حیدررآباد کرناٹک کے خطے کی ترقی پر لاپرواہی ناقابل قبول – ایس ڈی پی آئی

37
بیدر۔ (پریس ریلیز)۔ ریاستی حکومت کا حیدرآباد کرناٹک کے اضلاع کی ترقی کو نظرانداز کرنا قابلَ قبول نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے بیدر،گلبرگہ، یادگیر، رائچور، کوپل، اور بلاری اضلاع کی آرٹیکل 371Jکے تحت خصوصی زون کے طور پر ترقی کے لئے ایک خصوصی اسکیم شروع کی تھی۔ یونوررسٹی، آبپاشی، سیاحت،انفراسٹرکچر، صنعتوں کا قیام، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع  وغیرہ کسی بھی نشانے کا حصول نہیں کیا جا سکاہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری اافسرکوڈلی پیٹ نے بیدر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کو فی الحال مرکزی حکومت سے گرانٹ حاصل کرتے ہوئے ان اضلاع کی ترقی کرنی چاہئے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی کمیٹی کے رکن عبد اللطیف پتور نے کہا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی وزارتوں میں مجرمانہ پس منظر والے لوگوں کو موقع نہیں دیا جاناچاہئے۔ سیاسی اقتدار ا ور منصوبہ سازی کے مقامات پر مجرمانہ پس منظر اور کروڑ پتیوں سے پُر کرنا نوجوانوں کے لئے غلط نمونہ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی شروع ہی سے پورے انتخابی نظام میں اصلاح کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ریاستی میڈیا انچارج اکرم حسن نے کہا کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ریاست میں صنعتی کاروباری اداروں کی صورتحال شدید مشکلات میں ہے۔  ایسے اطلاعات ہیں کہ تمام چھوٹے چھوٹے کاروبار، چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کا 80 فیصدی اور 1 کروڑ سے کم کے سرمایے والے کاروبار لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدیدمشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی حکومت سے کرایہ داروں کے لئے کرایہ میں چھوٹ، بجلی کے بلوں میں چھوٹ، مزدوروں کو بیس ہزار روپے کی امداد، سیلزمین اور دیگر افراد کے لئے ریلیف اور پریشانی میں مبتلاء کاروباری اداروں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کا مطالبہ کرتی ہے۔