ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہارات  حکومت سوریہ نمسکار کے مجوزہ پروگرام سے باز آئے اور...

  حکومت سوریہ نمسکار کے مجوزہ پروگرام سے باز آئے اور مسلمان طلبہ وطالبات ایسے پروگراموں میں شرکت نہیں کریں  

 

حکومت سوریہ نمسکار کے مجوزہ پروگرام سے باز آئے

اور مسلمان طلبہ وطالبات ایسے پروگراموں میں شرکت نہیں کریں

 مولانا خالد سیف ﷲ رحمانی (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کا بیان

نئی دہلی: 3؍جنوری 2022ء

     حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، اسی اصول پر ہمارے ملک کا دستور مرتب ہوا ہے، اسکولوں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی اس کا لحاظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، دستور ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں کسی خاص مذہب کی تعلیم دی جائے، یا کسی خاص گروہ کے عقیدہ پر مبنی تقریبات منعقد کی جائیں، مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اس اصول سے ہٹتی جا رہی ہے، اور وہ ملک کے تمام طبقات پر اکثریتی فرقہ کی سوچ اور روایت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اسی کا ایک مظہر یہ ہے کہ حکومت ہند کے انڈر سکریٹری وزارت تعلیم نے ۷۵؍ویں یوم آزادی سالگرہ کے موقع پر ۳۰؍ ریاستوں میں سوریہ نمسکار کا ایک پروجیکٹ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ۳۰؍ ہزار اسکولوں کو پہلے مرحلہ میں شامل کیا جائے گا، یکم جنوری ۲۰۲۲ء سے ۷؍ جنوری ۲۰۲۲ء تک کے لئے یہ پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، اور ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۲ء کو سوریہ نمسکار پر ایک میوزیکل پرفارمینس کا بھی منصوبہ ہے، ریاست آندھر ا پردیش کے تمام ضلعی تعلیمی افسران کو مرکزی حکومت کی طرف سے اس کی ہدایت دی گئی ہے، یہ یقینی طور پر غیر دستوری عمل ہے، اور حب الوطنی کا جھوٹا پرچار ہے، سوریہ نمسکار سورج کی پوجا کی ایک شکل ہے، اسلام اور ملک کی مختلف اقلیتیں نہ سورج کو معبود سمجھتی ہیں اور نہ اس کی پرستش کو درست جانتی ہیں؛ اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کی ہدایت کو واپس لے اور ملک کے سیکولر اقدار کا لحاظ رکھے، ہاں، اگر چاہے تو حب الوطنی کے جذبہ کو ابھارنے کے لئے قومی ترانہ پڑھوائے، اگر واقعی حکومت وطن عزیزسے محبت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ملک کے حقیقی مسائل پر توجہ دے، ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، گرانی، کرنسی کی قدر میں گراوٹ، باہمی منافرت کا باضابطہ پرچار، ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں کوتاہی، حکومت کی طرف سے عوامی اثاثوں کی مسلسل فروخت ، یہ وہ حقیقی مسائل ہیں، جن پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے، مولانا رحمانی نے کہا کہ مسلمان بچوں کے لئے سوریہ نمسکار جیسے پروگرام میں شرکت قطعاََ جائز نہیں ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔

                    ✍🏼 جاری کردہ

           ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی

                      (آفس سکریٹری)

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے