دارالعلوم دیوبندی فیکٹری کا نیا فتویٰ : وائرل نیوز فیس بک

197

کاپی رائٹ
سعد کاندھلوی صاحب اور تبلیغی جماعت کے بعد مولانا سلمان حسینی ندوی کے خلاف فتوی ۔ سلمان ندوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے
دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے میں کہا کہ۔
مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
(الف) سوال نامہ کے ساتھ تحریر و تقریر کے جو اقتباسات منسلک کیے گئے ہیں، ان کو پڑھنے سے یہ واضح ہے کہ مذکورہ شخص (صحابۂ کرامؓ کے متعلق علیحدہ رائے قائم کرنے والے) کے عقائد و نظریات جمہور اہل سنت و الجماعة کے قطعاً خلاف ہیں اور موجبِ فسق ہیں اور منسلکہ صفحات میں جن نصوص سے استدلال کیا گیا ہے، وہ قطعاً درست نہیں ہے، یہ محض کم علمی اور کج فہمی سے عبارت ہے، برملا صحابہ کی شان میں باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم جیسے الفاظ استعمال کرنا اور ان کی تنصیق و تفسیق براہ راست ایمان کے لئے نہایت خطرناک ہے، ایسے نظریات کا حامل کوئی بھی ہو بلا شبہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کی بھی ضلالت کا سبب ہے، نفوسِ سلیمہ ایسی باتوں کو کبھی قبول نہیں کرسکتے، اگر کسی کو ایسی باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں، تو خود اس کے اندر زیغ ہے۔

(ب) ایسے شخص کے انتظام و انصرام میں چلنے والے مدرسہ میں بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے لئے بھیجنا فسادِ عقیدہ کے اندیشہ کی وجہ سے قطعاً جائز نہیں ہے۔

(ج) مسلمانوں کے لئے ایسے شخص کو مقتدا ماننا، اس کی تقریر سننا، تحریر پڑھنا اور دروس میں شریک ہونا نہ صرف یہ کہ ناجائز ہے، بلکہ ایمان کے لیے سخت خطرناک اور نقصاندہ ہے۔

(د) ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔

*گزشتہ چند سالوں میں دارالعلوم دیوبند کا یہ دوسرا فتوی ہے ( اس سےقبل انتشارپرمبنی بہت سےفتاوی مختلف ملی شخصیات کےخلاف جاری ہوا ہے ) جو اہلسنت والجماعت کے کسی عوامی رہنما کے خلاف جاری ہوا ہے اس سے پہلے تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کاندھلوی صاحب کے خلاف دارالعلوم دیوبند نے فتوی جاری کرتے ہوے انہیں اہلسنت والجماعت سے باہر نکالا تھا اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پر بھی دارالعلوم دیوبند میں پابندی عائد کردی گئی تھی اب دارالعلوم دیوبند نے عالمی دنیا میں مشہور و معروف دینی و روحانی رہنما اور دارالعلوم ندوۃ العلماء میں چالیس سالہ محدث رہے اور عالمِ ربانی و روحانی پیشوا سید شاہ نفیس الحسینی رحمہ کے خلیفہ اجل. جلیل القدر عالم دین مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ کے سفر و حضر کے ساتھی اور نواسے. امریکیت اور صہیونیت کے خلاف حق گوئ کے لیے مشہور جناب مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کو اہلسنت والجماعت سے خارج قرار دے دیا ہے واضح رہے کہ مولانا سلمان حسینی صاحب اب تک مسلسل اپنی زندگی کے ستر سال میں اہلسنت والجماعت کے ہردلعزیز ترجمان اور عالم عربی کے نوجوانوں میں مقبول ترین رہنما رہے ہیں*
سلمان حسینی ندوی صاحب نے گزشتہ دنوں صحابہ کرام کے آپسی اختلافات کے بارے میں اپنی رائے رکھنا شروع کی تھی جس پر کافی ہنگامہ ہوا جس کے بعد انہوں نے اس بحث کو بند کرتے ہوے عامۃ المسلمین سے معافی مانگی تھی توبہ ورجوع بھی کیاتھا اور اس طرح یہ موضوع بند ہوگیا تھا لیکن اب اچانک دارالعلوم دیوبند کا یہ فتویٰ سامنے آنے سے یہ بحث نئے سرے سے بھڑک اٹھی ہے ایک طرف دارالعلوم دیوبند کے فضلا اور جمعیۃ علمائے ھند سے وابستہ لوگ مولانا سلمان ندوی صاحب کو گمراہ ماننے پر اصرار کر رہے ہیں وہیں دارالعلوم ندوۃ العلما کے قدیم فضلاء اور مولانا سلمان حسینی صاحب کے بیشمار تلامذہ کی جماعت مولانا سلمان ندوی صاحب کے خلاف یہ فتوی مسترد کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مولانا سلمان صاحب کے دو تین نظریات جو سامنے آئے ہیں وہ فی نفسہ بالکل غلط ہوسکتے ہیں لیکن مولانا سلمان صاحب کے پیچھے نماز کا ناجائز ہونا ان کی ویڈیو سننے کو حرام کہنا اور ان کے تعلیمی اداروں اور جامعات پر پابندی لگانے کا فتوی یہ فتوے کا حصہ نہیں ہوسکتا اور اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔

دو بڑے عظیم اور تاریخی خانوادے کے قدآور رہنماﺅں کے خلاف جنہیں لاکھوں عوام اپنا مقتدا و رہنما مانتی رہی دارالعلوم دیوبند نے عوامی سطح پر ان کو فاسق و گمراہ قرار دینے کے فتوے جاری کر کے جہاں ایک طبقے کی نگاہ میں عظیم حق گوئ کا کام کیا ہے اور احقاق حق کی مثال قایم کردی ہے وہیں ایک طبقہ ان فتاوی کو مسلمانوں کے لیے نازک ترین مظلومیت اور باطل کی عسکری یلغار کے دور میں آپسی انتشار منافرت اور فرقہ واریت میں اضافے کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔
مولانا سعد کاندھلوی اور مولانا سلمان حسینی ندوی صاحبان کے خلاف دارالعلوم دیوبند سے جاری ہونے والے فتوؤں کی خاص بات یہ ہے کہ ان پر جمعیۃ علمائے ہند کے مولانا ارشد مدنی صاحب کی بھی دستخط ہیں جب کہ عام طور پر دوسرے فتاوی میں ان کی دستخط نہیں ہوا کرتی ہے۔