خانقاہ رحمانی کے نئے سجادہ نشیں:تعارفی خاکہ محمدشار ب ضیاءرحمانی

48

کس کواندازہ تھاکہ امیرشریعت سابع،مربی ومرشد،مفکراسلام حضرت مولانامحمدولی صاحب کواچانک ’رحمة اللہ علیہ‘ لکھناپڑے گا۔ جب جب یہ مرحلہ آتاہے ،قلم رک جاتاہے،یقین نہیں ہوتاکہ آپؒ رخصت ہوگئے،دل بے قابو،ذہن منجمداورحواس رفوہوجاتے ہیں کہ ابھی توامارت اورمسلم پرسنل لاءبورڈکے پلیٹ فارم سے آپؒ کی تحریکات رواں دواں تھیں،چلتاپھرتا،علمی وسماجی وسیاسی رہنماکیسے رخصت ہوگیا،نگاہیں آپ کی مجلس میں پہونچ جاتیں،ہنستا،مسکراتاچہرہ سامنے ہوتا،ہرتصویربے قراری میں اضافہ کرتی ہوئی دل مسوس دیتی ہے۔مسلم پرسنل لاءبورڈ،تحریک اصلاح معاشرہ پوری مضبوطی سے چلارہاتھا،جہیز،بے جارسوم رواج کے سدباب کے لیے آپؒ نے پوری ٹیم کومتحرک کردیا،’آسان نکاح مہم‘ کامیابی کے ساتھ جاری تھی،بہار،جھارکھنڈ،اڈیشہ اوربنگال میں تعلیمی تحریک زوروں پرتھی،امارت شرعیہ کے تحت امارت پبلک اسکولوں کاقیام کاسلسلہ شروع کیاگیا،دارالقضاءکی توسیع ہونے لگی،آپؒ کے مسلسل دورے ہورہے تھے ،بہارمیں اردوکارواں کی تشکیل اوراردوکے تحفظ کی منظم تحریک نے نئی روح پھونک دی تھی۔گویاتاریک فضامیں امیدکی کرن جاگ چکی تھی۔اچانک کیاہوگیاکہ آپ ؒ اس وقت چلے گئے جب امت مسلمہ کوآپ ؒ کی ضرورت تھی۔عدالتوں میں بابری مسجد،طلاق ثلاثہ،بابری مسجدشہادت کیس سمیت مسلم پرسنل لاءکے اہم مسائل زیربحث ہیں،ان امورمیں آپ ؒ کی رہنمائی کی اشدضرورت تھی۔ہردل کی صداہے کہ کاش چندبرس اورمل جاتے۔ظاہرہے کہ قادرمطلق کافیصلہ کون ٹال سکتاہے،مرضی خداوندی اٹل ہے،اب پوری امت مسلمہ آپؒ سے وابستہ اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے۔
علالت سے عین قبل آپ ؒنے نائب ا میرشریعت کی نامزدگی کی اورچندبرس قبل خانقاہ رحمانی کی سجادہ نشینی اورجامعہ رحمانی کی سرپرستی کی وراثت اپنے بڑے فرزندجناب مولانااحمدولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے سپردکی ۔ اپنے عصری ادارے(رحمانی فاﺅنڈیشن اوررحمانی تھرٹی) چھوٹے فرزندجناب حامدولی فہدرحمانی کے حوالے کیے۔خالق حقیقی نے بلانے سے پہلے آپؒ کے ذریعے ملت اسلامیہ کے لیے کچھ مرہم رکھوا دیا۔اب خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں،آپؒ کے لائق فرزندمولانااحمدفیصل رحمانی ہیں۔مرحلہ اظہارعشق وغم سے بمشکل گزرکرنئے سجادہ نشیں کے تعارفی خاکہ کی طرف آتاہوں۔ کئی دنوں سے جنبش قلم کی کوشش کی،ذہن وقلم نے جواب دے دیا۔اب کچھ غیرمربوط باتیں لکھنے کی ہمت جٹائی جارہی ہے۔
9اپریل کوخانقاہ رحمانی میں امیرشریعتؒ کے خلفاءکی موجودگی میں نئے سجادہ نشیں کی دستاربندی ہوئی۔مرکزرشدوہدایت خانقاہ رحمانی اورجامعہ رحمانی کی وراثت آپؒ کے بڑے فرزندجناب مولانااحمدولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے پاس ہے۔مولانااحمدولی فیصل رحمانی ،تحقیقی،سماجی ،رفاہی،علمی مزاج رکھتے ہیں۔امیرشریعت سابعؒ،فکرمونگیریؒ کے امین اورتحریک سجادؒکے پاسباں رہے۔حضرت مونگیریؒ کی تعلیمی،تحریکی،علمی خدمات سے کون واقف نہیں،حضرت مونگیریؒ کے تعلیمی نظریہ کاخلاصہ یہ ہے کہ علماء، جدیدعلوم وزبان حاصل کریں،تاکہ اسلام پرہونے والی فکری یلغارکامقابلہ کرسکیں اورالحادوارتدادکے فتنے کاسدباب کرسکیں۔انہوں نے مدلل اندازمیں بتایاہے کہ علماءکوسیاست اورحالات حاضرہ سے واقفیت کیوں ضروری ہے۔دوسری طرف وہ جدیدتعلیم یافتہ طبقوں کی اسلامی ذہن سازی کے لیے فکرمندرہتے،ان کی خواہش رہی کہ مسلمان سارے علوم حاصل کریں،اعلیٰ عہدوں پرفائزہوں،لیکن پہلے وہ’مسلمان ‘ہوں۔جس عہدے پررہیں،مذہبی تشخص کے ساتھ رہیں اورملک ووطن کی ترقی کے ساتھ ساتھ دین متین کومضبوطی سے پکڑے رہیں۔یہی نہیں،حضرت مونگیری ؒ نے علماءاوردانشوروں کے درمیان خلیج کوپاٹنے کی بھی کوشش کی۔تحریک ندوہ،آپ کے تصورتعلیم کی گواہ ہے۔(مستقل مضمون میں حضرت مونگیریؒ کے تعلیمی نظریہ کاتفصیلی جائزہ اورتقابلی مطالعہ قارئین کی خدمت میں انشاءاللہ جلدپیش کیاجائے گا۔)سردست بتانایہ ہے کہ حضرت مونگیریؒ کے اسی مشن کوحضرت مولانامحمدولی رحمانی ؒ نے پوری زندگی آگے بڑھایا۔مولاناؒکہاکرتے تھے”مسلمانوں کاسب سے بڑامسئلہ، مسلمان رہتے ہوئے تعلیم یافتہ ہوناہے۔ہمیں یہ دیکھناہے کہ ہماراعلم ہمیں دین داری سے دورتونہیں کررہاہے،نام نمودپرتوجہ زیادہ ہے ،مسلمانوں میں علم کاذوق وشوق کم ہے ،یہ خطرناک رجحان ہے۔مسلمانوں کواپنی سوچ اورترجیح میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے“۔
امیرشریعت رابعؒ مولانامنت اللہ رحمانی علیہ الرحمة اورامیرشریعت سابع مولانامحمدولی رحمانی رحمہ اللہ علیھم کی زندگی کامشن ان ہی خطوط کے اردگردرہا۔دونوں نے مسلکی دیواروں کوتوڑنے کی کوشش کی ،علماءودانشوران کوایک پلیٹ فارم پرجمع کیا۔مولانامنت اللہ رحمانی ؒکی مسلم پرسنل لاءبورڈ کے قیام کی کاوش ہویاحالیہ دنوں تک مولانامحمدولی رحمانیؒ کی لوگوں کوجوڑنے کی کی سعی ہو،یہ سب حضرت مونگیریؒ کے خطوط پرملت کی رہنمائی کی مثالیں ہیں۔ان کے علاوہ رحمانی تھرٹی ،وہاں کانظام تعلیم وتربیت اوررحمانی فاﺅنڈیشن کی رفاہی خدمات یہ سب فکرمونگیریؒ کے خطوط پرہیں۔خانقاہ رحمانی کے دونوں وارث سیاست،قانون ،عصری علوم میں بھی ممتازرہے۔گویادونوں شخصیات ،مشن مولانامحمدعلی مونگیریؒ کی مجسم شکلیں تھیں۔
محترم مولانااحمدولی فیصل رحمانی بھی اپنے والدمحترمؒ اورجدامجدؒکی طرح علم وعمل کے حسین سنگم ہیں۔ ان کی شخصیت میں عصری اوردینی علوم کا امتزاج ہے۔مولانااحمدولی فیصل رحمانی کی فکر ہے کہ علماء، جدیدعلوم وٹکنالوجی سے واقف ہی نہیں،بلکہ ان کے ماہرہوں،چنانچہ انھوں نے جامعہ رحمانی میں شعبہ’دارالحکمت ‘ کاقیام کیااورتقریباََدس برسوں سے آپؒ کی نگرانی میں کوشش ہے کہ حفظ کے طلبہ بھی حافظ ہونے کے بعد عربی سے اس قدرواقف ہوں کہ قرآن مجیدکاخودترجمہ کرلیں،ساتھ ہی زوردیتے رہے کہ وہاں کے اساتذہ ،کمپوٹر،ٹکنالوجی سیکھیں اورجدیدتقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔گہرائی سے اندازہ لگائیں تویہ فکر کوئی عام بات نہیں ہے۔آپ کوقرآن مجیدسے زبردست محبت ہے اوراس پرپوری توجہ ہے۔مصرمیں آپ نے باضابطہ تجویدکی تعلیم حاصل کی۔جامعہ رحمانی میں ابتدائی تعلیم اوروالدبزرگوارؒسے تربیت کے بعدعالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہرقاہرہ ،مصرسے علوم اسلامیہ اورعربی زبان میں درک حاصل کیا،اس کے ساتھ عصری علوم اورجدیدٹکنالوجی کے مانوبادشاہ ہی ہیں۔ان کی انگریزی تقاریرسننے کے بعدعلم کی گہرائی،وسعت مطالعہ کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔آپ نے مغربی دنیاکوبہت قریب سے دیکھاہے۔امریکہ میں نیوکلیئرپاورپلانٹ اورآئل وگیس محکموں کی اہم ذمے داری نبھائی ہے۔2001سے 2005تک امریکہ کی مختلف اعلیٰ کمپنیوں میں خدمات دیتے رہے ۔آپ کی صلاحیتوں کودیکھتے ہوئے ایکسچنجر کمپنی نے 2005میں بطورفیکلٹی مقررکیا،یہاں مولانافیصل رحمانی پروجیکٹ منجمنٹ،ورک پلاننگ اینڈمانیٹرنگ ،سولیوشن ڈیلیوری فنڈامنٹل کے لکچردیتے رہے ۔بڑی عالمی سافٹ ویئرکمپنیAdobeکے ایم ڈی ایم کے عہدہ پربھی فائزرہے۔2012میں بی پی کمپنی میں ٹرمنل اینڈٹرانسپورٹ منیجربنائے گئے ،2013میں ماس میڈیااینڈانٹرٹینمنٹ کی ملٹی نیشنل کمپنیDisnneyمیں بطورسروس منیجرتقرری ہوئی۔متعدد بین الاقوامی کمپنیوں میں قائدانہ ذمے داریاں انجام دینے کے بعد2015میں آپ امریکہ کی معروف اوردنیاکی سرفہرست دس یونیورسیٹی میں شامل کیلی فورنیایونیورسیٹی سے ڈائریکٹرآف اسٹریٹیجک پروجیکٹ منجمنٹ کے طورپرمنسلک ہوئے۔ جہاں اب تک مختلف اعلیٰ تعلیم اورکورسزمیں رہنمائی کررہے تھے۔اس کے علاوہ عراق جنگ کے موقعہ پرآپ کی کمپنی نے آپ کی نگرانی میں متعدد رفاہی کام کیے جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔
مندرجہ بالامشمولات سے اندازہ ہوجائے گاکہ تنظیمی کاموں اورجدیدعلوم کاآپ کوکتناوسیع تجربہ ہے۔بدلتے حالات،دشوارگزارمرحلوں میں آپ کی قائدانہ صلاحیت نمایاں ہوئی ہے۔جدیدوقدیم کے سنگم ہیں،رفاہی مزاج رکھتے ہیں۔سیمانچل سیلاب کے موقعہ پردونوں بھائیوں نے عوام کے درمیان رہ کرکام کیا۔میں نے اس موقعہ پردہلی می ںحضرت ؒ کووہ تصاویردکھائیں توآپؒ نے خوب دعائیں دیں ۔
بچپن سے دینی مزاج رکھتے ہیں،دینی غیرت وحمیت کوٹ کوٹ کربھری ہے۔مونگیرمیں اسکول کے ابتدائی زمانے میں ٹیچرنے کہہ دیاکہ مسلمان گندے ہوتے ہیں،دونوں بھائی وہاں سے اٹھے ،سیدھاڈی ایم کے پاس پہونچ کرسوال کیاکہ کیاہم گندے ہیں،ڈی ایم نے کہا،نہیں تو،پھرکہا،کیامسلمان گندے ہوتے ہیں۔ڈی ایم حیرت زدہ ہوگئے تب آپ نے اسکول کاواقعہ بتایا،ڈی ایم نے فوراََٹیچرپرکارروائی کرائی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ انھوں نے پہلے اپنے گھرخبرنہیں کی،والداورداداکوخبراس وقت ہوئی جب کارروائی ہوچکی تھی۔
امریکہ کی کمپنی کے ایک بڑے پروگرام میں مولانااحمدفیصل رحمانی مدعوہوئے،اندرکافی انتظارہوتارہا،باہرآکرانتظامیہ نے دیکھاتوکھڑاپایا،وجہ پوچھی توفرمایا ’اندروہ چیزرکھی ہے جومیرے مذہب میں حرام ہے‘۔انتظامیہ نے معذرت کی،اندرسے شراب ہٹائی گئی،انتظام درست کیاگیا،تب آپ وہاں گئے۔یہ دومثالیں بتانے کے لیے کافی ہیں کہ خاندانی جرات وغیرت ایمانی، کس طرح مزاج میں رچی بسی ہے۔ملت کوایسے ہی جرات مند،غیرت منداورباحوصلہ قیادت کی ضرورت ہے۔ آپ کودیکھ کرامیدکی بجھتی شمع کی لو،یقینا کچھ تیزہوجاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں بھائیوں نے جوکچھ ترقی کی،اپنی محنت سے کی،خاندان کے نام اوراثرورسوخ کاکبھی استعمال نہیں کیا۔امیرشریعتؒ نے بھی تپنے کے لیے اورزندگی کے تجربے حاصل کرنے کے لیے دونوں کوآزادرکھا۔زندگی میں خود محنت کرکے اعلیٰ مقام حاصل کیا،دشوارگزارمرحلے خودطے کیے۔جب تپ کرتیارہوئے تب امیرشریعت ؒ نے اپنی جانشینی سپردکی ۔یہی مزاج امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی علیہ الرحمہ کابھی تھا۔دارالعلوم دیوبندمیں عرصہ تک بیشتر اساتذہ کومعلوم نہیں تھاکہ آپؒ ،امیرشریعت مولانامنت اللہ رحمانیؒ کے فرزندہیں۔آپؒ کے فرزندوں نے یہی مزاج پایاہے۔انھوں نے خاندانی اثرورسوخ اوروجاہت کے استعمال کوکبھی پسندنہیں کیا،کبھی انھوں نے ’مولاناولی رحمانیؒ ‘کااسٹیکرنہیں لگایا،انھیں والدکی طرح نہیں بلکہ ہمیشہ مرشدکی طرح دیکھااوررہنمائی حاصل کی۔والدسے سیکھنے کاجذبہ رہا،حددرجہ احترام رہا۔ اس سے یہ سوال رفع ہوجاتاہے کہ امیرشریعت ؒ کی زندگی میں انھیں سامنے کیوں نہیں لایاگیا۔دراصل امیرشریعتؒ کا یہ مزاج نہیں رہاکہ وہ اپنے بچوں کوپروجیکٹ کریں۔اسی لیے نہ سیاسی گلیارے میں اورنہ دینی ومذہبی حلقے میں ان کی تشہیرکی۔امیرشریعتؒ کی کوشش رہی کہ اپنی صلاحیتوں کی بنیادپروہ جگہ بنائیں۔انھیں اپنے فرزندوں کی ذاتی صلاحیتوں پرمکمل اعتمادتھا۔
مولانااحمدولی فیصل رحمانی کامذہبی مطالعہ کافی وسیع ہے۔آپ کی شخصیت میں دینی علوم کی گہرائی ہے،جدیدوقدیم کاسنگم ہے اورعصری اوردینی تعلیم کاامتزاج ہے۔دس منٹ بات کرلیں،اندازہ ہوجائے گاکہ علم وقابلیت کادریارواں ہے۔سنجیدگی،سادگی،متانت،وقار،
حلم وبردباری ،رگ رگ میں پیوست ہیں۔اپنے اجدادؒاوروالدبزرگوارؒکی طرح سچ کوسچ کہنے کی جرات ہے۔یہ کوئی مبالغہ نہیں،مجھ حقیرکو چندماہ شرف باریابی ملاہے،آپ نے پڑھایابھی ہے۔سادگی وحلم کے واقعات ہم لوگوں کے ساتھ پیش آئے ہیں جس کے میں اورمیرے ساتھی گواہ ہیں۔یہ تاثرات ان ہی تجربات کی روشنی میں رقم کیے گئے ہیں۔ خانقاہ رحمانی کی جرات کی تاریخ،عزیمت کی تاریخ،تحریکات کی تاریخ کامستقل باب ہے۔آپ کی صلاحیتوں کاجسے اندازہ ہوگا،اسے یقین ہوجائے گاکہ آپ، علوم رحمانی کے سچے وارث اورفکرمونگیریؒ کے امین ہوں گے۔نئے سجادہ نشین ان روایتوں کوآگے بڑھائیں گے اوراپنے بزرگوں اورخانقاہ رحمانی کی جرات وعزیمت اورقیادت کی تاریخ کومزیدمزین کریں گے ۔ان شاءاللہ۔ایں دعاءازمن وازجملہ جہاں،آمین باد۔