دنیا میں اسی قوم پر عذاب آیا جس نے رسول کی نا فرمانی کی! فقط خدا کی نافرمانی پر عذاب نہیں آیا

86
دنیا میں اسی قوم پر عذاب آیا جس نے رسول کی نا فرمانی کی!
فقط خدا کی نافرمانی پر عذاب نہیں آیا
*تحریر:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور*
موبائل 09279996221-
اللہ رب العزت اپنے بندوں پر بہت ہی مہر بان ہے،اسی لیے ہر زمانے میں اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے رسولانِ عظام،پیغمبرانِ عظام کو بھیجتا رہا ! تاکہ اس کے بندے راہِ ہدایت پر رہیں، بھٹکے ہوئے راہِ راست پر آجائیں،انسانوں کو اعلیٰ مخلوق کاشرف بھی عطا فر مایاپر انھیں بندوں میں جاہل گنوار بھی ہوئے جو اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں سے بحثیں کیں اور طرح طرح کی گستاخیاں کیں، قرآن مجید نے اِ ن کی گستاخیا ںجگہ جگہ بیان فر مائی ہیں، آگے ان کی تفصیل آئے گی۔ ہردور میں حق وباطل میں لڑائی تھی ، “اب بھی جاری ہے “اور آنے والے زمانہ میں بھی رہے گی لیکن حق ہی واضح اور کامیاب رہے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
 وَقُلْ جَآ ئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَا طِلُ اِنَّّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْ قاً۔ترجمہ:اور فرمائو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔(القر آن،سورہ بنی اسرائیل:17آیت81) یعنی اسلام آیا اور کفر مٹ گیا اور خلاصہ یہ کہ حضور ﷺ تشریف لائے تو نور آیا اور اندھیرا گیا،اسلام آیا اورکفر گیا، ہدیات آئی اور گمراہی گئی مگر یہ سب کچھ اس دولھا کے دم قدم سے ہوا جس کے دم کی یہ ساری بہار ہے سب کچھ وہی لائے،ان پر درود اور سلام ہو” ﷺ ”
؎ ہے انھیں کے دم قدم کی باغِ عام میں بہار ٭ وہ نہ تھے عالم نہ تھا وہ نہ ہوں عالم نہیں
گستاخانِ رسول وکلام الٰہی کے خلاف پوری دنیا میں ایک لابی کام کررہی ہے یہودی و ان کے نظریات کے ماننے والے برہمن واد نے اس کا بیڑا اُٹھایا ہواہے، خواہ گستاخ رسول نر سنگھا نند ہو ،وسیم رضوی ہو، چاند مل چوپڑا ہو، چاہے فرانسیسی جریدے چالی ا یبڈو ہو جس نے نبی کریم ﷺ کے خاکے شائع کیے جن کی بنا پر سات جنوری سنہ2015ء میں اس پر حملہ ہواتھا۔ اس حملے میں بارہ افراد واصلِ جہنم ہوئے تھے جس میں خاکے تصویر بنانے والا کارٹونسٹ بھی شامل تھا۔ اس طرح کی نازیبا اور مسلمانوں کی تکلیف کا باعث شرمناک حر کتیں ہالینڈ اور کئی جگہ ہوتے رہتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی فطرت قرآن مجید نے بیان فر مائی ہے۔
فَمَا لَھُمْ عَنِ التَّذْ کِرَۃِ مُعْرِ ضِیْنَ۔ کَاَ نَّھُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ ۔ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ ۔
ترجمہ: تو اِنہیں کیا ہوا نصیحت سے منھ پھیرے ہوئے ہیں۔گویا وہ بھڑ کے ہوئے گدھے ہوں۔ جو شیر سے بھاگتے ہوں۔( القر آن،سورہ مُدثر:74آیت49 سے51)
جس طرح شیر کو دیکھ کر گدھا خوف زدہ ہوکر بھاگتا ہے اسی طرح یہ کافرلوگ نبی کریم ﷺ کی تلاوتِ قرآن سن کر آپ سے بھاگتے ہیں اور قر آن کی نصیحتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ کفار مکہ ایمان لانے کے لیے کئی کئی شرائط پیش کرتے تھے،کبھی کہتے ہمارے ان صحرائوں میں سر سبز کھیت اور شادب باغات لہلہانے لگیں، یہاں نہریں جاری ہوجائیں۔ کبھی کہتے آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور ایک کتاب لے آئیں،بد نیت کے لیے بہانوں کی کمی نہیں ہوتی طرح طرح کے احمقانہ مطالبات کرتے رہتے ان کے ان نامعقول مطالبات کی وجہ اس آیت کریمہ میں بتائی جارہی ہے۔(تفسیر ضیا ء القر آن،تفسیر خازن: ج4ص332)
رسولِ کریم ﷺ کی باتوں اور کلامِ الٰہی قرآن مجید کو نہ سننا اِن کی اصل بیماری ہے ،کفارِقریش نے نبی ﷺ سے کہاتھا کہ ہم اس وقت تک ہرگز آپ کی پیروی نہیں رکھیں گے جب تک کے ہم میں ہر ایک کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک کتاب نہ آئے جس میں لکھا ہوا ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور فلاں بن فلاں کے نام ہے ہم اس میں تمہیں رسول ﷺ کی پیر وی کا حکم دیتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فر مائی، جس کا بیان قر آن کر رہا ہے۔ کَلَّا إِنَّہُ تَذْکِرَۃٌ (54) فَمَن شَاء ذَکَرَہُ (55) وَمَا یَذْکُرُونَ إِلَّا أَن یَشَاء َ اللَّہُ ہُوَ أَہْلُ التَّقْوَی وَأَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ (56)ترجمہ:سن لو! بیشک وہ نصیحت ہے۔توجو چاہے اس سے ہی نصیحت حاصل کر ے۔ اور وہ اللہ کے چاہنے سے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔ وہی لائق ہے کہ( اس سے) ڈراجائے اور مغفرت فر مانے والا ہے۔ ( القر آن سورہ المد ثر : 74آیت54سے56) اے لوگو! سن لو، بیشک قرآن شریف ہی وہ عظیم نصیحت ہے تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔
*رسولانِ عظام کے گستاخوں کا عبرت ناک انجام:*
نرسنگھا نند ہوں یا دوسرے بد بخت،نا ہنجاروں کے انجامِ بد کا ذکر قر آن مجید میں جابجا آیا ہے۔ رسولانِ عظام ،پیغمبرانِ عظام،آسمانی،الہامی کتابوں کے گستاخوں کی رب تعالیٰ نے ہمیشہ پکڑ فر مائی اور طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا فر مایا، بہت سے واقعات قر آن مجید میں موجود ہیں ۔خاص کر چھ معذب قوموں کا ذکر تو قابلِ ذکر ،قابل عبرت ہے قوم ثمود، قوم ہود ، کے عذاب پر باقاعدہ قرآن مجید میں ایک سورہ موجود ہے،قوم نوح پر بھی قر آن مجید میں سورہ نوح موجود ہے، قوم یونس پر قرآن میں سورہ یونس موجود ہے ،قوم ابراہیم پر سورہ ابراہیم موجود ہے،یاد رہے اِن سورتوں کے علاوہ دوسری سورتوں میں گستا خوں کے انجام کی داستانیں موجود ہیں قوم لوط کا ذکر سورہ یونس کے علاوہ بھی کئی جگہوں میں موجود ہے وغیرہ وغیرہ۔ نبیوں کی گستاخیوں کا ذکر مختصر میں مطالعہ فر مائیں،یاد رہے ہر نبی، رسول، پیغمبر کے جھٹلانے اور گستاخی کرنے والوں کی پکڑ رب تعالیٰ نے فر مائی اس کا ذکر کئی جگہ فر مایا اور کہیں کئی کئی انبیا کرام کے نا موں کے ساتھ اُن گستاخوں کا ذکر فر مایا: جیسے أَلَمْ یَأْتِہِمْ نَبَأُ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاہِیْمَ وِأَصْحَابِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِکَاتِ أَتَتْہُمْ رُسُلُہُم بِالْبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ اللّہُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلَـکِن کَانُواْ أَنفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ(70) ترجمہ: کیا اِنہیں اپنوں سے اگلوں کی خبر نہ آئی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور وہ بستیاں کہ اُلٹ دی گئیں اِن کے رسول روشن دلیلیںان کے پاس لائے تھے تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے۔(القرآن،سورہ ،توبہ:9آیت70) یعنی قومِ لوط کی پانچ بستیاں سُدُوم اور اس کے ارد گرد کے گائوں جو ایسے اُلٹے گئے کہ اُوپر کا طبقہ نیچے اور نیچے کا کا اُوپر ہوگیا۔رب فر ماتا ہے:
فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہَا حِجَارَۃً مِّن سِجِّیْلٍ مَّنضُودٍ(82)
 تر جمہ: پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصے کو اس کا نیچے کردیا اور اس پر لگاتار کنکر کے پتھر بر سائے۔ یہ قومِ ثمود و عاد کی بستیاں تھیں جنہیں جب لوط علیہ السلام اپنے اہل وعیال کے ساتھ اپنے بستی سے نکلے تو انہیں حکم دیا کہ پیچھے مڑ کر کوئی نہ دیکھے،سب نے اس بات پر کیا لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی نے جب سنا کہ اس کی قوم پر عذاب نازل ہونے ولا ہے تو اس نے پیچھے مڑ کر چیخ کر کہاِ ہائے میری قوم! تو اسے بھی ایک پتھر لگا اور وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ ہلاک ہو گئی۔ قوم لوط پر عذاب اس طرح آیا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے قوم لوط کے شہر زمین کے نیچے اپنا بازو ڈالا اور ان پانچوں شہروں کو جن میں سب سے بڑا سُدُوم تھا اور اس میں چار لاکھ آدمی بستے تھے اتنا اونچا اٹھایا کہ وہاں کے کتوں اور مر غوں کی آوازیں آسمان پر پہنچنے لگیں اور اس آہستگی سے اٹھایا کہ کسی برتن کا پانی نہ گرا اور کوئی سونے والا بیدار نہ ہوا، پھر اس بلندی سے اسے اوندھا کر کے پلٹ دیا اور جو لوگ اس وقت بستی میں موجود نہ تھے وہ جہاں کہیں سفر میں تھے وہیں انہیں لگاتار پتھر برساکر ہلاک کردیا گیاوغیرہ وغیرہ۔ قر آن مجید میں جگہ جگہ غور کرنے کو کہا گیا ہے کہ نبیوں کے گستاخوں کا انجام عبر تناک اور درد ناک ہوا،رب تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ بغیر جرم کے سزا دے ،یا جرم سے زیادہ سزا دے۔
*گستاخی کی پرانی روش نئے ناہنجار:*
موجودہ دور میں بہت سے ناہنجا روں نے یہ روش اختیار کی ہوئی ہے کہ رسول رحمت ﷺ کی شان اقدس میں ،ان پر نازل ہوئی کتاب کلام الٰہی قر آن مجید پر نت نئے طریقوں سے حملے وگستا خیاں کرتے رہتے ہیں۔ تو قر آن مجید میں اعلان خد اوندی ہے وہی عبرتناک انجام ایسوں کا ہونے والا ہے، وسیم خبیث ہو ، نرسنگھا نند ہو، فرانس کی میگزین شارلی ابدو(charlie Hebdo) ہو جوکہ نبی کریم ﷺ کے خاکے بنائے ۔ان سبھی معا ملوں میں نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری قوموں کے لوگوں کو بھی مخالفت کرنا چاہیے اور مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہیے۔مسلمان تو کسی بھی مذہب کے دیوی،دیوتائوں کو بُرا نہیں کہتے؟ تو پھر مسلمانوں کو اس طرح برابر کیوں پریشان اور دلی تکلیف کیوں دی جا تی ہے۔
*حضرت نوح کی دعوتِ دین اور قوم کی لا پر واہی:*
حضرت نوح علیہ السلام کا نام شریف “یشلرــ ـ ” بھی ہے۔ آپ حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر تشریف لانے کے ایک ہزار چھ سو بیالیس- 1642 سال بعد مبعوث ہوئے۔( تفسیر نور العر فان،ص:357) دمشق میں قیام تھا،کوفہ میں آپ دفن ہیں آپ چالیس سال کی عمر میں نبی ہوئے اور ایک ہزار برس تبلیغ فر مائی، لیکن صرف 72 آدمی باہرکے اور آٹھ ہی آدمی گھر کے آپ پر ایمان لائے۔آپ چوتھے نبی ہیں،جو تمام انسانوں کے نبی تھے سب سے زیادہ عمر شریف آپ کی ہوئی۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں بھی بہت تھوڑے لوگ آپ پر ایمان لائے،اکثر بے ایمان رہے،چنانچہ بابل والوں میں صرف حضرت لوط علیہ السلام اور نمرود کی بیٹی آپ پر ایمان لائی حضرتِ سارہ بھی آپ پر ایمان لائیں۔(تفسیر،نورُ العرفان592) غرض کہ دنیا میں اُس قوم پر عذاب آیا جس نے رسولوں کی باتیں نہ سنی نہ مانیں،نبی کی رسول کی نافر مانی کی تو ہلاک کئے گئے۔ نبی رحمت ﷺ چونکہ رحمت اللعالمین ہیں اسی لئے پوری قوم یا پوری انسانیت پر ایک ساتھ عذاب نہیں آئے گا،لیکن نبیوں کے گستا خوں پر عذاب آکر رہے گا’’ فقط خدا کی نافر مانی پر عذاب نہ آیا‘‘ رب فر ماتا ہے وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولاً(15)
ترجمہ: اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔
( سورہ بنی اسرائیل:17آیت 15) نبیوں کو بھیج کر اللہ نے ہدایت بھیجی جس نے نبی کی نافرمانی کی رسولوں کی نافر مانی کی تو رب کے عذاب نے انہیں پکڑ لیا ۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو نبیوں کی گستاخی سے بچائے آمین ثم آمین-
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ پن کوڈ 831020,
رابطہ۔09279996221 hhmhashim786@gmail.com