خوف کی چیز اللہ کے سامنے پیشی کی فکر ہے

111

خوف کی چیز اللہ کے سامنے پیشی کی فکر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افادہ عام از رشید الامت عارف باللہ حضرت مولانا عبدالرشید صاحب المظاہری شیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ یوپی
خلیفہ ومجاز بیعت حضرت فقیہ الامت رحمة اللہ علیہ

آج جو وباء پھیلی ہوئی ہے، اللہ تعالی ہر شخص کو اس سے بچائیں، سب کو اپنا حفظ وامان عطا فرمائیں؛ ہر ایک کو انسانیت کا احترام عطا فرمائیں۔
عام طریقے پر لوگ فو ن پر لوگ دعاؤں کےواسطے کہہ رہے ہیں، ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اموات بہت ہورہی ہیں، لوگ بہت سہمے ہوئے ہیں، ظاہر ہے کہ موت کچھ ایسی عجیب چیز ہی واقع ہوئی ہے؛ لیکن ساری دنیا کا انسان اسی بات کا قائل ہے کہ موت ہر ایک کو آنی ہے اور اس کے واسطےکوئی خاص عمر متعین نہیں ہے، ماں کے پیٹ سے لیکر پیدا ہونے تک اور پھر ہر عمر میں موت آتی ہے؛ البتہ ہر ایک کی موت کا وقت الگ الگ علم الہی میں متعین ہے نہ اس سے پہلے ہوسکتی ہے نہ اس سے مؤخر ہوسکتی ہے۔
اور اس وقت کا علم کسی کو نہیں ملک الموت کو جب حکم نامہ مل جاتاہے روح کو قبض کرلیتے ہیں؛ اب جو خوف اور سہم ہے اس کی حقیقت کیا ہے اور خوف کا انداز کیا ہونا چاہیئے یہ مستقل ایک مضمون ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی اس دنیا میں ہمشہ رہنے کے واسطے نہیں آیا دنیا ظل زائل ہے اور آخرت خیر اور ہمیشہ رہنے والی ہے ہمارا ایمان اور عقیدہ یہی ہے۔
امام ابوالقاسم قشیری فرماتے ہیں کہ خوف ایسی چیز ہے؛ جس کا تعلق مستقبل سے ہے انسان ڈرتا ہے کہ کوئی ناپسندیدہ حالت پیش آجائے گی۔ {مرض فقر وغیرہ} یاکوئی بیوی بچے عزیز قریب وغیرہ فوت ہوجائے گا یہ ایسی چیز ہے جس کا تعلق مستقبل سے ہے۔
اور ایک خوف اللہ تعالی سے ہےکہ دنیا یا آخرت میں سزا ہو جائے ،
اللہ تعالی سے خوف کرنا فرض ہے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: وَخَافُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُٔومِنِیْن {آل عمران ٧٥}اگر تم ایمان والے ہو تو مجھ سے ڈرو
اللہ سے ڈرنا مؤمن کی صفت ہے اور اس کی مدح سرائی بھی کی گئی ہے،
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے مَن بَکٰی مِنْ خَشْیَۃِ الّٰلہ غَفَرَ اللّٰہُ لَہٗ {٩٥١٢}جو اللہ کے خوف سے رویا اللہ نے اس کو بخش دیا۔
ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب تک لوگ خوف کریں گے صحیح راستہ پر رہیں گے خوف ہٹا راستہ گم ہوگیا، بشر حافی سے کسی نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ موت سے ڈرتے ہیں تو فرمایا: اللہ تعالی کے سامنے پیشی کا معاملہ بڑا سخت ہے۔
ابن فورک فرماتے ہیں کہ میں موت سے نہیں ڈرتا موت کے بعد آنے والے حالات سے ڈرتا ہوں، حضرت شبلیؒ سے سوال کیا گیا سورج بہ وقت غروب کیوں زرد ہوجاتا ہے تو فرمایا اس نے اپنی چال {دن بھر کی} پوری کرلیا اب رب کے حضور حاضر ہوگا{اور کل نکلنے کی اجازت لے گا}اس لیے رب کے سامنے پیش ہونے سے ڈر گیا اسی طرح جب مؤمن کے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ جاتا ہے تو وہ زرد ہوجاتا ہے:کیونکہ اب رب کے سامنے پیشی کا خوف اس کو ہوتا ہے پھر سورج جب طلوع ہوتا ہے تو خوب روشن ہوجاتا ہے اسی طرح مؤمن جب قبر سے اٹھے گا تو اس کا چہرہ خوب چمک دمک رہا ہوگا
ابو سلیمان دارانی فرماتے ہیں کہ جس دل میں خوف نہیں وہ ویرانہ ہے۔
ان بیانات سے معلوم ہوا کہ خوف کی حقیقت کیا ہے اور اس کا محل اور انداز کیا ہونا چاہئے:اگر ہم اعمال آخرت میں سست ہیں اور یاد الہی اور فکر آخرت سے غافل ہیں اللہ تعالی کے احکام کی پرواہ نہیں کرتے آزادانہ زندگی بسر کرتے ہیں تو یہ چیز انتہائی خطرناک اور خوف کی ہے اللہ کے نیک بندے تو اعمال آخرت کرتے رہتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں مگر اس کے ساتھ اللہ تعالی سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں عمل کے ساتھ امید کرتے ہیں محض خیالی امدیں نہیں پکاتےموت تو مؤمن کے لیے تحفہ ہے بندہ کو اللہ سے ملاتی ہے جو اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرے گا اللہ اس سے خوش ہو گا اور انعامات سے نوازے گا
مسلم شریف میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ کی قسم کھا کرفرمایا : کہ دنیا کی مثال آخرت کے مقابلہ بس اتنی ہے کہ کوئی دریا میں انگلی ڈالے اور دیکھ لے کہ کس قدر پانی لے کر انگلی لوٹتی ہے۔
حدیث پاک میں شکایت بیان کی گئی ہے کہ انسان بوڑھا ہوتا ہے اور اس کی دوعادتیں جوان ہوتی ہیں (١)مالک کی حرص (٢) عمر کی حرص
ہمارا ایمان تقدیر پر ہے تقدیر پر ایمان نے مسائل کو حل کر دیا جو واقعہ پیش آئے اللہ کی تقدیر کے حوالے کر کے صبر اختیارکریں۔
اللہ کی ذات پر اعتراض ہرگز نہ آوے دنیا مسافر خانہ ہے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی طرح ہے جس نے کسی طرف کے نیچے رک کے سایہ حاصل کیا اور پھر روانہ ہو گیا
اصل حقیقت یہی ہے کہ ظاہرہے کہ وبائیں بلائیں ہمارے آزمائش ہیں اور ہمیں اپنے گناہوں سے استغفار کرنا چاہئے ،اللہ تعالی سے تعلق مضبوط کرنا چاہئے موت سے پہلے موت کی تیاری کرنا چاہیے؛ اگر ہم نیک اور صالح رہے آخرت میں ہمارے اعمال کے لحاظ سے ہمارے ساتھ بر تاؤ ہوگا
موت لذتوں کو توڑنے والی چیزہے ہی عاقل وہ ہے جو موت کوکثرت سے یاد کراور اپنی آخرت کی کھیتی آبادکرے جس کا وقت آئےگا وہ جائے گا، آپ کی روح ہے جو موت کو کثرت سے یاد کریں اور اپنے آخرت کی کھیتی آباد کرے جس کا وقت آئے گا وہ جائے گا جو رہے گا اس کا کفیل اور روزی رساں اللہ ہے اللہ تعالی سے دعا کریں کہ اس مہلک مرض سے حفاظت فرمائیں۔
جو لوگ مبتلا ہے انہیں صحت عطا فرمائیں۔
اور ہم سب کو اپنی غضب اور غصے سے اپنی پناہ میں لے، پورے ملک میں امن و سکون کا ماحول پیدا فرمائے روزی اور عمر میں برکت عطا فرمائے
اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔