ہوممضامین ومقالاتحیات و خدمات: حضرت مولانا صابر علی(رحمۃ اللّٰہ علیہ)*

حیات و خدمات: حضرت مولانا صابر علی(رحمۃ اللّٰہ علیہ)*

*حیات و خدمات: حضرت مولانا صابر علی(رحمۃ اللّٰہ علیہ)*
مفتی عبد الغفار/عقیل احمد خان ،
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حضرت مولانا صابر علی صاحب قاسمی چترویدی، جب،٢٢ربیع الاول ١٤٤٢ھ بمطابق ٩،نومبر٢٠٢٠ء، اللّٰہ کے جوار رحمت میں پہونچ گئے، اس وقت دل میں باربار یہ داعیہ پیدا ہو رہا تھا کہ حضرت والا کی سوانح، ان کی دینی، ملی، سماجی، تدریسی خدمات کو منظر عام پر لایا جائےجو نوجوان نسل کی ذھن سازی کا باعث ہوں۔
حضرت والا کی شخصیت نہ صرف، ان کے آباءی گاؤں، گردھر پور، اور مدرسہ نور العلوم جوری کیلیے نفع بخش تھی، بلکہ گورکھپور تالکھنو و پرتابگڈھ، اور صوبہ بہار کے لئے بھی نفع بخش اور بافیض شخصیت تھی۔
حضرت والا کی ولادت پاسپورٹ میں درج تاریخ کے مطابق 1943ء ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت ایک ناخواندہ گھرانے میں ہوئی، دادا جان، جناب محمد سلیم مرحوم اگرچہ پڑھے لکھے انسان نہ تھے، مگر ایک صالح ونیک صفت انسان تھے۔ کون جانتا تھا کہ ایک دن یہ بچہ گاؤں گردھرپور کی موثر شخصیت بنکر ابھرے گا، جس کافیض صرف گاؤں تک ہی محدود نہیں بلکہ پورے قرب وجوار اور پڑوسی صوبہ بہار تک بھی ہوگا۔ برادران وطن میں اسلام کا تعارف کرانے کے سلسلے میں، ہندو دھرم گروؤں کی لکھی ہوئی کتابیں، منو اسمرتی، چاروں وید، (رگ وید، یجروید، شام وید، اتھروید) اور گیتا، کاانہماک کے ساتھ مطالعہ بھی کیا، اور موقع بموقع برادران وطن میں دعوت بھی حکمت عملی کے ساتھ دیتے رہے۔
ایک مرتبہ گورکھپور میں کسی مقام پر برادران وطن میں دینی و دعوتی پروگرام تھا وہاں کے لوگوں نے پروگرام شروع ہونے سے پہلے حضرت مولانا سے کہا یہ ہندوؤں کا مرکز ہے ذرا محتاط رہیں گے۔ خیر جب پروگرام شروع ہوا تو حضرت والا نےحسب عادت اپنی پوری بات رکھی اور کرسی سے اتر گئے۔ برادران وطن نے دوبارہ سننے کی درخواست کی، پھر دوبارہ بیان ہوا۔
حضرت والا گاؤں ہی کے مکتب میں 1952ء میں داخل ہوئے، آپ کے مکتب کے اخص الخاص استاذ جوری کے مولانا عبد الرشید صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، پھر عربی درجات کی تعلیم کیلئے بہرائچ کی معروف ومشہور دینی درسگاہ جامعہ مسعودیہ نور العلوم میں داخلہ لیا، وہاں آپ کے اساتذہ میں مفتی نعمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالصمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ صاحب مفتاح القرآن مولانا محفوظ الرحمن نامی کی خدمت کرنے کا شرف بھی حاصل تھا ،پھر اعلی تعلیم کے لئے ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں عربی چہارم میں داخلہ لیا 1966ء جو دارالعلوم کاسواں سال ہے فارغ التحصیل ہوئے۔
چھ سال دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی آپ کے اساتذہ میں آپ کے مشفق استاذ مولاناانظر شاہ ابن علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا ازہر شاہ قیصر، شیخ نصیر احمد خان صاحب بلند شہری ، مولانا اسعد صاحب مدنی، مولانا اختر حسین صاحب دیوبندی، مولانا بشیر احمد خان صاحب بلند شہری، مولانا حسین صاحب بہاری، فخر المحدثین مولانا فخر الدین صاح مرادآبادی، مولانا فخر الحسن صاحب مرادآبادی، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ودیگر اساتذہ قابل ذکر ہیں۔
دارالعلوم سے فراغت کے آپ اپنے استاد محترم مولانا فخر الحسن صاحب مرادآبادی کی ایماء پر مرادآباد ہی میں عمری کلاں نامی گاؤں کے ادارہ میں بحیثیت مدرس تشریف لے گئے۔ راجستھان کے لیوڑا نامی گاؤں میں بھی کچھ دنوں تک درس قرآن کی خدمت انجام دیا۔
تقریبا نوسال تک مغربی یوپی کے متعدد مدارس جامعہ اعزاز العلوم ویٹ، جامعہ قاسم العلوم کٹیسرہ ضلع مظفر نگر، جامعہ مدینہ العلوم نگینہ ضلع بجنور میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ بالآخر ضلع بستی (موجود سنت کبیر نگر) کی قدیم، معروف ومشہور دینی درسگاہ نور العلوم جوری سے 1976ء میں وابستہ ہوئے اور دسمبر 2017ء (بیالیس سال) تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔
نیز 21، مٔی1999ء میں قائم شدہ "مجلس ارشاد المسلمین” سے بھی وابستہ رہے۔
حضرت والا یوں تو بے شمار خوبیوں کے مالک اور امتیازات سے متصف تھے لیکن ان کا خصوصی امتیاز شغلِ قرآن تھا۔ موسم گرما ہو یا موسم باراں یا موسم سرما، گھر پر ہوں یا مدرسے پر فجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت ضرور کرتے تھے۔ قرآن پاک سے شغف ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد حفظ ازخود کیا۔
گاؤں گردھرپور کے قدیم عالم دین مولانا ابوالخیرصاحب کے پاس ان کے گھر قرآن سنانے کے لیے جاتے تھے۔ جب تک رو بصحت تھے رمضان المبارک میں قرآن پاک اپنے لڑکوں میں سے کسی کو ضرور سناتے۔
اس تحریر کا مقصد حضرت والا کی ناموری اور شہرت ہرگز نہیں ہے بلکہ ان کی خدمات سے سبق حاصل کرکے ان کے مشن کو رضاء الٰہی کی خاطر آگے بڑھایا جائے اس لئے قلم جنبانی کی جارہی ہے۔ اس لئے کہ انہی اکابرین کی محنتوں اور قربانیوں سے ہم سب مستفید ہو رہے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ حضرت والا کی قبر کو نور سے بھردے۔ ان کو کروٹ کروٹ سکون وچین نصیب فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرماے۔ آمین یا رب العالمین ۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے،
مضمون سے منسلک تصویر
مولانا محمد صابر علی چترویدی علیہ الرحمہ ،

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے