خطۂ میوات میں ان کی الگ پہچان تھی

58

خادم قرآن و سنت حضرت رمضان تھے,
صاحب زہد و قناعت, نیک دل انسان تھے.
———————
یاد مولی مشغلہ تھا, پیکر احسان تھے,
دلربا اطوار ان کے,صاحب ایمان تھے.
———————
سب کے دل میں ان کی چاہت کیا نرالی شان تھی,
خطۂ میوات میں ان کی الگ پہچان تھی.
———————
غمگسار قوم و ملت, داعئ حق باوفا,
گلشن میوات کے وہ تھے گل صدق و صفا.
———————
رب کا منظور نظر وہ تھے خطیب باکمال,
صاحب علم و عمل, فضل و کرم میں بے مثال.
———————
فکر امت آپ کو تھی خوب تر جذبات تھے,
آپ کے دم سے تو ویرانے بہت آباد تھے.
———————
قوم کے ہمدرد تھے حضرت بہت سادہ مزاج,
غمزدہ میوات سارا ان کی رحلت سے ہے آج.
———————
فیض پاتا ہے علاقہ آپ کی خدمات سے,
آپ کا رشتہ جڑا تھا ازہر میوات سے.
———————
آپ کو صحبت ملی تھی مفتئ میوات کی,
آپ کو شفقت ملی تھی قاطع بدعات کی
———————
مغفرت فرما خدایا حضرت رمضان کی,
روح کو تسکین دے تو حامل قرآن کی.
———————
چشم نم, پرسوز دل حیدر کی ہے رب سے دعا,
آپ کا نعم البدل میوات کو کردے عطا.
———————
3/10/2020, بروز ہفتہ,
———————-
بقلم
مولانا یوسف عباس حسنی ندوی میواتی
———————–
پیش کردہ محمد مبارک میواتی آلی میو