حضورغوث اعظم حیات وخدمات ایک جائزہ

42

اللہ تعالی نے دنیا میں ان گنت لوگوں کو پیدا فرمایا اور مخلوق کی رشدوہدایت کے لئے اس دنیاء فانی میں انبیاء کرام پیغمبران عظام اور رسولان عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا،اور جب تک یہ حضرات زندہ رہے مخلوق کی رشدوہدایت کا فریضہ انجام دیتے رہے، پھر جب اس دنیاء فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے تو اب اللہ تعالیٰ نے یہ کام اولیاء کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے سپرد فرمایا، اور اولیاء کرام کی جماعت اس کارخیر کو بخوبی انجام دے رہے ہیں، اس تناظر میں جب ہم حضورسیدنا سرکارغوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات وخدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے آپ کے آنے سے پیشتر دنیا کا عجب حال تھا، برائیاں، اور مسلمانوں کے مابین انتشار ہو چکا تھا اجتماعی قوت مفقود ہوچکی تھی، پانچویں صدی ہجری کے آخر میں دنیائے اسلام میں ایک ہولناک انتشار پیدا ہوچکا تھا مسلمانوں کی اجتماعی قوت فرقہ بندی اور باہمی تشتت و افتراق کی نذر ہو چکی تھی ، ان میں بدعات اور غیر اسلامی معتقدات کی نشوونما خوب زور وشور سے ہورہی تھی ،چہار جانب محرومی ، شقاوت ، جبر و استبداد اور فسق وفجور کا دور دورہ تھا ، غیر مسلم اقوام اس کا مکمل طور سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھیں ،

وہ نہ صرف مسلمانوں کو اختیار واقتدار سے بےدخل کرنے کے منصوبے بنا رہی تھی بلکہ اپنے ادیانِ باطلہ کو دینِ حق سے افضل و اعلی ثابت کرنے کے لئے بھی مکمل کوشاں تھیں ، الغرض نکبت و ادبار کی منحوس عفریت ملتِ اسلامیہ پر ہرچہار جانب سے چھارہی تھی ،اور دینِ حنیف پر پژمردگی طاری تھی یکا یک رحمتِ خداوندی جوش میں آئی اور اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک روشنی سے بھر پور مردِکامل کا ظہور ہوا،جس کی مسیحا نفسی نے مردہ دلوں کو تازہ حیات بخش دی، مردہ دلوں کو نورالہی سے منور ومجلی کردیا،وہ ایک ابرِرحمت تھا جس نے بے برگ وبار، خزاں رسیدہ شجرِ ملت اسلامیہ کو سرسبز و شاداب کردیا یہ مردِکامل کون تھا؟ جامعِ علوم و فضائل ،منبعِ رشد و ہدایت ، آسمانِ ولایت کا مہرِ عالم تاب ، قطب ربانی ، محبوبِ سبحانی ،شہبازِ لامکانی ،قطب الاقطاب ،غوث الاغواث، غوث الثقلین ، سیدالاولیاء حضور شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی

ذات با برکات تھی، ●نام وکنیت۔ اسم گرامی عبدالقادر، کنیت ابو محمد اور لقب محی الدین تھا، عامۃ المسلمین میں آپ غوثِ اعظم (رضی اللہ تعالی عنہ) کےنام سے مشہورومعروف ہیں ●سلسلہْ نسب۔آپ کا معزز سلسلہء نسب والدِ ماجد کی طرف سے گیارہ واسطوں سے اوروالدہ ماجدہ کی طرف سے چودہ واسطوں سے ميرالمؤمنين خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم تک پہونچتا ہے .آپ دونوں طرف سے سید ہیں ،امیر کشور شعروسخن رئیس التحریر عاشق رسول حضرت علامہ عبدالرحمن جامی علیہ الرحمۃ والرضوان حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عالی مرتبت نسب کا ذکرکچھ اس طرح کرتے ہیں، آں شاہ سرفراز کہ غوث الثقلین است۔دراصل صحیح النسبین از طرفین است۔از سوئے پدر تا بحسن سلسلہْ اوست ،و ازجانبِ مادر دُر دریائے حسین است ۔وہ عالی مرتبت بادشاہ جو غوث الثقلین ہیں، فی الحقیقت نسبی لحاظ سے نجیب الطرفین ہیں . والدماجد کی طرف سے آپکا سلسلہْ نسب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک اور والدہ محترمہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک منتہی ہوتا ہے●ولادتِ باسعادت حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تاریخِ ولادت سے متعلق دو روایتیں ہیں ،ایک روایت یہ ہے کہ آپ یکم رمضان المبارک 470 ھ کو عالمِ قدس سے عالمِ امکان میں تشریف لائے،دوسری روایت یہ ہے کہ آپ یکم رمضان المبارک 471 ھ کو بوقت شب کتمِ عدم سے منصہْ شہود پر جلوہ فگن ہوئے، ●جائےپیدائش ۔ حضور سیدنا غوثِ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مولدِ مبارک عراق کے دارالخلافہ بغداد سے تقریباً چار سو میل کے فاصلہ پر قصبہ نیف علاقہ گیلان بلاد فارس ہے، شبِ ولادت کی صبح رمضان المبارک کی سعادتوں اور برکتوں کو اپنے جلو میں لئے ہوئے تھی گویا یکم رمضان المبارک اس دنیا ئے رنگ وبو میں آپ کی آمد کا پہلا دن تھا حضرت غوث پاک نے روزِ اول ہی روزہ رکھ کر ثابت کر دیا کہ آپ جن صلاحیتوں سے بہرہ مند تھے ان کی سعادت کسبی نہیں وہبی تھی، حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خود ایک شعر میں اپنے زمانہْ رضاعت کے روزوں کا ذکر کیا ہے(بدایۃُ امری ذِکرُہ ملاء الفضاء ۔وَ صومی فی مھدی بہ کان) یعنی میرے زمانہْ طفولیت کے حالات کا ایک زمانہ میں چرچا ہے اور گہوارہ میں روزہ رکھنا مشہور ہے، آپ نے ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ ایک صدمہء جانکاہ سے دوچار ہونا پڑا یعنی آپ کے والدِ ماجد حضرت شیخ ابو صالح موسی جنگی دوست رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اچانک داعیِ اجل کو لبیک کہا اور اس طرح آپ اپنے ہادی و آقا سید المرسلین خاتم النبيين جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے مانند کمسنی میں در یتیم بن گئے، اس وقت آپ کے نانا حضرت سید نا عبداللہ صومعی رضی اللہ تعالٰی عنہ زندہ تھے انہوں نے یتیم نواسے کو اپنی سرپرستی میں لے لیا

●تحصیل وتکمیلِ علوم۔حضرت کی ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں ہوئی پھر بغداد پہونچ کر مدرسہ نظامیہ میں داخل ہو گئے یہ مدرسہ دنیائے اسلام کا مرکزِ علوم وفنون تھا اور بڑے بڑے نامور اساتذہ اور ائمہْ فن اس سے متعلق تھے علم قراْت ،علم تفسیر ، علم حدیث ،علم فقہ ،علم لغت ، علم شریعت ، علم طریقت غرضیکہ کوئی ایسا علم نہ تھا جو آپ نے اس دور کے باکمال اساتذہ وائمہ سے حاصل نہ کیا ہو اور صرف حاصل ہی نہیں بلکہ ہر علم میں وہ کمال پیدا کرلیا کہ تمام علماء زمانہ سے سبقت لے گئے آپ نے 496 ھ میں ان علوم میں تکمیل کی سند حاصل کی اور تمام علوم کے امام بن گئے ، کرہْ ارض پر کوئی ایسا عالم نہیں تھاجو آپ کی ہمسری کا دعوٰی کرسکے۔●مجاہدات وریاضات۔در جوانی توبہ کردن شیوہْ پیغمبری، وقتِ پیری گرگ ظالم می شود پرہیزگار۔جوانی میں توبہ کر نا شیوہْ پیغمبری ہے۔بوڑھاپے میں تو ظالم بھیڑیا بھی پرہیزگار بن جاتا ہے،چھبیس سال کی عمر ارمانوں اور امنگوں سے بھرپور ہوتی ہے شباب کی مستیاں ہر لحظہ اکساتی ہیں، شباب کی ان فتنہ انگیزیوں سے اگر کوئی مردِ خدا دامن بچاکر نکل جائے تو اس کی خوش قسمتی کا کیا کہنا ، حضور سیدنا غوثِ پاک رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر بھی 496ھ میں چھبیس سال کی تھی دنیائے رنگ و بو کی رنگینیاں ہر طرف سے دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں لیکن آپ نے اس دعوت کو ٹھکرا دیا اور عراق کے وسیع و عریض بے آب و گیاہ بیابانوں کو اپنا مسکن بنالیا دن رات ہولناک دشت و بیابان میں پھر تے رہتےتھے، 496 ھ میں ہر قسم کے علوم پر کامل عبور حاصل کر کے مجاہدات و ریاضت میں مشغول ہوگئے چنانچہ 496 ھ سے 521 ھ تک پچیس سال کی طویل مدت میں آپ نے طریقت و تصوف کی عملی تعلیم حاصل کی ۔ دنیوی سے تعلق قطع کرکے خدا سے لو لگائی اور کثرت عبادت وریاضت سے فنافی اللہ و فنا فی الرسول کے مقام پر پہونچے ،ان مجاہدات نے انہیں عزیمت و استقامت اور اتباعِ کامل کا پہاڑ بنا دیا، ●خرقہْ ارادت۔سیدنا غوثِ اعظم کے ورودِ بغداد کے وقت حضرت ابوالخیر حماد بن مسلمہ الدباس اور حضرت قاضی ابوسعید مبارک مخرمی علومِ طریقت کے مسلم رہنما تھے دونوں اولیاء کامل تھے ، سیدنا غوث اعظم نے ان دونوں بزرگوں سے بے شمار فیوض روحانی حاصل کئے لیکن ابھی بیعت و ارادت کے رشتے سے منسلک ہونا باقی تھا جب آٹھ سال کی طویل مدت میں ہر قسم کے علوم میں یکتا ہوگئے اور پھر پچیس سال کی بےمثال مجاہدات و ریاضات کے بعد آپ کو پورا تزکیہْ نفس حاصل ہوگیا تو وقت آگیا کہ آپکا ہاتھ کسی پیر طریقت کے ہاتھ میں دے دیا جائے چنانچہ منشائے الہی کے مطابق آپ حضرت قاضی ابوسعید مبارک مخرمی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کر کے ان کے حلقہْ ارادت میں شامل ہوگئے ، پیرِ کامل کو مریدِ کامل پر بے حد ناز تھا،ایک دن حضور غوث پاک اپنے پیرکامل کے پاس مسافر خانہ میں بیٹھے تھے کسی کام کے لئے اٹھ کر باہر گئے تو قاضی ابوسعید مبارک نے فرمایا ” اس جوان کے قدم ایک دن تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہونگے اور اس کے زمانے کے تمام اولیاء اس کے آگے انکساری کریں گے”پھر حضرت شیخ ابو سعید مبارک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کو خرقہْ ولایت پہنایا اور فرمایا ” اے عبدالقادر یہ خرقہ جناب سرورِ کائنات رسولِ مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم نے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطا فرمایا انہوں نے خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما یا اور ان سے دست بدست مجھ تک پہونچا “●درس وافتاء۔سید نا غوثِ اعظم نے ایک طرف تو باطل کے مورچوں پر عوامی خطبات کے ذریعہ حملہ کیا دوسری طرف درس و تدریس اور افتاء کے ذریعہ اقامتِ دین کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا ، دور دراز سے لوگ آپ سے علوم شریعت وطریقت حاصل کرنے کے لئے جوق در جوق آتے آپ پوری توجہ سے ان کی علمی تشنگی دور کرتے اور وہ علم کے اس بحرِ ذخار سے سیراب ہوکر گھروں کو لوٹتے چند سالوں کے اندر آپ کے تلامذہ اور ارادت مند تمام عراق ، عرب ، شام اور دوسرے ممالک میں پھیل گئے، مدرسہ میں روزانہ ایک سبق تفسیر کا ، ایک حدیث کا ، ایک فقہ کا ، ایک اختلاف ائمہ اہلِ سنت کا اور ان کے دلائل کا ہوتا، علاوہ ازیں علومِ طریقت کے متلاشیوں کو رموز شریعت سمجھا تے تھے ، ظہر کے بعد تجوید کی تعلیم ہوتی تھی مذہب اہل سنت و الجماعت کو آپ کے درس و تدریس سے بڑا فروغ حاصل ہوا اور اس کے مقابلہ میں بد اعتقادی اور بدعات کا بازار سرد پڑگیا،آپ کے علم وفضل کا جب چہاردانگِ عالم میں شہرہ ہوا تو ہر طرف سے بکثرت استفتاء آنے لگے آپ بالعموم مذہبِ حنبلی اور مذہبِ شافعی کے مطابق فتوے دیتے ، فتوی نویسی کی سرعت کا یہ عالم تھا کہ کبھی کوئی استفتاء آپ کے پاس رات بھر نہیں رہا ، علماء عراق آپکے فتاوی کی صحت اور جواب کی سرعت پر بے حد تعجب کرتے اور آپ کی مدح سرائی کرتے، آپ کے صاحبزادہ حضرت شیخ تاج الدین عبدالرزاق علیہ الرحمۃ والرضوان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ بلادِ عجم سے آپ کے پاس ایک استفتاء آیا جو اس سے پہلے اکثر علماء عراق کے سامنے پیش ہوچکا تھا مگر کسی نے اسکا تسلی بخش جواب نہیں دیا ، استفتاء کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ کوئی ایسی عبادت کریگا جسمیں عبادت کے وقت کوئی دوسرا شریک نہیں ہوگا اگر وہ ایسی نہ کر سکے تو اس کی بیوی کو تین طلاق ایسی عبادت کونسی ہوسکتی ہے تمام علماء اسکا جواب دینے سے قاصر تھے ، جب سیدنا غوث اعظم کے پاس یہ استفتاء آیا تو آپ نے فوراً اس پر یہ فتوی دیا کہ وہ شخص مکہ معظمہ چلا جائے مطاف اس کے لئے خالی کر دیا جائے اور وہ ایک ہفتہ تک تنہا طواف کرے یہ جواب سن کر علماء حیران رہ گئے اسی طرح آپ کے تمام فتاوی علم وحکمت کا مظہر اور ذہن رسا کا شاہکار ہوتے تھے ●احیاء دین۔ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دنیا ئے اسلام میں محی الدین کے معزز و مؤقر لقب سے پکارا جاتا ہے حقیقت یہ ہیکہ آپکا سب سے بڑ ا کارنامہ یہی ہے کہ آپ نے احیاءِ اسلام کے لئے بےمثال جد و جہد فرمائی ، مجلسِ وعظ ہو یا خانقاہ کی خلوت ، مدرسہ کے اوقاتِ درس و تدریس ہوں یا مسندِ افتاء ، ہرجگہ آپ کی جدوجہد احیاءِ دین کے محور کے گرد گھومتی تھی ، اسلام کی اسوقت کیا حالت تھی اسکا اندازہ آپ کے ان ملفوظات سے لگایا جا سکتا ہے “فرمایا اسلام رورہاہے اور ان فاسقوں ،بدعتیوں ،گمراہوں ،مکر کے کپڑے پہننے والوں اور ایسی باتوں کا دعوٰی کرنے والوں کے ظلم سے جو ان میں موجود نہیں ہیں اپنے سر کو تھامے ہوئے فریاد مچارہا ہے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کے دین کی دیواریں پے بہ پے گررہی ہیں اور اس کی بنیاد گر ی جاتی ہے . اے باشندگانِ زمین آؤ اور جو گر گیا ہے اس کو مضبوط کردیں اور جو ڈھ گیا ہے اس کو درست کردیں یہ چیز ایک سے پوری نہیں ہوتی اے سورج : اے چاند : اور اے دن:تم سب آؤ اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسليم کی طرف لوگوں کو اس طرح بلاتے .

غرض آپکی عدیم المثال جدوجہد نے مردہ دلوں کے لیے مسیحا ئی کا کام کیا، آپ کی بے غرضی، دردمندی ، خشیتِ الہی ، اخلاص ، پر اثر کلام ، پرتاثیر شخصیت اور احیاءِ اسلام کی بے پناہ تڑپ کی بدولت دینِ حق کو حیاتِ جاوداں ملی اور آپکا یہ رفیع الشان کارنامہ نصف النہار کے آفتاب کی طرح روشن ہے راہِ حق میں آپ کی محیرالعقول خدمات دیکھ کر انسان انگشت بدنداں ہو جاتا ہے اور آپکا “محی الدین” ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں رہتا،آفتابِ علم و عرفان کا غروب ●561ھ میں سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی عمر مبارک کی نوے منزلیں طے کر چکے تھے اور اکانویں منزل میں داخل ہو چکے تھے کہ یکا یک قو’ی میں اضمحلال محسوس ہوا جس نے آہستہ آہستہ شدید صورت اختیار کر لی اور آپ صاحبِ فراش ہو گئے یہ علالت درحقیقت ذاتِ الہی سے محبت کی کشش تھی اور اس بات کا اشارہ تھی کہ بارگاہِ خداوندی بلاوا آنے ہی والا ہے ، ماہِ ربیع الثانی 561ھ کے آغاز میں آپ کی علالت بہت شدید صورت اختیار کر گئی اور آپ کو یقین ہو گیا کہ عالمِ جاودانی کو رخصت ہونے کا وقت اب قریب آ گیا ہے چنانچہ رحلت سے چند روز پہلے ہی آپ نے اہل خانہ کو خبر دے دی کہ بہت جلد میں تم سے دائمی مفارقت اختیار کر نے والا ہوں اور یہ علالت اسی کا بہانہ ہے وصال مبارکہ سے کچھ دیر پہلے آپ نے تازہ پانی سے غسل کیا اور نماز عشاء ادا کی اور دیر تک بارگاہ الہی میں سجدہ ریز رہے اور سب مسلمانوں کے لئے بار بار یہ دعا مانگی “اے اللہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی امت کو بخش دے اے اللہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی امت پر رحم فرما ، اے اللہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی امت سے درگزر فرما”جب سر اٹھا یا تو غیب سے آواز آئی

اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ ، تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے پس میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہو جا،اس کے بعد آپ بستر پر لیٹ گئے اور صاحب زادوں سےفرمایا نرمی کرو نرمی کرو حتی کہ موت کی بیہوشی آپ پر طاری ہوگئی اور یہ الفاظ آپ کی زبان مبارک پر جاری ہوگئے استعنت بلاالہ الا اللہ الحی الذی لا یموت و لا یخشی سبحان من تعزْز بالقدرۃ وقَھَرَالعبادَ بالموت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ,آپ کے صاحبزادہ حضرت شیخ موسی علیہ الرحمۃ والرضوان جو اسوقت حضرت کے پاس تھے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ لفظ *تعزْز* پر پہونچے تو آپکی زبانِ مبارک میں لکنت پیدا ہو گئی اور اس لفظ کو صحت کے ساتھ ادا نہ کرسکے، چنانچہ آپ بار بار اس لفظ کو دہراتے رہے حتی کہ آپ نے بلند آواز سے اسے صحیح طور پر ادا کر دیا پھر فرمایا ،اللہ ، اللہ،اللہ، اس کے ساتھ ہی آپ کی آواز پست ہوگئی زبانِ اقدس حلق کے بالائی حصہ سے جا ملی اور آپ کی روحِ مبارک قفسِ عنصری سے اعلی علیین کو پرواز کر گئ،*إنا للہ و انا الیہ راجعون* اسوقت عمر مبارک نوے سال نو مہینے کی تھی.

محمدقمرانجم قادری فیضی