ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتحوصلوں کاشاہین!

حوصلوں کاشاہین!

حوصلوں کا شاہین میرا ضلع پریشد!

مفتی صاحب!آپ میرے چھوٹے سے جلسے میں تشریف لائے، بےحد خوشی ہوئی،میں نے آپ کو جب بھی دعوت دی آپ نے ہماری حوصلہ افزائی کی ہے۔یہ میرا مکتب ہے جس کا آغاز میں نے پھونس اور جھونپڑی سے ہی کردیا ہے،آپ دعاء کردیں کہ کم از کم ایک استاذ کی تنخواہ کا نظم ہوجائے؛کیا کروں لوگوں کی دینی تعلیم سے بے توجہی کی وجہ سے وقت پر مکتب کے معلم کی تنخواہ کی بھی ادائیگی نہیں ہوپاتی،ایک سائیکل ہے اسی سے اپنا سفر کرتا ہوں،وہی میرے مکتب کے نظم و نسق کی بھی سواری ہے اور اسی سے سماجی و معاشرتی اصلاح کی جدوجھد کے لئے دوڑ دھوپ بھی کرتا ہوں۔۔۔

یہی ہیں بھائی عبد الغفور طوفانی صاحب جنہیں پرسوں 10/دسمبر 2021 کو ضلع ارریہ کے بلاک جوکی ہاٹ کے حلقہ نمبر 29/ سے الیکشن کمیشن کے ہاتھوں ضلع پارشد کے عہدے کا پروانہ جاری کیا گیا ہے۔

میرے گھر سے محض پانچ کلومیٹر پر واقع مشہور خطاط جناب مولانا طارق بن ثاقب قاسمی دامت برکاتہم کے گاؤں جوگندر کے رہنے والے اس شاہین صفت شخص کی زندگی کی کس مپرسی اور ان کی اولوالعزمی کی داستان الم ناک سنیں گے تو دانتوں تلے انگلی دبالیں گے۔

آٹھ دس سال قبل میرے گھر سے دو کلومیٹر پر واقع بھنسیا چوک پر ایک روز ملاقات ہوئی،تب میرے گاؤں ترکیلی میں چوک نہیں تھا،میں نائی کی دوکان پر بال بنوارہا تھا کہ طوفانی بھائی آگئے۔فراغت ہوئی تو تپاک سے ملے،علیک سلیک ہوا تو میں نے پوچھ ڈالا کہ طوفانی بھائی!وہ سائیکل کیا ہوئی؟

کہنے لگے کہ اپنے مکتب کے معلم کی تنخواہ باقی تھی اور ادائیگی کی کوئی سبیل نہیں تھی،میں نے وہ سائیکل بیچ دی اور جو رقم ملی وہ معلم کو دے دیا۔میری حیرت کی انتہا نہیں رہی،میں نے ازراہِ مذاق کہا کہ سائیکل تھی تو اس سے مکتب کا نظام اور سماجی و معاشرتی حوالے سے دوڑ دھوپ کرلیتے تھے اب تو وہ بھی نہیں رہی اب گاڑی کیسے چلے گی؟

کہنے لگے کہ خدا مالک ہے وہ پھر کوئی نہ کوئی راستہ فراہم کردے گا انشاء اللہ۔

ایک رات انہوں نے جوگندر اسکول کے کیمپس میں جلسہ کیا،غالبا مئی کا مہینہ تھا،عشاء بعد میری تقریر تھی،قبل اس کے کہ میں اپنے بیان کا آغاز کرتا اتنی تیز ہوا چلی کہ قناتیں اکھڑ گئیں۔میں نے مائک سے ان کا نام پکارا کہ آپ اسٹیج پر آجائیں اب جلسہ ممکن نہیں ہے۔ان کا حوصلہ دیکھئے،وہ دوڑے ہوئے آئے اور مائک لےکر نوجوانوں کو آواز پر آواز لگائی اور چند منٹ پر پورا پنڈال دوبارہ سج دھج کر تیار تھا۔جلسہ ختم ہوا تو روانگی کے وقت بڑی لجاجت سے کہنے لگے کہ مفتی صاحب!بڑا قلق ہورہاہے کہ میں آپ کو موٹر سائیکل کے تیل کا پیسہ بھی نہیں دے پاؤں گا کیونکہ جو کچھ اکٹھا کیا وہ سارا جلسہ کے انتظام میں خرچ ہوگیا۔

2017 کے سیلاب کے موقع سے جمعیت علماء ہند کے ذریعے جمعیت علماء بہار کی نگرانی میں سیمانچل اور اتر دیناجپور میں سیلاب متاثرین کیلئے شیڈ کے مکانات کی تعمیر کروائی جارہی تھی۔ضلع ارریہ میں بھی 100/ ایک سو مکانات تعمیر کروائے گئے۔کام ہوتے ہوتے رمضان المبارک کا مہینہ آگیا۔میں سفر پر بنگلور نکل گیا۔افطار اور نماز مغرب سے فراغت کے بعد وہاٹسپ کھولا تو دیکھا کہ عبد الغفور طوفانی صاحب کے نمبر سے ایک پھونس کے جلے ہوئے گھر کی کئی تصاویر آئی ہوئی ہیں،مگر تصاویر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں ہے۔میں نے فوراً انہیں فون کیا کہ یہ کہاں کا حادثہ ہے عبد الغفور بھائی؟

کہنے لگے کہ یہ میرا ہی آشیانہ ہے جو جل کر راکھ ہوگیا ہے اور اب میرے پاس بال بچوں کے سر چھپانے کیلئے کوئی سائبان تک موجود نہیں ہے۔آپ جمعیت کے ذریعے بننے والے مکانات میں سے میرا بھی گھر بنوادیں۔

اولا تو میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں کہ رمضان المبارک کے ایام،افطار کا وقت اور پھر پھونس و چھپر کا آشیانہ وہ بھی جل گیا۔میں نے جمعیت علماء ارریہ کے صدر محترم ڈاکٹر عابد حسین صاحب سے فوری مشورہ کیا اور رائے رکھی کہ ایک گھر جو فلاں کے نام پر ہے اور ابھی انہیں مطلع نہیں کیا گیا ہے،کیا بہتر ہوتا کہ وہ ان کے بجائے عبد الغفور طوفانی بھائی کے بال بچوں کے سر چھپانے کے لئے بنوادیا جائے۔ڈاکٹر صاحب بھی فوراً تیار ہوگئے اور پھر مولانا حدیث اللہ نصر بھاگلپوری آفس سیکرٹری کی نگرانی میں گھر بن کر تیار ہوگیا۔

پھر کافی عرصہ کے بعد دوتین سال قبل ایک دن سوشل میڈیا پر دیکھا کہ دہلی پارلیمنٹ کا احاطہ ہے اور ماہ جون کی چلچلاتی دھوپ میں وہ مختلف موضوعات پر مہینوں سے دھرنا پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

میرا دماغ گھوم گیا کہ جھونپڑی کا آشیانہ،سائیکل کی سواری اور پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ۔۔۔یہ انسان ہے یا انسان کے بھیس میں حوصلے کی علامت شاہین ہے۔

ابھی ایک ماہ قبل میں اپنے گھر سے متصل ترکیلی اوداہاٹ سڑک پر نماز فجر کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سامنے ایک بار پھر سائیکل پر عبد الغفور طوفانی صاحب پچھم سے پورب جانب چلے آرہے ہیں۔میں کھڑا ہوکر انتظار کرنے لگا،وہ جونہی قریب پہونچے تو سائیکل سے اترتے ہی مصافحہ کیا۔میں نے مذاق کیا کہ بھائی عبد الغفور صاحب دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی ہے،سیاست پیسوں کے اردگرد گھوم رہی ہے اور آپ ریل کا انجن نشان لے کر سائیکل سے ضلع پارشد کا پرچار کررہے ہیں؟میں نے ان کے چہرے پر ذرہ برابر سبکی کا اظہار نہیں دیکھا۔وہ یقین اور عزم و استقلال کے ساتھ کہنے لگے کہ مجھے اللہ نے جو کچھ میسر کیا ہے میں اسی کے سہارے الیکشن لڑوں گا انشاء اللہ۔بس آپ دعاء کردیں۔

الحاصل دس روز قبل ترکیلی چوک پر مغرب کی نماز کے بعد اپنے عزیز توصیف نعمانی کی دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک بڑی ریلی بیرگاچھی چوک سے بھنسیا چوک کو جاتے ہوئے دیکھا،جس میں آگے آگے ایک کھلی ہوئی کار ہے جس کے پیچھے بیسیوں موٹر سائیکل طوفانی صاحب زندہ باد طوفانی صاحب زندہ باد،ریل کا انجن زندہ باد زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔میں نے حیرت سے لوگوں سے کہا کہ یہ اتنی بڑی ریلی کن کی ہے؟

لوگوں نے کہا کہ یہی نہیں کہ یہ ریلی طوفانی صاحب کی ہے بلکہ وہی جیت بھی رہے ہیں۔علاقے کے لوگ اپنی جان،اپنا مال اور اپنا وقت لگا کر ان کا سپورٹ کررہےہیں۔۔۔

اور جب 10/دسمبر 2021 کو ووٹوں کی گنتی اور کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہوا تو چاروں طرف ایک انجان ہجوم تھا جو طوفانی صاحب زندہ باد زندہ باد کے نعرے لگارہا تھا۔

سچ کہا تھا علامہ اقبال مرحوم نے نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے:

ترے صوفے ہیں افرنگی

ترے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے

جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا شکوہ خسروی

بھی ہوتو کیا حاصل

نہ زور حیدری تجھ میں

نہ استغناء سلمانی

نہ ڈھونڈ اس چیز کو

تہذیب حاضر کی تجلی میں

کہ پایا میں نے استغناء میں

معراج مسلمانی۔۔۔

اور علامہ اقبال ہی نے کہا تھا:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید،نومیدی زوال علم و عرفاں ہے

امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔۔۔

بلاشبہ ہمارے حلقے کے نومنتخب ضلع پارشد جناب عبد الغفور طوفانی صاحب نے اپنی غریبی،مفلسی،لاچاری،بےسروسامانی اور سماجی بےوقعتی کا رونا روئے بغیر اپنے بےمثال عزم و ارادے،جہد مسلسل اور عمل پیہم سے ثابت کردیا کہ

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں۔۔۔

وہ ان ہی حالات میں مسلسل کوشاں رہے اور کئی بار سیاست کے کئی میدان میں زور آزمائی کرتے رہے اور ہر بار کی ناکامی کو کامیابی کی سیڑھی بناکر وہ منزل کی تلاش میں سرگرداں رہے۔بالآخر غیر معمولی وقعت و اہمیت،متعدد اصحاب دولت و ثروت اور کئ ارباب سیاست و قیادت کے مقابلے میں جیت کی ایک سنہری تاریخ رقم کرنے میں وہ کامیاب ہوگئے۔

ان سبق آموز باتوں کے ساتھ انہوں نے آج کی موجودہ سیاست کے اس مزاج کو بھی غلط ثابت کردیا کہ الیکشن صرف اسباب و وسائل،علائق و تعلقات،روپے پیسے،دولت وثروت،جاہ و منصب،طمع و لالچ،ڈرانے دھمکانے اور دھونس و دھمکی والی راہوں سے ہی جیتا جاسکتا ہے۔

طوفانی صاحب نے ثابت کردیا کہ اگر انسان میں سچی انسانیت ہو،خدمت کا مخلصانہ جذبہ ہو،اخلاق فاضلہ سے وہ مزین ہو،بےلوث و بےغرض اس کی ہمدردی ہو،دل دولت استغناء سے مالامال ہو،سماج و معاشرے کی تعمیر وترقی کا خالص جذبہ ہو اور ان تمام اوصاف وکمالات کے ساتھ اس شخص میں اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے بےپناہ شوق و ولولہ،حوصلہ و لگن اور جنون کی حد تک منزل کو پا لینے کی للک موجود ہو تو دنیا کے تمام تر اسباب و وسائل کی عدم موجودگی کے باوجود محض اللہ کے فضل وعنایت سے منزلیں خود قدم بوسی کے لئے تیار رہتی ہیں۔

میں نے جیت کی شام ہی انہیں خوب خوب مبارکباد پیش کی اور کہاکہ آپ نے جس بےسروسامانی کے ساتھ جیت کی ایک خوبصورت تاریخ رقم کی ہے اسی طرح اپنے حلقے کی تعمیر وترقی،عوام کے حل طلب مسائل کے لئے بلاخوف و خطر انصاف کے لڑائی،جھوٹ کرپشن اور موجودہ مشتبہ سیاست میں ایک نئی اور سنہری و مثالی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ آپ پر لوگوں نے جس والہانہ محبت و شفقت کا معاملہ کیا ہے وہ ہر حال میں بحال ہی نہیں رہے بلکہ وہ کام دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ ہو۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے