بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتخطبہ صدارت: جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب قاسمی صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ...

خطبہ صدارت: جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب قاسمی صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار

خطبہ صدارت
بموقع: اجلاس مجلس عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار
شاخ:- کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند
منعقدہ: مورخہ 19 ربیع الثانی 1443ھ مطابق 25 نومبر 2021ء بروز جمعرات
از: ( مولانا) مرغوب الرحمن قاسمی، صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار،ومعاون مہتمم جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد:
حضرات گرامی ! ہم آپ کے بے حدشکرگذارہیں کہ آپ نے ہماری دعوت قبول فرماکرسفرکی زحمتوں اورصعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے آج مورخہ : 25نومبر2021ء ،مطابق19ربیع الثانی 1443ھ کے رابطہ مدارس اسلامیہ بہارکے اجلاس عمومی میں شرکت فرمائی،اللہ تعالیٰ آپ کو اجرجزیل عطافرمائے۔اورآمدکوقبولیت سے نوازے۔آمین
حضرات ذی وقار! اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ہم تمام کو علم دین کے حصول کی توفیق عطاء فرمائی اورعلماء کے زمرہ میں شامل فرمائی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کاقول ہے:درجات العلماء فوق المومنین بسبع مائۃ درجۃ،مابین الدرجتین خمس مائۃ عام۔علماء کا درجہ مومنوں پر سات سودرجات بڑھے ہوئے ہیں۔دودرجوں کے درمیان کافاصلہ پانچ سوسال کاہوگا۔حدیث شریف میں ہے حضرت ﷺنے فرمایا:عالم کی فضیلت عابدپراس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ جس قدرمیری فضیلت تم میں سے ادنی سے ادنی پر۔قیامت کے دن انبیاء شفاعت کریں گے ،پھرعلماء، پھرشہداء، نیزقیامت کے دن علماء کی روشنائی اورشہداء کے خون کاوزن کیاجائیگاتوعلماء کی روشنائی کاوزن شہداء کے خون پر بڑھ جائیگا۔ایک روایت میں ہے: اقرب الناس من درجۃ النبوۃ اہل العلم نبوت کے درجات کے سب سے زیادہ قریب اہل علم ہونگے۔
ہندوستان میں ایسٹ انڈیاکمپنی کے اثرونفودنے ہندوستان کی علمی دنیاکونیست ونابودکردیاتھاجس کی وجہ ڈاکٹرسیدمحمودکے الفاظ میں یہ تھی کہ تجارت اوردیگرذرائع سے ہندوستان سے زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کریں۔اس سے وہ اہل ہندکوتعلیم نہ دیناچاہتے تھے۔
تذکرہ شیخ الہندمیں ایک جگہ لکھاہے کہ وارن ہٹنگیزنے سنسکرت کالج کھولابنارس میں،نیزانگریزی کالج کھولاگیاکلکتہ میں ،ہندوکالج کھولاگیاپونامیں، اورآگرہ کالج کھولاگیاآگرہ میں۔ جہاں تک مسلمانوں کاتعلق ہے وہ معافیات 1828ء میں ضبط کرلی گئی جو مسلمان نوابوں نے مسلمانوں کی تعلیم کیلئے دی تھی۔وقف ہگلی کا بے جا استعمال کیاگیا۔یہ وقف 1806ء میں کیاگیاتھا،لیکن گورنمنٹ نے واقف کی مرضی کے خلاف انگریزی کالج بنادیااورمسلمانوں کونہ صرف اس کے انتظام سے بلکہ اس کی تعلیم سے بھی محروم کردیا۔بقول ہنٹر اس کے تین سوطلبہ میں صرف تین مسلمان تھے ۔ 7مارچ1835ء لارڈولیم ہنٹنگ نے ایک حکم جاری کیاکہ تعلیم عامہ اوروظائف کا کل روپیہ صرف انگریزی تعلیم پرصرف کیاجائے ۔جس کے معنی یہ تھے کہ کلکتہ کی امدادکے طورپرمسلمانوں کوجوامدادملتی تھی وہ بھی بندہوگئی۔ان ہی دونوں میں لارڈمیکالے نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا:ہمیں ایسی جماعت بنانی چائیے جوہم میں اورہماری کڑوروں رعایاکے درمیان مترجم ہواوریہ ایسی جماعت ہوناچائیے جو خون ورنگ کے اعتبارسے توہندوستانی ہومگررائے اورمذاق کے اعتبارسے انگریزہو۔لارڈمیکالے نے اپنے والدکوایک خط میں لکھاتھا:اس تعلیم کااثرہندوں پربہت زیادہ ہے،کوئی ہندوجوانگریزی داں ہے کبھی اپنے مذہب پر صداقت کے ساتھ قائم نہیں رہتا۔بعض لوگ مصلحت کے طورپرہندورہتے ہیں ، مگربہت سے یاتوموحدہوجاتے ہیں یامذہب عیسوی اختیارکرلیتے ہیں۔ میراپختہ عقیدہ ہے اگرتعلیم کے متعلق ہماری تجویزپرعمل کیاگیاتوتیس سال بعدبنگال میں ایک بت پرست بھی باقی نہ رہے گا۔
بہرحال ہرممکن کے طریقے سے مسلمانوں کوعیسائی بنانے کی تدابیراختیارکی گئی۔اُدھرتوحکومت کی یہ پالیس تھی کہ ہندوستان سے اسلام کی جڑوں کو کھودکرباہرپھینک دیاجائے،جیساکہ دوسری طرف مسلمان اقتصادی بدحالی کاشکارتھے،ان کے اوقاف ومدارس تباہ ہوچکے تھے،حدیہ تو ہے کہ دلی کی آخری درسگاہ بھی ختم ہوگئی تھی۔اُس وقت کسی ایک مدرسہ کاقیام بھی پہاڑسے جوئے شیرلانے سے کم نہ تھا۔مسلمانوں میں اتنادم کہاں تھاکہ اپنے بچوں کی تعلیم کاانتظام کریں۔ان کے املاک وجائدادیں تباہ ہوچکی تھی،بڑے بڑے رؤساءنان شبینہ کے محتاج تھے۔ایسی حالت میں کس طرح قیام مدارس ہوتا،اورکہاں سے طلبہ فراہم ہوتے۔جبکہ دینی تعلیم دلانااوراسلامی مدارس کھولناحکومت کے پلان کے بھی خلاف تھے۔چنانچہ انہوں نے ہمت نہ ہاری اورعملی طورپرحکومت کے پلان کوچیلنج کردیا،اس وقت کے حالات کے مطابق حضرت مولانا رشیداحمدکنگوہیؒ نے فرمایاہے: جب تک مولوی قاسم موجودتھے مجھ کویقین تھاکہ پہلے یہ ہماراسرکٹوائیں گے ،پھراپنا۔
ایسے حالات میں حضرت نانوتویؒ نے اعلان کیا:اے مسلمانوں!ہمیں صرف تمہاری اولادیںدرکارہیں،ہم ان کی ضروریات زندگی، تعلیم وکتابوں اوراساتذہ کا انتظام کریں گے،ہم تم سے اورکچھ نہیں چاہتے۔چنانچہ حضرت مولاناؒ کی آوازلوگوں نے سنااورجگہ بہ جگہ مدارس قائم ہوئے۔سب سے پہلے 1283ھ مطابق 1866ء میں دیوبندمیں چھتہ مسجدمیں چندعلماء نے ملک کرایک مدرسہ قائم کیا۔چندہی سالوں میں دارالعلوم نے حیرت انگیزکامیابی حاصل کی،پورے دنیامیں اس کے چرچے ہونے لگے اوردیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان بھرمیں مدارس اسلامیہ کاجال بچھ گیا۔
ان تمام اداروں کا نصب العین اور نصاب و منہاج دارالعلوم دیوبندسے مختلف نہیں تھا؛ان کے بیچ باہمی ربط وتعلقات قائم تھے، لیکن دارالعلوم کی تا سیس کے ابتدائی ایام میں اس ربط کے اظہارمیں بڑے بڑے خطرات تھے۔دشمان اسلام؛ مسلم علماء کے ساتھ جو وحشت ناک سلوک کررہے تھےاس کاتقاضایہی تھاکہ ابھی اس ربط کا اظہارنہ ہو،اوراسی کے ساتھ اسلاف واکابرمیں سے حضرت حاجی امداللہ مہاجرمکیؒ،حضرت مولانامحمدقاسم نانوتویؒ ،حضرت مولانا رشیداحمدگنگوہیؒ،شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ وغیرہم جیسی عظیم شخصیتوں سے لوگوں کا باہمی ربط تھا،اس لئے ابتدائی ایام میں رابطہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی؛لیکن جوں جوں زمانہ گذرتاگیا اوربڑے اکابر دنیاسے رخصت ہوتے گئے،تعلیم وتربیت میں انحطاط آنے لگا، تو دارالعلوم دیوبندکی مجلس شوریٰ نے’’ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ‘‘ کے قیام کا فیصلہ لیا،تمام ریا ستو ں میں شاخیں قائم فرمائیں۔
2007ء میں اس کی ایک شاخ ’’رابطۂ مدارس اسلامیہ بہار‘‘ قائم ہوئی اور ریاست بہار کی صدارت کیلئےحضرت مولانامحمدقاسم صاحب ؒکو منتخب فرمایا۔ انہوں نے اپنے استاذ محترم حضرت مولاناسیدارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم استا ذ حد یث دارالعلوم دیوبندوصدر جمعیۃ علماء ہنداور جناب مولاناشوکت علی صاحب قاسمی ،بستوی ناظم کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کو مدعو کرکے اراکین ، مجلس عاملہ، اور ذمہ داران رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کی تشکیل بھی کرائی ۔
جناب حضرت مولانا،قاری سید محمدعثمان صاحب ؒسابق استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، سابق صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایات اور مشورہ سے ریاست بہار کے اضلاع کا دورہ کیا،اوراس کی شاخیں قائم کیں، اور اس کی رپورٹ دفتر کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبندکو بھیجتارہا۔
حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ سابق صدررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکے انتقال پرملال کے بعداکابرین دارالعلوم نے مجھے ذمہ داری سونپی،اس کے بعدمورخہ26اگست2021ء کومجلس عاملہ اورمدعوئین خصوصی کی ایک مشاورتی نشست بلائی،جس میں کئی اہم فیصلے لئے گئے۔نائبین صدر،جنرل سکریٹری کاانتخاب عمل میں آیا،تجویزکے مطابق تشکیل جدیدکی طرف توجہ دی،الحمدللہ 14اضلاع میں تشکیل جدیدہوگئی ہے۔بقیہ اضلاع کیلئے کوشس جاری ہیں۔
مدارس اسلامیہ کے داخلی نظام کومستحکم کرنے کی ضرورت:
اس بات کوہرشخص سمجھتاہے کہ مدارس اسلامیہ کے فرائض کی تکمیل اسی وقت ممکن ہے جب مداررس کانظام درست ہو،نظام کی درستگی ہم سب کی توجہ کی سب سے زیادہ مستحق ہے۔کل ہندرابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے ناظم عمومی وارام المدارس دارالعلوم دیوبندکے استاذحضرت مولاناشوکت علی قاسمی بستوی اپنی کتاب دارالعلوم دیوبند اورمدارس اسلامیہ میں مدارس اسلامیہ کے حوالہ سے بہت ہی جامع اورمفیدبات بیان فرمائی ہے۔افادہ عام کی غرض سے نقل کیاجارہاہے۔فرماتے ہیں:
اس سلسلے میں چندامورکالحاظ ضروری ہے:
(1)مدارس میں شورائی نظام کو پوری دیانت داری کے ساتھ نافذ کیاجائے۔
(2)اساتذہ وملازمین کی تنخواہوں کامعیارمناسب رکھاجائے،جس سے کم ازکم درمیانی اندازمیں کارکنان کی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔
(3)ذمہ داران مدارس اپنے عملہ کے ساتھ اچھابرتاورکھیں،ان کی عزت نفس کاخیال رکھیں اوراخلاقی تقاضوں کونظراندازنہ کریں۔
(4)مدارس کاحساب بالکل شفاف رکھاجائے اورآڈٹ کرانے کااہتمام کیاجائے۔
(5)مدارس کے رجسٹریشن اورجائدادوں کے کاغذات کی تکمیل ضابطے کے مطابق پوری ذمہ داری کے ساتھ کرائی جائے۔
(6)باصلاحیت اورمحنتی اساتذہ وکارکناکی حوصلہ افزائی کی جائے۔
اپنے فرائض کی تکمیل میں دوتین کام اورتوجہ کے مستحق ہیں:
(1)ہرمدرسہ اپنے دائرہ کارمیں ضرورت کے مقامات پرمکتب کانظم کرے۔
(2)حسب ضرورت اپنے اساتذہ اورمقامی علماء وائمہ مساجدکوضروری موضوعات،خصوصاًفرق باطلہ کے تعاقب کی تربیت دینے کیلئے پروگرام یاتربیتی کیمپ کااہتمام کیاجائے۔
(3)نئے مدرسین کی تدریسی تربیت پربھی توجہ دی جائے،نوآموزاساتذہ کاتقررہوتوقدیم اورباصلاحیت اساتذہ کے زیرنگرانی ان کی تربیت کی جائے۔
ارباب مدارس کیلئے قیمتی نصائح:
(1)عظمت طلبہ بالخصوص طلبہ قرآن شریف کازیادہ اہتمام کرنا۔
(2)ان کے ضیف رسول ہونے نیزمجاہدفی سبیل اللہ ہونے کااستحضاررکھ کرمعاملات کرنا۔
(3)دوسرے معاونین وارکان بالخصوص اساتذہ سے حسن ظن رکھنا۔
(4)فیصلہ اگرمشورہ کے خلاف ہوتوبھی تعاون کرنا۔
(5)ایسے اقوال وافعال سے احتیاط رکھناجس سے طلبہ واساتذہ کی بے وقعتی یابے عزتی یاشکایت عوام کے سامنے آئے۔
(6)طلبہ کو مریض،اساتذہ کومعالج اورخودکوتیماردارسمجھ کر معاملہ کرنایاسمجھنا۔
(7)طلبہ کی صحت جسمانی کیلئے مناسب ورزش کاانتظام کرنا۔
(8)ان کے علمی وعملی امتیاز(مثلاًاوسط سے اوپرنمبرلانے اوراہتمام تکبیراولیٰ،تعدیل ارکان،نمازباجماعت)پرانعامات تجویزکرنا۔
(9)امتحان وجانچ باہرکے ماہرتجربہ کاراستاذسے کراناگوصرفہ کتناہی ہو،اس سے عمدگی تعلیم میں مددملے گی۔
(10)شکایات طلبہ واساتذہ عمومی پرکوئی اثرنہ لینا،البتہ شکایات خصوصی پرفریق متعلق سے دریافت وانکشاف حقیقت کے بعدفیصلہ کرنا۔
(11)بیمارطلبہ کی خاطر،دیکھ بھال ودل جوئی وراحت رسانی کااہتمام کرناجس میں ضروری علاج ومعالجہ بھی شامل ہے۔
(12)حفاظ کیلئے وظیفہ میں گنجائش رکھنا۔
(13)تکمیل حفظ پرانعام خصوصی مقررکرنا۔
(14)صفائی ستھرائی مدرسہ ودارالاقامہ کااہتمام کرنا۔اوراکثربلااطلاع معائنہ کرنا۔
(15)جن اساتذہ میں صحت مطلوبہ کی کمی ہو،یعنی قرآن مجیدیاتجویدپڑھنے کی ادارہ کے مصاف پرپورکرنا۔
(16)اساتذہ کے ذمہ طلبہ کاسبق سننالازم کرنا۔
(17)ادعیہ اوقات متفرقہ کی نگرانی کانظم قائم کرنا۔
(18)نمازسنت کے موافق پڑھانے کاانتظام تجویزکرنا،کسی نگراں کی نگرانی میں۔
(19)زیادہ بہتریہ ہے کہ اساتذہ کونگرانی کیلئے مقررکرنا۔
(20)وظیفہ نگرانی متفرق خدمات،الگ سے تجویزکرنا۔
(21)مدرسے کی ظاہری تعمیروتزئین کے مقابلہ میں عمدگی تعلیم کوترجیح دینا،مدرسے میں اولاًصرف ضروری باتوں کومقدم رکھاجائے،پھرعمدگی تعلیم کے بعدمناسب تزئین کی طرف توجہ فرمائی جائے۔
(22)کسی کی فہمائش(خواہ وہ طالب علم ہی کیوں نہ ہو)پرغلطی وکوتاہی ظاہرہونے پراس کاممنون ہونااوراس غلطی وکتاہی کی تلافی کرنا،اگرکسی کاحق فوت ہواہوتواس سے معذرت کرنا۔
(23)معلمین قاعدہ وناظرہ وحفظ(وغیرہ)کامشاہرہ معقول مقررکرنا۔
(24)ایسے اساتذۃ کومعلمین مقررکرناجونصاب مدرسین کی تکمیل کئے ہوئے ہوں۔
(25)تقررکے وقت نصاب مدرسین کے موافق جانچ کرانااگرچہ سندتکمیل نصاب مدرسین بھی موجودہو۔(بعض اوقات صلاحیت حاصل شدہ بے فکری سے کم ہوجاتی ہے۔)
(26)بروقت داخلہ طلبہ قرآن پاک میں امتحان کرانا۔
(27)تصحیح مطلوب کی کمی پرتصحیح قرآن مجیدکیلئے وقت مقررکرانا۔
(28)اجتماع طلبہ،جلسہ اوروعظ میں تدویراًوحدراًطلبہ سے قرآن شریف پڑھوانا۔
(29)قواعدتجویدکے موافق سنانے پرانعام کادیاجانا۔
(30)تصحیح قرآن شریف کی ناکامی پروظیفہ کابندکرنااوردرجے کی ترقی سے محروم کرنا۔
(31)حسب ضرورت اساتذہ کواشرف التہیم یارحمۃ المتعلمین کے مطالعے کی تاکیدکرنااورتکمیل نصاب کرانا۔
مدرسہ میںاہل کمال مدرسین کے تقررکی ضرورت:
حکیم الامت حضرت تھانویؒ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:مدرس جتناکم تنخوا ہ پرمل جائے اس کو مہتمم اپنی کارگزاری سمجھتے ہیں،مقصودیہ ہوتاہے کہ مدرسین کی تعدادبڑھالیں،خواوہ وہ فارغ التحصیل بھی نہ ہو،بس تماشائیوں کودکھلادیاکریں گے کہ ہمارے مدرسہ میں اتنے مدرسین ہیں۔صاحبو!اہل کمال توکسی فن کے بھی سستے نہیں آتے،ویسے مدرسین سے اصل غرض تعلیم میں تخفیف ہوتی ہے۔
معیارتعلیم وتربیت اورداخلی نظام بہتربنانے کی ضرورت:
مجلس عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ بہارکایہ اجلاس تمام مدارس اسلامیہ کواس طرف متوجہ کرناضروری سمجھتاہے کہ تعلیم وتربیت کی عمدگی مدارس کی روح ہے اورنظام کی بہتری اس کیلئے شرط ہے،مدارس کامقصدایسے رجال کاتیارکرناہے جوکمال علم وعمل سے متصف اورخشیت وانابت کی کیفیت سے مزین ہوں،جن کی دین سے وفاداری ہردنیوی مفادسے بالاترہواورجواپنے علمی رسوخ،عملی پختگی اوراخلاقی پاکیزگی کی بناپرملی اسلامیہ کی بہترین رہ نمائی کرسکیں۔
ظاہرہے ایسے افرادکی تیارکیلئے تعلیم وتربیت کی عمدگی حددرجہ ضروری ہے،اس مقصدکیلئے ضروری ہوگاکہ تعلیم وتربیت کومدرسے کے نظام میں مقصدکی حیثیت سے اہمیت دی جائے،باصلاحیت اورمحنتی اساتذہ کاتقررکیاجائے،طلبہ کی بھرپورعلمی وعملی تربیت کانظام بنایاجائے اورمدرسے کاماحول ایسابنایاجائے کہ دیکھنے والے کو پہلی نظرہی میں ایک علمی اوردینی مہذب معاشرہ کاعکس نظرآئے ،ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ مدرسے کاداخلی نظام بہتربنایاجائے،اساتذہ وطلبہ کے ساتھ بہترین طرزعمل اختیارکیاجائے،حوصلہ افزائی کیلئے علمی وعملی کارگزاری کومعیاربنایاجائے،مالیاتی نظام کوشرعی وقانونی پہلوؤں سے شفاف رکھا جائے، نظام کی عمدگی کاایک اہم حصہ امتحانات کامعیاربہتربناناہے،اس پرسنجیدگی سے توجہ دی جائے،مجموعی اعتبارسے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبندکے طے کردہ نظام تعلیم وتربیت اورضابطہ اخلاق کونافذ کیاجائے۔
مدرسہ کاحساب ہرشخص لے سکتاہے:
فقیہ الامت حضرت مولانامفتی محمودحسن گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ مدرسہ کسی کی ذاتی ملک نہیں،قوم کے چندے سے چلتاہے،اس لئے قوم کے ہرفردکوحساب لینے کاحق ہے،اس لئے ذمہ داراورمنتظم کوکسی کی طرف سے حساب کامطالبہ کرنے پرناراض نہ ہوناچائیے۔(ملفوظ محمودج:2)
ان گذارشات پراللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطافرمائے۔آمین

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے