ہومبریکنگ نیوزخدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را*۔۔۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را*۔۔۔

*خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را*۔۔۔

تاثرات:محمداطہرالقاسمی
نائب صدر جمعیت علماء بہار
15 جنوری 2023
_________________________
اسلام پور پورنیہ کے مایہ ناز استاذ گرامی اور بزرگ صفت عالم دین حضرت مولانا حسین احمد صاحب قاسمی(کوروڈیہ بھاگل پور) اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
انا للہ و انا الیہ رجعون۔
حضرت مولانا اپنے زمانے کے صاحب نسبت بزرگ عالم دین تھے،وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔
موجودہ صدر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب قاسمی کے عم محترم اور سابق صدر جمعیت علماء بہار حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نوراللہ مرقدہ و موجودہ جنرل سکریٹری جمعیت علماء بہار حضرت مولانا محمد ناظم صاحب قاسمی کے پھوپھا زاد بھائی تھے۔
پورنیہ کے قدیم ادارہ مدرسہ انوار العلوم اسلام پور کے وہ قدیم ترین استاذ بلکہ استاذ الاساتذہ تھے،موصوف کوروڈیہ بھاگل پور سے یہاں آئے تو یہیں کے ہو کر رہ گئے۔جب آپ کا ریٹائرمنٹ ہوگیا تو خدام مدرسہ اور مسلمانان علاقہ نے انہیں واپس وطن لوٹنے سے روک لیا اور عرض کرنے لگے کہ آپ کے بغیر یہ ادارہ اور یہ علاقہ نہیں رہ سکتا،آپ کو یہیں رہنا ہوگا،حضرت مولانا نے بال بچوں اور وطن عزیز کی محبت کو قربان کردیا اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
حضرت مولانا انتہائی سادگی پسند،عاجز و مسکین،علم کے ساتھ حلم کے پیکر،متانت و سنجیدگی کے نمونہ،پابند شریعت،کشادہ دل و کشادہ ظرف،عزیزوں اور طلبہ پر حد درجہ مہربان،متعلقین کے لئے بےانتہا شفیق و محسن،بلند پایہ عالم اور یادگار اکابر و اسلاف تھے۔
جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کے تدریسی زمانے (2002-2006) میں مولانا مرحوم سے ہمیشہ ملاقات ہوتی تھی،وہ بحیثیت ممتحن وہاں تشریف لاتے تھے۔سبل پور سے سبکدوشی کے بعد بھی حضرت مولانا ہمیشہ شفقت فرماتے رہے،
عاجز سے بڑی محبت فرماتے،انہیں پورنیہ کے ساتھ ارریہ سے بھی بڑی محبت تھی،بطور خاص ہمارا سسرالی علاقہ ہرپور،شکریلی،گریا،چکنی وغیرہ ہمیشہ تشریف لاتے تھے،یہاں ان کے کافی شاگرد تھے،میرے عقد نکاح (2003) میں حضرت مولانا محمد ناظم صاحب قاسمی اور حضرت مولانا محمد رفیع بھاگل پوری کے ساتھ حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف لائے تھے اور بڑی دعاؤں سے نوازا تھا۔
درمیانی قد،ہاتھ میں عصا،چہرے پر عینک،پیشانی پر کشادگی اور وجیہ چہرے پر مسکراہٹ کی لکیریں ایسی ہوتی تھیں کہ دل موہ لیتی تھیں۔
خیر مولانا تو اب نہیں رہے بس ان کی یادیں ہی رہیں گی،یاد کرنے اور رکھنے والے بھی ان کے ہزاروں ہوں گے لیکن ان کے چلے جانے سے میرے دل پر جو غم و الم کا احساس ہورہاہے اسے تو بس خالق کائنات ہی دور کرسکتا ہے۔
طبیعت خوب اچھی نہیں ہے ورنہ جنازے میں ضرور شرکت کرتا،صبح ان کے ہونہار بھتیجے اور اپنے والد گرامی حضرت مولانا عبد الخالق صاحب قاسمی کی خوبصورت یادگار جو اپنے اس بزرگ چچا کے بھی صحیح پرتو ہیں یعنی حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم سے بھی گفتگو ہوئی۔
خیر آج ہفتوں کی ست لہری کے بعد ہمارے بچے مدرسہ حاضر ہیں،بچوں کے ساتھ ایصال ثواب کا اہتمام کرلیتے ہیں اور حضرت مولانا مرحوم کے ساتھ کل یہاں ارریہ میں تین بڑے جنازے ہوئے،آزاد اکیڈمی شہر ارریہ کے ہردالعزیز پرنسپل الحاج عبد المنان صاحب،بھنسیا کے رفیق گرامی حضرت مولانا عبد الودود قاسمی صاحب اور بھنگیہ کے ماسٹر رضوان احمد صاحب، جملہ مرحومین کے لئے دعائیں کرلیتے ہیں۔
مولانا علیہ الرحمہ کے جملہ متعلقین کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے اپنے لئے بھی دعاؤں کا طالب ہوں۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے