بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہومزبان وادبخوش گپیاں-ہوائی سفر

خوش گپیاں-ہوائی سفر

خوش گپیاں
ہوائی سفر
ڈاکتر محمد مجتبٰی احمد،دربھنگہ ،بہار
ویسے تو آج کل ہر کوئی ہوا میں اْڑتا ہے مگر میرے چند دوستوں نے جب سے ہوائی سفر کا مزہ چکھا تھا وہ میرے سر پہ سوار تھے کہ میں بھی ہوا کے دوش پر سوار ہو کر کار جہاں بینی کروں مگر میں ہوائی سفر کیا کرتا – اس کے نام سے ہی میرے چہرے پہ ہوائی اْڑنے لگتی تھی۔ وجہ یہ نہیں کہ میرا دل مضبوط نہیں تھا بلکہ حقیقت یہ تھی کہ میری جیب مضبوط نہیں تھی – میرے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ اگر ہوائی سفر کروں تو آخر کہاں کا سفر کروں؟ مجھے تو اپنے شہر کے سفر سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی – ایک ہی گلی کی سیر میں عمر عزیز کے کئی کئی سال گذار دینے کی عادت رہی تھی۔ مگر دوستوں کی ضد تھی کہ غیر ممالک جاؤں اور کچھ کام کروں تاکہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہو سکوں۔ ان کی نگاہ میں، میں آج تک نظموں، غزلوں، افسانوں، مشاعروں یعنی شعر و ادب کے پیر پہ کھڑا تھا۔ دوستوں کی صلاح پر میں نے ایک پنت دو کاج کرنے کا فیصلہ کیا – سوچا کہ چلو ہوائی سفر کا مزہ بھی چکھ لوں اور دو پیسہ بھی کما لوں۔ہوائی سفر کا فیصلہ کر نے کے بعد پاسپورٹ بنوایا۔ ادھر اْدھر بھاگ دوڑ کر دیار غیر میں کام بھی تلاش کر لیا اور پھر رخت سفر باندھنے کو جہاز کا ٹکٹ بھی خرید لیا۔ فلائٹ تواگلے ہفتہ تھی مگر ٹکٹ خریدنے کے فوراً بعد ہی میں نے زمیں پر ہی اْ ڑنا شروع کر دیا۔ وہ اس طرح کہ میں ہر وقت ان دوستوں سے ملنے لگا جو ہوا میں اْڑ چکے تھے یا اْڑنے کی ورزش کر رہے تھے – ہوائی سفر کا تجربہ رکھنے والے ایک دوست سے پوچھا کہ ‘ تم کب سے اْڑ رہے ہو، کب تک اْڑو گے اور کس طرح اْڑتے ہو؟ اسے میری باتوں پہ ہنسی آگئی اور وہ ہنستا ہوا بولاکہ میں غیر ممالک میں کام کرتا ہوں جس کی بنا پر اْڑنا پڑتا ہے – مزید اس نے ہوائی سفر کے ادب آداب کے سلسے میں یہ بتایا کہ فلائٹ کے مقررہ وقت سے تین گھنٹہ پہلے ایئرپورٹ پہنچنا ہوتا ہے جہاں مسا فروں کے جسم کی تلاشی ہو تی ہے پھر سامان کا ایکسرے ہوتا ہے حتی کہ ان کے جوتوں کی بھی اکیسرے کے ذریعہ خبر لی جاتی ہے پھر جہاز کے اندر جانے کی اجازت ملتی ہے۔ میں نے کہا کہ خدا کے فضل سے مجھے کبھی اپنا ایکسرے کرانے کی ضرورت نہیں پڑی پھر سامان اور جوتے کا ایکسرے کیا معنی۔ کیا سامان اور جوتے ایئرپورٹ پہنچ کر بیمار ہو جاتے ہیں؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عہد نو میں مسافر نوازی کے یہی طریقے ہیں۔بہر حال ہوائی سفر کے بہت سارے آداب سیکھ کر یوم مقررہ کو وقت مقررہ سے تین گھنٹہ قبل میں ایک دوست کے ہمراہ ایئر پورٹ پہنچ گیا – لیکن یہ کیا یہ ایئرپورٹ کم اور پولیس چھاو?نی زیادہ تھا – پولیس والے اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ مجھے تو پسینہ آگیا۔میں نے دوست سے پوچھا کہ کیا جہاز میں سارے خطر ناک لوگ ہی سفر کرتے ہیں کہ اس قدر پولیس کی ضرورت ہوتی ہے – اس نے بتایا کہ جہاز میں بہت اہم لوگ بشمول رہنمایان قوم زیادہ سفر کرتے ہیں لہٰذا پولیس ان کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے – میں نے پوچھا کہ کیا سارے اہم لوگ پولیس کے پیروں سے ہی چلتے ہیں؟ اگر ساری پولیس ان کی حفاظت میں ہی لگی رہے گی تو پھر ملک و قوم کی حفاظت کیسے ہو گی؟ اس نے کہا کہ اگر سارے اہم لوگوں کی نگہبانی ہو جاتی ہے تو ملک محفوظ ہے – عام لوگ ہر جگہ محفوظ ہوتے ہیں – وہ ایسا کچھ نہیں کرتے کہ پولیس ان کی خاطر کرے۔ ابھی ہم لوگ خوش گپیوں میں ہی لگے تھے کہ جہاز میں داخل ہونے کا اعلان ہو گیا اور میں ہوا میں ہاتھ لہراتا ہوا جہاز میں داخل ہو گیا۔ کچھ لڑکیاں لبوں پہ تبسم سجائے مسافروں کو ان کی مقررہ نشستوں پر پہنچا رہی تھیں – جب سارے مسافر بیٹھ گئے تو ایک لڑکی بیچ راستے میں کھڑی ہو کر ہاتھ کے اشاروں سے کمر کس کر بیٹھنے اور بوقت مشکل جہاز سے باہر چھلانگ لگانے کا طریقہ بتانے لگی – مجھے ہاتھ کے اشاروں سے سمجھنے کی عادت نہیں تھی سو میں نے سوال کیا کہ کیا آپ چھلانگ لگا کر دکھا سکتی ہیں؟ لیکن اس کے جواب سے قبل ہی تیز آندھی شروع ہو گئی جو لمحہ بہ لمحہ تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی – پھر اگلی صبح تک کے لیے فلائٹ کے ملتوی ہونے کا اعلان ہو گیا اور ہم مسافروں کو ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پہنچا دیا گیا – میں پہلی بار کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں گیا تھا – لہذا میں بہت شوق سے ان ستاروں کو تلاش کرنے لگا جن کی بدولت اسے پانچ ستارہ ہوٹل کہا جاتا ہے مگر مجھے چھلکتے جام اور ناچنتے لوگوں کے علاوہ اور کچھ نہ ملا – مجھے لگا کہ اگر فقط ناچ گانے ہی پانچ ستارہ ہونے کی شرط ہیں تو پھر اب سارے شہروں کو کیا اس دنیا کو ہی پانچ ستارہ دنیا کا درجہ دے دینا چاہیے – بہر حال رات ڈھل رہی تھی – نیند آنکھوں سے دور تھی معاً دل میں یہ خیال آیا جب سفر کی ابتدا ہی آندھی سے ہوئی ہے تو آگے بجلی بھی گرے گی۔ لہذا صبح ہونے سے قبل ہی میں ہوٹل سے نکل کر اپنے شہر کی بس پر سوار ہو گیا -دوستوں نے مجھے دیکھ کر کہا کہ تم شعر وادب سے وابستہ لوگ ہوائی سفر کا پروگرام بنانے کی جگہ ہوائی قلعہ بنایا کرو۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے