خدارا اب اسکول کھول دیجئے!!

31

تحریر :خورشید انور ندوی
آمد ورفت کے وسائل کی مکمل کشادگی کے سوا، سب کچھ کھل چکا ہے.. جوکچھ علانیہ انتظام کے تحت نہیں کھلا ہے وہ بھی عملی طور پر پوری طرح کھل چکا ہے.. بازار میں گہماگہمی ہے، پرائیوٹ گاڑیاں سڑکوں پر چل رہی ہیں صرف پبلک ٹرانسپورٹ پر کچھ پابندیاں ہیں.. وہ بھی بین ضلعی کھل چکی ہیں.. صنعتی پیداواری یونٹس پہلے مرحلے سے ہی مرحلہ وار کھل چکی ہیں.. مزدور اپنے کام کے مقام پر واپس جاچکے.. سوائے ان کے جن کی نوکریاں چلی گئی ہیں، وہ بھی نئی منزل کی تلاش میں نکل چکے ہیں.. لیکن اسکولوں کی کشادگی میں غیر سنجیدگی کی حد تک تاخیر کی جارہی ہے.. پرائمری اور اپر پرائمری کا بیحد نقصان ہوچکا ہے.. چھوئی کلاسوں کی اون لائن تعلیم بھی ایک چیلنج رہی اور طلباء نہیں کے درجہ میں استفادہ کرسکے.. اب اسکول کی کشادگی میں تاخیر مناسب نہیں.. وقفہ کم کردیا جائے.. اسکول شفٹوں میں کردیا جائے.. احتیاطی تدابیر کا لائحہ عمل طے کردیا جائے.. عارضی طور میڈیکل سہولتوں کے ساتھ اسکولس کھولے جائیں.. بچوں میں جسمانی حرارت یا دوسری علامت کے ظہور کے ساتھ ہی حاضری سے استثنا اور طبی امداد کی فراہمی لازم قرار دی جائے.. تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کی طبی تنقیح کے بعد سرٹیفیکیشن کردی جائے.. اور جو کچھ ممکنہ اقدام ہوسکتے ہیں کئے جائیں، لیکن اسکولس اب کھولے جائیں.. تعلیمی نقصان کے علاوہ اب بچوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں.. وبا کا اثر بچوں پر بہت کم دیکھا گیا ہے اور متاثرہ بچوں میں ریکوری زیادہ اور تیز تر نوٹ کی گئی ہے.. اب وبا سے متاثر ہونے کا گراف 40-50٪ کم بھی ہوگیا ہے.. شرح اموات کافی حد تک کم ہوگئی ہے.. لوگوں میں اب خوف سے زیادہ اعتماد پیدا ہوا ہے، وبا کے بارے معلومات بھی بڑھی ہیں اور احتیاطی تدابیر کا علم بھی ہوا ہے.. بنابریں یہ مناسب لگتا ہے کہ اب اسکولوں کی کشادگی کے بارے میں غور کیا جائے اور احتیاط کے ساتھ تعلیمی اداروں کی کشادگی عمل میں لائی جائے.. آخر سب سے اہم زمرہ ہی اتنی تاخیر کا شکار کیوں رہے. درسیات کا جو نقصان ہوچکا ہے اس کی تلافی پرائمری اور اپر پرائمری سکشن میں ممکن نہیں ہوگی.. بچوں کی عمر کا یہ حصہ کسی اضافی بوجھ کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا.. اس لئے اب مزید تاخیر مزید پیچھے رہ جانے کا سبب بن جائے گی..