بدھ, 30, نومبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزارریا نیوزخاک کے پتلے میں آگ

خاک کے پتلے میں آگ

*خاک کے پتلے میں آ*

شہر ارریہ سے قریب ہی بیلوا گاؤں کا رہنے والاایک نوجوان اپنی بیوی کوگھر میں موجود نہیں پاکر مشتعل ہوجاتا ہے، اپنے ہاتھوں اپنے ہی نوزائیدہ بچے کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا ہے۔
ایک خبرمذکورہ ضلع کے ہی ایک گاؤں سے ملی ہے کہ ایک ماں نے غصہ کی انتہا میں آکراپنے ڈھائی ماہ کے شیر خوار بچے کو پٹک پٹک کرہلاک کردیا ہے، یہ دونوں خبریں اتنی درد ناک ہیں کہ سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، کوئی جانور بھی اپنے بچوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتاہے ،مگرایک انسان نے درندگی کی حد کو بھی غصہ میں آکر پار کر لیا ہےاور اپنی نسل کی تباہی کا سامان کرلیا ہے۔
اکثر وبیشتر طلاق کے واقعات غصہ کی وجہ کر رونما ہوتے ہیں،چھوٹی چھوٹی باتوں سے جھگڑا شروع ہوتا ہے اور خاندان کی بربادی پر جا کر تمام ہوتا ہے، شوہر نے بیوی سے کھانا مانگا، اور وہ کہ رہی ہے کہ؛میں ابھی آرہی ہوں، ذرا سی دیر ہوئی،میاں جی غضبناک ہوگئے، اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکے، فائرنگ شروع کردی،طلاق، طلاق، طلاق، بیچاری اب کبھی بھی اپنے شوہر کے پاس آنے کےلائق نہیں رہی ہے،ادھر میاں جی بھی نادم ہیں، مگر معاملہ اب توہاتھ سے نکل چکا ہے۔
آج سماج میں جو شخص سمجھدار سمجھا جاتا ہے وہ بھی بات بات پر غصہ میں آجاتا ہے۔بازار، سڑک، گاؤں،گلی، مسجد، مکتب، مدرسہ کوئی جگہ اس سے پاک نہیں ہے، ہر جگہ غصہ کی کھیتی ہورہی ہے، بروقت اس پر روک نہیں لگائی گئی تو اس کی فصل جب کٹتی ہے تو نہایت تکلیف دہ ہوتی ہے، سب سے بڑی بات یہ کہ ایک مسلم سماج میں اگر یہ سب کچھ ہورہا ہے،یہ ڈوب مرنے کی بات ہے،اس سےاسلام کی غلط تصویر ملک میں جارہی ہے، اور ہم اسلام کی تبلیغ میں رکاوٹ کا سامان بنتے جارہے ہیں، افسوس اس بات پر بھی ہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہے۔
حدیث شریف میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ غصہ شیطان سے ہےاور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے،جب ایک انسان میں غصہ داخل ہوجاتا ہے تواس کا صاف مطلب یہی ہے کہ اس خاک کے پتلے میں شیطانی آگ داخل ہوگئی ہے،یہی وجہ ہےکہ جب غصہ تیز ہوتا ہے تو ایک انسان کی آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور چہرہ لال ہوجاتا ہے، اور کہتے بھی ہیں کہ وہ آگ بگولا ہوگیاہے،جہاں کہیں آگ نظر آتی ہے آج کے اس گئے گزرے زمانے میں بھی پورا گاؤں اس جانب دوڑ آتا ہے،اور اس کو بجھانے کی فکر کرتا ہے، اوراس وقت تک چین سے کوئی نہیں بیٹھتا جب تک کہ آگ پر قابو نہ پالیا جائے، یہی عمل غصہ کی آگ پر قابو پانے کے لیےاس وقت عمل میں لانے کی ضرورت ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دولوگوں میں کچھ باتیں ہورہی تھیں، انمیں ایک صاحب کو اتنا غصہ آیا کہ چہرہ لال ہوگیا اور رگیں پھول گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار ان کی طرف دیکھا اور یہ کہا کہ؛مجھےایک ایسا کلمہ معلوم ہے،اگر وہ اس کو کہ لے تو یہ غصہ جاتا رہے،اور وہ یہ ہے،اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم۔(بخاری )
مذکورہ حدیث سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب کبھی یہ موقع آئے اور کسی کواس آگ میں جلتامحسوس کرے تو اس کو بجھانے کی فکر کرناسنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنا ہے،موجودہ وقت میں یہ سنت ہماری زندگی میں نہیں ہے،اسے زندہ کرنا سو شہیدوں کے اجر کا حامل ہوناہے،اور یہ بات بھی اس حدیث سے معلوم ہوئی کہ اس آگ پرقابو پانے کے لیے سب سے پہلے اللہ کی پناہ ضروری ہے۔
بغیر قرآن وحدیث کی رہنمائی لیےاسے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے، یہ کوئی عام آگ نہیں ہے ،یہ انسان کے اندر لگی ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو طاقتور کہا ہے جو اپنے غصہ پر قابو پالیتا ہے،اس کا مطلب واضح ہے کہ غصہ پر قابو پانے والا درحقیقت شیطان کے مقابلے میں فتح پانے والا ہے۔
غصہ سے بچنے کی دوسری تدبیر وضو ہے، غصہ شیطان سے ہے،اور وہ آگ سے پیدا ہوا ہے،شیطان انسان کی رگوں میں گھس جاتا ہے،اوراندر اندر ہی آگ لگاتا ہے،آگ کو پانی بجھادیتا ہے،اس لیے حدیث شریف میں اس موقع پر وضو کی تعلیم دی گئی ہے۔یہ اس کا علاج ہے،وضو انسانی مزاج میں برودت اور ٹھنڈک پیدا کردیتا ہے، اور اس سے غصہ کافور ہوجاتا ہے۔
تیسری تدبیر ہیئت کی تبدیلی ہے،غصہ ور انسان کھڑا ہے تواسے بیٹھ جانا چاہئے، اور اگربیٹھا ہے تو لیٹ جانا چاہیے، ایک روایت میں زمین سے لگ جانے کا بھی حکم ہے۔یہ ایک انسان کو عملی طور پر اپنی پیدائشی چیز مٹی سے قریب کردینا یے۔
آج اس شیطانی آگ میں جلتے ہوئے انسان کو بچانے کی تحریک شدید ترین ضرورت ہے، ایک مسلمان کی ذمہ داری اس تعلیم پر عمل کرنے کی اور اس کو عام کرنے کی بھی ہے،ایک آدمی نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ؛مجھے کوئی نصیحت فرمائیے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ؛غصہ مت کرو، اس کو یہ نصیحت معمولی لگی تو دوبارہ اس نے یہ عرض کیا کہ نصیحت کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ غصہ مت کرو، سہ بارہ گزارش کی تو تیسری بار بھی آپ صلی علیہ وسلم کا یہی جواب رہا کہ غصہ مت کرو (بخاری )
حدیث شریف کی دوسری کتابوں میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ان صاحب نے اپنی زندگی میں غور کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ساری برائیوں کی جڑغصہ ہی ہے،
آج سماج اور معاشرہ کا یہی حال ہے، اور اس سے بڑی نصیحت موجودہ وقت کے لیے اور کیا ہوسکتی ہے کہ؛غصہ مت کیجئے۔
ع۰۰خون کا شربت پی کے پیاس بجھاتا ہے
غصہ علم ودانش کو کھا جاتا ہے
طاقت ور ہے وہ انسان زمانے میں
اپنے غصہ پر جو قابو پاتا ہے
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۲۳/ربیع الاول ۱۴۴۴ھ

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے