دارالعلوم دیوبند تیرا شکریہ: زین العابدین قاسمی

55

زین العابدین قاسمی
ناظم جامعہ قاسميہ اشرف العلوم نواب گنج علی آباد، بہرائچ

آج پھر دارالعلوم دیوبند نے امت مسلمہ کو گمراہی سے بچانے کا فریضہ انجام دیا۔

دارالعلوم دیوبند کی یہ روشن تاریخ رہی ہے کہ جب بھی کسی نے اپنے علم و فضل اور جبہ ودستار کا غلط استعمال کرتے ہوئے امت مسملہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے تو اُس کی گمراہی سے امت مسلمہ کو بچانے کا فریضہ نبھایا ہے اور اس کی ایک طویل فہرست ہے۔

لکھنؤ کے ایک شخص کو اپنے علم پر بڑا غرور ہے بڑے بڑے اہلِ علم کو کہتا ہے کہ وہ ہمارے شاگرد بننے کے قابل نہیں ہیں، اپنے ایک بیان میں کہتا ہے کہ مسجدوں کے سارے امام جاہل ہوتے ہیں اور جو عالم بھی ہوتے ہیں انھیں حدیث کا پتا نہیں ہوتا ہے۔ اپنے علم کا چرچا کرنے کے لیے اپنے بیان میں اپنی کتابوں اور تقریروں کا خوب چرچا کرتا ہے۔

مذکورہ شخص نے کافی دنوں سے صحابۂ کرام کے خلاف ایک محاذ کھول رکھا تھا اور صحابۂ کرام کے سلسلے میں امت مسلمہ کے اندر گمراہیت کا بیج بورہا تھا۔

ملک و بیرونِ ملک سے بڑے بڑے اہلِ علم نے زبان و قلم کے ذریعہ اِس شخص کا تعاقب کیا۔

اور آج ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند نے بھی بلا خوف لومۃ لائم اس کی گمراہی پر مہر ثبت کرتے ہوئے امت مسلمہ کو اُس کی گمراہی سے بچنے کے لیے اس کے پیچھے نماز پڑھنے، اس کی کتابیں پڑھنے، اس کے بیانات ودروس سننے اور اس کے زیر انتظام چلنے والے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے سے منع کیا ہے۔

یاد رہے کہ امت مسلمہ کو گمراہی سے بچانے کے لیے ایسا قدم اٹھانا فتنہ یا فرقہ واریت نہیں ہے بلکہ دینی تقاضا ہے۔

یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ مذکورہ شخص سے متعلق دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ لکھنؤ ہی کے ایک ندوی عالم مولانا عرفان نصر فاروقی ندوی کے اِستفتاء پر جاری ہوا ہے۔