ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتخانوادہ مدنی کی طرز پر شادی؛امت کے لئے مشعل راہ

خانوادہ مدنی کی طرز پر شادی؛امت کے لئے مشعل راہ

 

از قلم۔۔۔۔۔ محمد معاذ عابد محمودی
احقر نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ نے اپنے بچوں کی شادی میں تاحیات کبھی کوئی تقریب انجام نہیں دی۔ اسی تربیت کا اثر تھا کہ فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نوراللہ مرقدہ نے بھی اپنے بھائی بہنوں اور بچوں کی شادیاں بھی اسی کمال سادگی کے ساتھ فرمائیں۔ اور اپنے آباء واجداد کی اسی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے میرے شیخ و مربی عالم ربانی محبوب سبحانی قائدِ ملت حضرت اقدس مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم العالیہ قومی صدر جمعیتہ علماء ہند و سابق ممبر آف پارلیمنٹ نے خاندانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے دو بچوں کے نکاح مسجد میں کر کے اپنے بزرگوں کی وراثت کو پوری طرح محفوظ کرتے ہوئے امت کو پیغام دیا ہے کہ نکاح آسان کرو۔ آپ نے ان شادیوں میں اپنے قریبی رشتے داروں کو بھی مدعو نہیں کیا۔ جبکہ اگر آپ چاہتے تو ملک کے وزیراعظم سے لیکر اپوزیشن لیڈران، سیاسی رہنماؤں، ملی قائدین، اور دانشورانِ قوم و ملت کا ایک جم غفیر مدعو کرسکتے تھے۔ لیکن آپ چشم و چراغ ہیں اس خانوادہ مدنی کے، جس نے اپنے کردار و عمل سے قرآن وحدیث اور اتباع سنت کا عملی نمونہ امت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس خانوادے کے اکابرین کا سیاسی زندگی میں ہونے کے باوجود ایک ایک قدم قرآن وسنت کے دائرے میں رہا ہے۔ لہٰذا فدائے ملت کا سچا جانشین یہ کیسے گوارا کرسکتا تھا۔
ایک مرتبہ راقم الحروف اور والد محترم حافظ محمد عابد صاحب مہتمم مدرسہ اشاعت الاسلام قصبہ لاوڑ ضلع میرٹھ دیوبند مدنی منزل میں جگر گوشۂ فدائے ملت حضرت مولانا سید محمد مدنی مدظلہ جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء اتر پردیش کے مہمان ہوئے۔ دوران گفتگو حضرت نے فرمایا کہ ،بھائی شریعت کے باہر جانا ہی مصیبتوں اور پریشانیوں کو مول لینا ہے۔ یہ تاریخی جملہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔
چنانچہ اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے بڑے دینی، ملی، سیاسی اور سماجی پلیٹ فارم ،جمعیتہ علماء ہند، کے قومی جنرل سکریٹری، حضرت فدائے ملت علیہ الرحمۃ کے تربیت یافتہ اور موجودہ صدر محترم کے دست راست، عظیم مردِ مجاہد حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے بڑے صاحبزادے کی تقریب شادی کو قوم و ملت کے لئے وقف اپنے قیمتی وقت میں سے صرف 18 منٹ میں انجام دیا ہے۔ بلا شبہ حضرت والا کی شخصیت پر یہ اشعار صادق آتے ہیں۔
خدا یاد آئے جن کو دیکھ کر وہ نور کے پتلے
نبوت کے یہ وارث ہیں یہی ہیں ظل رحمانی
یہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہے عبادت پر
انہیں کے اتقاء پر ناز کرتی ہے مسلمانی
انہیں کی شان کو زیبا نبوت کی وراثت ہے
انہیں کا کام ہے دینی مراسم کی نگہبانی
رہیں دنیا میں اور دنیا سے بالکل بے تعلق ہوں
پھریں دریا میں اور ہرگز نہ کپڑوں کو لگے پانی
ناظم عمومی جمعیتہ علماء ہند حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی دامت برکاتہم کے بڑے صاحبزادے مولانا محمد ازہر پرتاپ گڑھی جو حق ایجوکیشن کانپور میں زیرِ تعلیم ہیں، ان کا رشتہ مولانا ابو الحسن صاحب استاذ مدرسہ بیت المعارف وصی آباد الہ آباد کی صاحبزادی سے طے ہوا۔
گزشتہ دنوں 22 اگست 2021ء بروز اتوار کو صبح آٹھ بجے حضرت ناظم عمومی دہلی سے الہ آباد تشریف لائے، وہاں پر آپ کے صاحبزادے پہلے سے پہونچے ہوئے تھے، لہٰذا فوراً صاحب نسبت ولی مشہور بزرگ حضرت مولانا قمر الزمان الہ آبادی نے اپنی خانقاہ میں 50 سے زائد علماء و ذاکرین کی پرنور مجلس میں خطبۂ نکاح پڑھا، صاحبزادے کی دستاربندی فرمائی، صاحبزادے اور حضرت والا کو عطر کا تحفہ پیش کیا اور زوجین کو اپنی بابرکت دعاؤں سے سرفراز فرمایا۔ دعاء کے بعد چھوہارے لٹانے کی سنت ادا کی گئی، اور چائے نوش فرمانے کے بعد حضرت والا فوراً مسلم تنظیموں کی ،ووٹ بیداری مہم، کی مشترکہ میٹنگ میں شرکت کے لئے لکھنؤ روانہ ہوگئے۔ اس نورانی محفل نکاح میں آپ کے خاندان سے دولہا میاں کے علاوہ آپ اکیلے اور صرف 18 منٹ کے لئے موجود تھے۔ جبکہ حضرت والا کے سمدھی صاحب کے لڑکے کا نکاح اور ولیمہ بھی انجام پایا ہے، لیکن آپ اس میں شریک نہیں ہوئے۔ دھیان رہے کہ حضرت والا الگ الگ موقعوں پر اپنے بھائی بہنوں کے بچوں سسرالیوں اور دیگر رشتے داروں کی شادیوں میں بھی شریک نہیں ہوئے ہیں۔
بلاشبہ حضرت والا کا یہ طرز عمل امت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
ہم خدامان جمعیتہ علماء دل کی گہرائیوں سے زوجین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور حضرت والا کے لئے دعاء گو ہیں کہ حضرت ناظم عمومی جمعیتہ علماء ہند کا سایہ عاطفت امت مسلمہ کے سروں پر تا دیر قائم رہے۔ آمین
محمد معاذ عابد محمودی خادم مدرسہ اشاعت الاسلام و جمعیتہ علماء حلقہ قصبہ لاوڑ ضلع میرٹھ
31 اگست 2021ء منگل

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے