خوف کے وقت گھروں میں نماز تاریخ کے تناظر میں

115

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایک وقت ایسا آیا تھا کہ عبادت گاہوں میں صرف معدودے چند (مخصوص لوگوں)کوہی نماز کے لئے جانے کی اجازت تھی، بقیہ افراد کو گھروں میں ہی عبادت کرنے کاحکم تھا۔ مگر اب کے حالات سے وہ حالت یوں مختلف تھی کہ وہاں پر امتناع بحکم الٰہی تھا، اور اب کے حکمِ امتناعی حکومتوں کی طرف سے ہے۔

 

حضرت عبداللّٰہ ابْنِ عَبَّاس نے ﴿وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً﴾ کی تفسیر میں فرمایا: أمرُوا أَنْ يَتَّخِذُوهَا مَسَاجِدَ۔ یعنی موسیٰ علیہ السّلام کے ذریعہ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں کو بطور مساجد و عبادت گاہوں کے استعمال کرو۔

اور حضرت سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ نے حضرت إِبْرَاهِيمَ سے ﴿وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً﴾ کے متعلق روایت کیا ہے : كَانُوا خَائِفِينَ، فَأُمِرُوا أَنْ يُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ. چوں کہ اس ابتلاء سے بنی اسرائیل خوف و ہراس میں مبتلا تھے لہذا انہیں حکم ہوا کہ اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کرو۔

امت محمدیہ کے لئے پہلے سے ہی گھروں میں نماز ادا کرنے کی ہدایت موجود ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں سورة بقرہ کے فضائل کے تحت، ترمذی شریف کی ایک روایت میں بنی (علیہ السلام) کا فرمان ہے۔ ” لا تجعلوا بیوتکم مقابر ” اپنے گھروں کو قبروں کی طرح سنسان نہ بنا لو۔ بلکہ وہاں نمازیں بھی پڑھا کرو۔ پھر آگے سورۃ البقرۃ کی فضیلت بیان فرمایا “ وان البیت الذی تقرء البقرۃ فیہ لا یدخلہ الشیطن “ یعنی جس گھر میں سورة بقرہ کی تلاوت ہوتی ہو۔ وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا ۔

 

اور اسی کے ہم معنیٰ و ہم مفہوم باتیں حضرت مُجَاهِدٌ، اورأَبُو مَالِك، اور ربِيعُ بْنُ أَنَس، اورضَّحَّاك، اورعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، اور ان کے والد زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ نے کہی ہیں۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ -لَمَّا اشْتَدَّ بِهِمُ الْبَلَاءُ مِنْ قبَل فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ، وَضَيَّقُوا عَلَيْهِمْ، أُمِرُوا بِكَثْرَةِ الصَّلَاةِ۔

جب فرعون اور اس کی قوم کے ذریعہ ان(بنی اسرائیل)پر مصیبت بڑھ گئی اور ان پر شکنجہ کس دیا گیا تو انھیں بہت زیادہ نماز و دعا کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ﴾

 

سرِ مطلب: چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

‏وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًۭا وَٱجْعَلُوا۟ بُيُوتَكُمْ قِبْلَةًۭ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ‎

(سورہ یونس آیت نمبر ٨٧)

 

ترجمہ:

اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو کہ مقرر کرو اپنی قوم کے واسطے مصر میں سے گھر (ف:٨)

اور بناؤ اپنے گھر قبلہ رو اور قائم کرو نماز(ف:٩) اور خوشخبری دے ایمان والوں کو (ف:١٠)

 

تفسیر:

(ف :٨) حضرت شاہ (عبدالقادر)صاحب لکھتے ہیں۔ جب فرعون کی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو حکم ہوا کہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو ان میں شامل نہ رکھو اپنا محلہ جدا بساؤ کہ آگے ان پر آفتیں آنے والی ہیں۔ اس وقت تمہاری قوم ظاہری طور پر بھی آفتوں سے الگ تھلگ رہے۔

مفسرین نے ( تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا) سے مراد یہ لی ہے کہ اپنے مکانوں میں ٹھہرے رہو اور ان میں سے بعض کو عبادت کے لیے مخصوص کرلو۔

( ف: ٩ )فرعون نے مسجدیں اور عبادت گاہیں خراب کردی تھیں کوئی باہر نکل کر خدا کی عبادت نہ کرسکتا تھا۔ بحالت مجبوری حکم ہوا کہ مکان میں کوئی جگہ نماز کے لیے رکھو جو قبلہ رو ہو۔ نماز ترک مت کرو کہ اسی کی برکت سے خدا کی مدد آتی ہے (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ) ہجرت سے پہلے مکہ میں ایسا ہی حال مسلمانوں کا تھا۔

( ف:١٠) دنیا میں فتح و نصرت کی اور آخرت میں نجات و رضائے الٰہی کی۔

 

ازالۂ شبہات: یہ جو حکم ہوا ‘تبوّاٰ’ اس کا مقصود ترجمہ سے ظاہر ہوچکا ہے، پس یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ ان کے گھر تو پہلے سے مصر میں بنے ہوئے تھے پھر یہ کیوں حکم ہوا؟ اور ‘اجعلوا بیوتکم قبلۃ’ کا حاصل یہ ہے کہ اممِ سابقہ میں بجز مساجد کے اور جگہ نماز نہ ہوتی تھی، مگر خوف میں ان کو اجازت دی گئی، پھر اس میں بھی گھر کے ہر جزو میں درست نہ ہوگی بلکہ موقع معین کرنا پڑے گا اس بناء پر پھر بھی امتِ محمدیہ ان سے خصوصیت میں ممتاز رہی کہ ان کے لئے اس تعیین کی بھی حاجت نہیں۔ اور’اقیموا الصلوٰۃ’ کا حکم شاید اس طور پر ہوا ہو جیسے ارشاد ہے’استعینوا بالصبر والصلوٰۃ’ پس یہ تفصیل ہوجاویگی اس قول کی’ قال موسیٰ لقومہ استعینوا باللّٰہ و اصبروا’۔ اور یہ سب احکام آثارِ قبولِ دعاء سے اس لئے ہیں کہ’تبواُ الدار’ میں تشویشِ سفر سے بچالیا اور ‘اجعلوا بیوتکم’ میں خروج للصلوٰۃ جو سبب اظہار کا ہوتا ہے معاف کردیا اور’اقیموا الصلوٰۃ’ میں تدبیر نجات کی بتلادی اور ‘بشِّر’ میں وعدۂ نجات کرلیا اور ان سب میں اجابت کا دخل ظاہر ہے۔(ماخوذ از بیان القرآن)

ابوالحسنات قاسمی

دارالثقافہ، اسونجی بازار، گورکھپور