بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتخانقاہ رحمانی مونگیر اور اس کے سجادگان

خانقاہ رحمانی مونگیر اور اس کے سجادگان

از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
صدر: نوجوانان آب حیات سوشل ویلفیئر، ایجوکیشنل کمیٹی، بھوپال (ایم پی) رابطہ: 9826268925
     سرزمین بہار اپنی مردم خیزی اور اپنے علمی ودینی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ ممتاز رہی ہے۔ بہار میں مسلمانوں کی باضابطہ تاریخ کی ابتدا خانقاہ اور صوفیا کی تاریخ سے اس طرح ہم آہنگ ہے کہ اسے جدا کرنا مشکل ہے۔
خصوصا اہلِ دل صوفیاے کرام اور درویش صفت، شیوخِ طریقت کے روشن نشانات اس ریاست کے چپے چپے پر نمایاں ہیں۔
بقول مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ: ”بہار کی آب و ہوا میں اخلاقی خاصیت قدرت کی طرف سے بخشی گئی ہے۔“
اس قول پر بہار کی تاریخِ صوفیا مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔
ہندوستان میں اسلام خانقاہوں میں رہنے والے بزرگوں کے ذریعے پھیلا ہے، ان ہی خانقاہوں میں سے ایک خانقاہ رحمانی مونگیر بھی ہے، جس کی بنیاد ایک باکمال عالم دین، اہل دل صوفی، مصلح امت، 19؍ویں صدی کے نامور بزرگوں میں سے ایک، بانیِ ندوۃ العلماء مولانا محمد علی مونگیری (ولادت 26؍جولائی 1846ء) نے 1901ء میں رکھی۔
حضرت مولانا محمد علی مونگیری علیہ الرحمہ کے بارے میں ان کے شیخ حضرت مولانا فضل رحمن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ یہ الفاظ ارشاد فرماتے تھے: ”کہ ان کی روح متقدمین کی روح کی یادگار ہے، ان کا مثل ہر زمانے میں نادر الوجود رہا ہے۔
 آپ کا شمار ان علماء ربانیین میں ہوتا تھا جن کو ہندوستان میں مجددین اور مصلحین کی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔
مولانا مونگیری علیہ الرحمہ نے اس پر آشوب دور میں شریعت اور دینی علوم کی حفاظت اور اسلام کی خدمت کی جس میں عام علماء باہمی کشمکش اور اختلاف میں مبتلا تھےاور اسلام دشمن عناصر کے فتنوں کو بھول کر ایک دوسرے پر تنقید میں الجھے ہوئے تھے۔
انھوں نے ایسے پر آشوب ماحول میں اسلام کی مدافعت، تبلیغ واشاعت اور مسلمانوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے سلسلے میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ جب بہار میں قادیانیوں نے اپنا ناپاک پنجہ بالکل گاڑ دیا تھا اور اپنے اثرات نہایت تیزی سے پھیلانے شروع کردیے تھےاور ایسا لگنے لگا تھا کہ مونگیر اور بھاگلپور کا پورا ضلع قادیانیت قبول کرلے گا۔ ایسے نازک وقت میں مولانا مونگیری  کانپور سے  سفر کی صعوبتوں کو جھیل کرقادیانیت کی بیخ کنی میں لگ گئے اور اس وقت تک اس کا پیچھا کرتے رہے جب تک کہ اس علاقے سے قادیانیوں کا بالکل صفایا نہ کردیا۔ مولانا کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ”قادیانیت کے خلاف اتنا لکھو اور اتنا طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سوکر اٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانیت کی کتاب پائے۔“
مولانا مسلسل قادیانیت شکن کام کرتے رہے، بالآخر انہوں نے کانپور سے ہجرت فرماکر مستقل مونگیر میں ہی 1903ء سکونت اختیار کرلی۔
 مولانامونگیری کی کوششوں سے ہزاروں لاکھوں لوگوں نے فسق وفجور سے توبہ کرکے دینداری اختیار کی۔ آپ نے دنیا سے ظلمت کا اندھیرا مٹانے فسق و فجور ختم کرنے اور اسلام کا پرچم بلند رکھنے کے لئے زندگی بھر کوشاں رہے بالآخر 13؍ستمبر 1927ء کو مالک حقیقی سے جاملے۔
 حضرت مونگیری کی وفات کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا سید شاہ لطف اللہ رحمانی جو صلاح و تقویٰ اور فہم و فراست دونوں میں ممتاز تھے ”خانقاہ رحمانی“ کے سجادہ نشین ہوئے۔
آپ کے بعد مولانا مونگیری کے چوتھے صاحبزادے مولانا منت اللہ رحمانی (ولادت 17؍اپریل 1913ء) نے 1942ء میں خانقاہ رحمانی کی مسند ارشاد سنبھالی۔
حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کا دور خانقاہ رحمانی  کے لیے سنہری دور کہلاتا ہے۔ آپ کی ذات بالا ستودہ صفات کثیر جہتی صلاحیتوں سے مالامال تھی۔ آپ نے اپنی زندگی اسلام، مذہب اور ثقافت کے فروغ میں صرف کی۔ ان کے دور میں خانقاہ رحمانی کو ایک رفاہی اور انسان دوست تنظیم کے طور پر شہرت حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ خانقاہ رحمانی تحریک آزادی کے دوران ایک بڑا مرکز بن کر ابھرا۔
حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے  کئی تاریخی کارنامے انجام دیے۔
 1957ء میں آپ امارت شرعیہ بہار اڑیسہ کے امیر منتخب ہوئے۔ 1972ء میں اکابرین ملت کے ساتھ مل کر آپ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ قائم کیا اور پھر تاحیات اس کے جنرل سکریٹری رہے۔ ان تمام اداروں اور تحریکوں کے مشترکہ پلیٹ فارم سے آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے ملی وجود اور شریعت اسلامی کے تحفظ و بقا کے لئے پوری قوت اور جرأت کے ساتھ آواز اٹھائی جس سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو رہنمائی ملی۔
بالآخر ملت کا یہ دھڑکتا ہوا دل 1991ء میں اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملا۔
مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ کی وفات کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی (ولادت 5؍ جون 1943ء) کو 21؍مارچ 1991ء میں خانقاہ رحمانی مونگیر کا سجادہ نشیں بنایا گیا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نے بھی ہندوستان میں اسلامی اقدار وروایات کے اِحیا، اسلامی شریعت کی پاسبانی اور مسلمانوں کے دینی تشخص اور تہذیبی ورثے کی حفاظت، نیز فکری، علمی، اور عملی محاذوں پر اسلام اور مسلمانوں کی بےباک قیادت اور نمائندگی کا فریضہ انجام دیا۔ بالآخر آپ بھی مختصر علالت کے بعد 3؍ اپریل 2021ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دور حیات میں ہی  15؍نومبر 2015ء کو سالانہ فاتحہ خوانی کے موقع پر خانقاہ رحمانی کی مسجد میں اپنے بڑے صاحبزادے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے نام کا اعلان اگلے سجادہ نشیں کی حیثیت سے کردیا تھا، چنانچہ حضرت امیر شریعت کے وصال کے بعد 9؍ اپریل2021ء بروز جمعہ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ خانقاہ رحمانی کے باضابطہ پانچویں سجادہ نشیں ہوگئے۔
حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی ولادت 12؍مئی 1975ء کو خانقاہ رحمانی میں ہوئی، ابتدائی تعلیم دادا محترم مولانا منت اللہ صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ اور والد بزرگوار حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ کی نگرانی میں ہوئی۔
حضرت والا کا نسبی رشتہ (شجرہ آباء واجداد) سید العارفین حضرت سید عبدالقادر جیلانی بغدادی قدس سرہ سے مربوط ہے۔
فی الحال خانقاہ رحمانی آپ کی ذات باصفات سے شاد و آباد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں کاموں کا سلیقہ اور معاملات کے حل کی زبردست صلاحیت ودیعت فرمائی ہے، فہم و فراست میں اپنے والد کے نقشِ جمیل ہیں۔
ان کی صلاحیتوں سے خانقاہ رحمانی، جامعہ رحمانی اور امارت شرعیہ کو خوب خوب فائدہ پہونچ رہا ہے۔
اللہ رب العزت کو جس انسان سے جو کام لینا ہوتا ہے، اس کے لئے قدرت و صلاحیت، طاقت و استقامت اور رجال کار بھی فراہم کرتا ہے، ملک و ملت کی ہر دور میں یہی تاریخ رہی ہے۔ حضرت فیصل صاحب مدظلہ العالی کو اللہ تعالیٰ نے مدلل و مؤثر گفتگو سے مالا مال کیا ہے، اس کے ساتھ ہی لطف اندوز قوت سماعت، قوت عمل اور حسنِ کردار کا مظہر بھی بنایا ہے۔ آپ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام کرتے ہیں اور اپنی بات کہتے ہیں۔ حکمت و مصلحت کے دبیز پردے میں گول مول باتیں کرنا آپ نہیں جانتے۔ ‌مرعوبیت نام کی کوئی چیز ان کے یہاں نہیں ہے۔
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے براہ راست احقر سے کئی دفعہ  فیصل رحمانی دامت برکاتہم العالیہ کی خوبیوں اور امریکا میں ان کے ذریعے انجام دیے جانے والے کام اور کارناموں کا تذکرہ فرمایا تھا۔ ساتھ ہی جلد از جلد ہندوستان میں ان کے مستقل قیام کی تمنا کا بھی اظہار فرمایا تھا؛ لیکن آپ کی یہ تمنا آپ کی زندگی میں پوری نہ ہوسکی۔ جب حضرت کے وصال کے بعد مولانا احمد ولی فیصل صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو آپ کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو احساس ہوا کہ واقعی آپ حسنِ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز مثالی شخصیت کے مالک ہیں۔ جتنا آپ کے تعلق سے حضرت اور جامعہ رحمانی کے اساتذہ نے بتایا تھا آپ کو اس سے کہیں زیادہ لائق وفائق پایا۔ ایک دو ملاقتوں کے بعد محسوس ہوا کہ اللہ نے آپ کو بے شمار خوبیوں کا مجموعہ بنایا ہے۔
تدبر و تفکر، شعور و آگہی کے ساتھ آپ ملی مسائل پر بصیرت افروز عقابی نگاہ رکھتے ہیں اور اس معاملے میں والد، دادا اور پردادا کے سچے جانشین اور عکسِ جمیل ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی احساس ہوا کہ آپ اپنے آباء واجداد کی طرح ہندوستانی مسلمانوں کے دفاع، اسلامی تشخص کے تحفظ اور حقوق اسلامی کی بازیابی کے لیے کوشاں ہیں اور اس کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں۔
  اس کام کے لئے آپ نے اپنا عیش و آرام سب کچھ تج دیا ہے۔ جو بھی آپ سے ملتا ہے یہ محسوس کیے بنا نہیں رہتا کہ آپ کا ذہن و دماغ اتحاد و اتفاق کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔
خاکسار ابھی خانقاہ رحمانی مونگیر میں سالانہ فاتحہ خوانی کے پرکیف موقع پہ موجود ہے۔ یہ خانقاہ دوسری خانقاہوں سے بالکل مختلف ہے۔
یہاں طریقت شریعت کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ یہاں پر چادر پوشی، پھول مالا، عرس و قوالی کی مجلس نہیں لگتی ہے، بلکہ دینی اجتماع اور درود شریف کی مجلس جابجا لگی ہوئی ہے اور ہر طرف سے ”اللہم صل علی سیدنا محمد وعترتہ بعدد کل معلوم الک“ کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ اس خانقاہ میں رشد وہدایت، تبلیغ و ارشاد اور تزکیہ نفس کے علاوہ دینی، علمی، تحریکیں چلائی جاتی ہیں، اور بیعت وارشاد کا سلسلہ بھی جاری ہے، جہاں سے لوگ جوق در جوق آکر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 
حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم نے جامعہ رحمانی کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دوسرے شعبوں کو بھی وسعت دی ہے اور دو نئے شعبے بھی قائم فرمائے ہیں۔ ایک شعبہ تخصص فی الفقہ ہے اور دوسرا شعبہ ”شعبہ صحافت“ ہے۔
خاص طور پر آپ کی سرپرستی میں چلنے والا شعبہ دارالحکمت قابل ذکر ہے، یہ شعبہ قابل اور ذی استعداد اساتذہ کی نگرانی میں بہت عمدگی کے ساتھ کام کررہا ہے۔ جہاں طلبہ کو ابتدائی عمر سے ہی حفظ قرآن کریم کے ساتھ عربی زبان بولنے، لکھنے اور سمجھنے کی مشق کرائی جاتی ہے، ساتھ میں علوم عصریہ کا بنیادی نصاب بھی پڑھایا جاتا ہے۔
 خاکسار دست بدعا ہے کہ اللہ رب العزت خانقاہ رحمانی، جامعہ رحمانی اور امارت شرعیہ کو آپ کی ذات بالا ستودہ صفات سے دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔ آمین
 حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی علیہ الرحمۃ اکثر یہ بات  فرمایا کرتے تھے کہ: ”اپنی شخصیتوں کی حفاظت کیجیے، شخصیتیں بڑی مشکل سے بنا کرتی ہیں، اور بڑی آسانی سے پگھل جایا کرتی ہیں؛ اس لیے اپنے ملی وزن اور وقار کو باقی رکھنے کے لیے شخصیتوں کی حفاظت کیجیے، دنیا آپ کی ٹھوکروں میں ہوگی۔“
موجودہ سجادہ نشیں کے اندر سیاسی اور دور اندیشی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے؛ اس لیے آپ عصری اداروں میں دینی جہت قائم فرما کر ملت کی عظیم خدمت انجام دینے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ آپ بند کمرہ کے صوفی نہیں، بلکہ جہاں دیدہ ولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایۂ عاطفت تادیر صحت وعافیت کے ساتھ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔ آمین یارب العالمین
توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے