مسائل کے حل کرنے کے لیے جتنی ذمہ داری معلم /اساتذہ پر عائد ہوتی ہے اتنی ذمہ داری سماج کے بڑے بزرگ اورنامور لوگوں کی بھی ہوتی ہے سب کومل کر ایک دوسرے کی مدد کے ذریعے موجودہ نسل کے مسائل کوحل کرنا ہوگا تب کوئی بات بنے گی۔
مردوں میں جیسے جان جاتا ہے مدرس
دنیا کے سب علوم سکھاتا ہے مدرس
میں تو اس نتیجے پہ پہنچا ہوں دوستو
کہ حیوان کو بھی انسان بناتا ہے مدرس
(اسسٹنٹ پروفیسر پیوپلس کالج،منور نگر،زیرومائل،ارریہ)