جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالات خبردار....! میں سراسر ایک دھوکا ہوں !

 خبردار….! میں سراسر ایک دھوکا ہوں !

                              انشائیہ

       میں عارضی بھی ہوں، اور فنا ہونے والی بھی۔ مگر افسوس لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ میں ہمیشہ رہنے والی ہوں۔تبھی تو لوگ مجھے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کتنے بیوقوف ہیں لوگ جو ایک خوبصورت دھوکہ کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں ۔میرے تمام واقعات ہر دن یہ گواہی دیتے ہیں کہ میں سراسر ایک دھوکا ہوں،پھر بھی لوگ سمجھنا نہیں چاہتے ہیں۔ میں کیا کروں میرے رب نے ہی مجھے لہولعب قرار دیا ہے، پھر بھی لوگوں کو یقین نہیں ہو رہا ہے۔ یہاں ہر دن چیزیں فنا ہوکر یہ ثابت کر رہی ہیں کہ میں باقی رہنے والی نہیں بلکہ فنا ہوجانے والی ہوں۔حیرت ہے لوگ ہر دن مرنے والوں کو دیکھتے ہیں پھر بھی ہمیشہ زندہ رہنے کی تمنا کرتے ہیں۔ سب کچھ چھوڑ کر جانا ہی پڑتا ہے پھر بھی دنیا کی ہوس میں اکثر لوگ گرفتار ہیں ۔ہماری پیٹھ پر تو قیصر وکسر’ی اور قارون وفرعون بھی ہوئے لیکن سب کو دنیا سے واپس جانا پڑا۔ دنیا کی خواہش تو کم عقلوں کے لئے ہے، عقلمند تو آخرت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لئے ہی اکثر لوگ میرے دھوکے میں پڑ کر اپنی ہمیشہ کی زندگی کو تباہ کر لیتے ہیں ۔
        میں خوبصورت ضرور ہوں لیکن تھوڑی دیر کے لئے ہی ہوں۔خوبصورتی تو دیرپا ہوتی بھی نہیں ہے۔ عقلمند وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی رضا پر راضی ہو جائے اور زندگی کو سادگی سے گزارنے کی کوشش کرے۔ میں عارضی اور فانی ہوں تبھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا خوبصورت بنایا ہے تاکہ انسانوں کی آزمائش ہو سکے۔ لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ میں عارضی ہونے کے باوجود جب اتنی خوبصورت ہوں تو جنت کی ابدی زندگی کتنی خوبصورت ہوگی! میں تو انسانوں کو کچھ سالوں کے لئے ہی پناہ دے سکتی ہوں ہمیشہ کے لئے تو جنت ہے یا جہنم۔ آخرت کے مقابلے میں میری کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ایک مری ہوئی بکری سے بھی گئی گزری ہوں میں۔مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوں۔

      سچی بات یہ ہے کہ میری ظاہری زینت آخرت کی حقیقی زندگی سے لوگوں کو غافل کر دیتی ہے ۔یاد رکھیں دنیا بیزاری میں ہی آخرت کی کامیابی ہے۔ دنیا میں رہنا تو ہے لیکن دنیا کا بن کر نہیں رہنا ہے۔ میں اس وقت زیادہ حیران ہو جاتی ہوں جب یہ احساس ہوتا ہے کہ بیشتر لوگ جو زبان سے تو دنیا بیزار نظر آتے ہیں، حقیقت میں دنیا کی آبیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ دنیا کے دھوکے میں جو پڑا اس کا آخرت میں ضرور خسارہ ہوگا۔لہٰذا ایماندار محاسبہ کرنے سے ہی دنیا طلبی کمزور ہوسکتی ہے ۔
          جانتے ہیں! جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو میری محبت سے اس کو ایسے بچاتا ہے جیسے بیمار کو پانی سے پرہیز کرایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ سے جو جتنا قریب ہوتا ہے رضائے الٰہی اس سے اتنی ہی دور ہوتی ہے۔ چہار جانب سے مجھے پرکھ لیں، میں کبھی وفادار نہیں ہو سکتی۔ میں کسی کا ساتھ دینے والی نہیں ہوں۔ دھوکا دراصل اسی کو کہتے ہیں جو حقیقت کو چھپا دے۔میری چمک دمک آخرت کے تصور کو دھندلا کر دیتی ہے۔ میں تو مومن کے لیے ایک قید خانہ ہوں۔ جیل میں تو بہت کم وسائل کے ساتھ زندگی گزارنی پڑتی ہے ۔میری پناہ میں کم سہولت کے باوجود جو صبر کے ساتھ رہتے ہیں وہ رہائی کے بعد اکثر کامیاب ہوتے ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ کم دنیا سے زیادہ آخرت کمایا جا سکے۔
        میری اہمیت اگر زیادہ ہوتی تو اللہ کافر ومشرک کو ایک گھونٹ پانی بھی نہیں دیتا۔ویسے بھی دنیا کے پیچھے بھاگنا مومنانہ صفت نہیں ہے۔ دنیا سے دل لگانا تو غیر مسلموں کا شیوہ ہے۔ یہاں کی تمام لذتیں بہت تھوڑے وقت کے لیے ہیں۔ یہاں اکثر لوگوں کی ذہنیت آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرناہی ہوتا ہے۔کچھ تو مال اور اولاد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔مجھے خوب احساس ہے کہ میری محبت میں تمام انسانی رشتے کمزور پڑ چکے ہیں۔ کاش کہ لوگ سمجھتے!
        آخرت کی اصل زندگی ابھی غیب میں ہے، اور اللہ نے غیب کی خبر پر یقین رکھنے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ مجھے حاصل کرنے کی ساری کوششیں اسی لئے ہوتی ہیں کہ لوگ محنت کرکے دنیا جلدی حاصل کر لیتے ہیں اور غیب میں پوشیدہ آخرت کے تعلق سے لاپرواہ ہوتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ غیب کی بہت ہی کم چیزوں کو ظاہر کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے غیب پر یقین کامل رکھنے کا بدلہ جنت بھی ابھی غیب میں رکھا ہے۔موت کے قریب پہنچتے ہی غیب کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو جاتی ہے ۔
       انسان غور کیوں نہیں کرتا ہے کہ صرف زندگی ہی نہیں بلکہ ضروریاتِ زندگی کا ہر سامان بھی یہاں کسی کو ہمیشہ نہیں ملتا ہے۔ میں اور میری تمام چیزیں بھی قلیل مدتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا تو عجیب فلسفہ ہے کہ جتنی زندگی ملی ہے خوب عیش سے گزارو ۔مگر سچ یہ ہے کہ یہاں قانون خداوندی کے تحت جینے کی پابندی ہے، عیش وآرام تو جنت میں ہے۔
         یہ الگ بات ہے کہ جب کسی کا کوئی اپنا دنیا سے اچانک رخصت ہو جاتا تو کچھ دنوں کے لئے اس کے وارثین کو دنیا بیکار لگنے لگتی ہے لیکن پھر میری زینت اس پر ہاوی ہو جاتی ہے اور وہ دنیا کے پیچھے چل پڑتا ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ایک دن سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ چلے جانا ہے۔
            موت سے کس کو رستگاری ہے
                آج وہ ، کل ہماری باری ہے
         ویسے یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ اگر کچھ لوگ کم سے کم دنیاوی سامان کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں، وہ بھی دوسروں کی شان و شوکت کو دیکھ کر متاثر ہو جاتے ہیں اور شیطان انہیں میری لذت حاصل کرنے کی دوڑ میں لگا دیتا ہے۔کہا بھی جاتا ہے کہ زیادہ دنیا کمانے کی خواہش ہو تو غریبوں کو دیکھو، شکر گزار رہو گے۔ امیروں کو دیکھو گے تو پریشان اور بے صبر بن جاؤگے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کی  شان وشوکت ایک آزمائش ہے جو آخرت میں رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔دنیا کی ہر شئے ایک سوالنامہ ہے جس کی جوابدہی ضرور ہوگی ۔فلسفہ بالکل آسان ہے، مومن دنیا میں کبھی آسودہ نہیں ہوسکتا ہے ۔آسودگی تو نفس کا غرور ہے۔ بہتر ہے کہ دنیا میں حلال رزق کے ساتھ زندگی گزارو اور آخرت میں ہمیشہ کا سکون حاصل کرو۔

       میں کوئی منزل نہیں ہوں بلکہ منزل کا ایک پڑاؤ ہوں۔گزرگاہ ہوں پناہ گاہ نہیں ہوں۔راستے میں تھوڑی دیر رک کر آخرت کی منزل کی طرف چل دینا ہے ۔میرا ساتھ صرف ایک مسافر کی طرح ہے ۔یہاں ایک اجنبی مسافر کی طرح کچھ دیر رکنا ہے پھر آگے بڑھ جانا ہے ۔جتنا سامان لیکر ایک مسافر راستے سے ہوکر گزرتا ہے اسی طرح ایک اجنبی مسافر کی طرح گزر جاؤ۔اس فانی دنیا کو بھی اجنبی جانو تاکہ اس سے زیادہ دل نہ لگ سکے ۔دنیا کے طلبگاروں کے پاس بھی نہ بیٹھو تاکہ حرص وہوس سے بچو۔ دنیا میں جیتے جی خود کو مردہ شمار کرو تاکہ حرص وہوس پنپنے ہی نہ پائے ۔مرنے کا احساس ہوگا تو تمہارے سامنے دنیا کی کوئی اہمیت باقی نہ رہے گی۔بیشک دنیا کے مرغوبات انسانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں مگر کمال تو یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف کھینچے۔
       آخری اور سچی بات یہ کہ میں پچھلی قوموں کی طرح تم انسانوں پر کھول دی جاؤں گی اور تم میری رغبت میں پڑ کر اپنی آخرت تباہ کر بیٹھو گے۔قیامت کے قریب میری کشش اور چمک تمہیں زیادہ نقصان پہنچائے گی۔ان دنوں تو شیطان صفت لوگوں نے مجھے فتنوں کی آماجگاہ بناکر دیا ہے۔جتنا زیادہ دنیا کے کاروبار میں شامل رہوگے اتنا ہی آخرت کا نقصان ہوگا۔ اپنی حفاظت چاہتے ہو تو جان لوکہ میں آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہوں جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی۔ انگلی میں لگے پانی کے مقابلے میں سارے سمندر کے پانی کی مقدار کا کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ بس یہی میری حقیقت ہے۔میری تمام اچھائیوں اور برائیوں کے باوجود یہ بھی بالکل واضح ہے کہ جنت کا راستہ میری گلیوں سے ہی ہوکر جاتا ہے ۔اسی لیے میں چاہتی ہوں کہ لوگ مجھ سے زیادہ محبت نہ کریں تو بہتر ہے۔ایک تو میں پائیدار نہیں ہوں دوسرے میں سراسر ایک دھوکا بھی ہوں ۔جی ہاں میں دنیا ہوں!
           سرفراز عالم، عالم گنج پٹنہ 
            رابطہ:  8825189373
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے