حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی صاحب رحمۃاللہ علیہ

75

نوراِلہیْ قاسمی خادم، جامعہ دعوت القرآن ملت نگر فیٹکی چوک ڈوبا ارریہ
ارریہ(توصیف عالم مصوریہ) موت ایک اٹل حقیقت ہے؛ لیکن امت میں کچھ منتخب اور چنندہ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی رحلت سے کسی ایک فردِ انجمن، یا ادارے کا نہیں،
بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا خسارہ ہوتا ہے اور بظاہر ان کی بھرپائی مشکل نظر آتی ہے اُنہِیں میں سے ایک مینارۂِ علم و عمل اور ملک کے مشہور و معروف صحافی و سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی صاحب کی ذاتِ گرامی ہے ضلع ارریہ کے گزشتہ تیس سالہ تاریخ میں سب سے نمایا اور فائق آپ کی شخصیت تھی؛ نہایت سادہ لوح، خوش مزاج، بلند اخلاق، کے حامل تھے،بڑوں کا ادب، اور چھوٹوں پر شفیق تھے، تواضع وانکساری، اور بے پناہ جذبۂِ خلوص آپ کا وصف امتیازی تھا، نفرت کے بجائے مُحبت، دوری کے بجائے قُربت، اور نا انصافی کے بجائے انصاف کی راہ اختیار کرنے میں اپنی مثال آپ تھے،
آپکے اخلاق کی سب بڑی مثال، جامعہ دعوت القرآن ملت نگر فیٹکی چوک ڈوبا ارریہ بہار ،کا شاندار تعلیم و تربیت ہے، مدرسہ ھذا میں ہوسپیٹل، کمپیوٹر سینٹر، قومی کونسل برائے اردو فروغ کا سینٹر،
مدرسہ ھذا، ترقی دینے اور پروان چڑھانے میں اپنے آپ کو وقف کر دیا، اور تعلیم و تربیت کا ایسا مؤثر، اور مستحکم نظام قائم کیا کہ ضلع ارریہ میں دور دور تک نظر نہیں آتا، ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی صاحب رحمہ اللہ 1989 میں از ہرِ ہند دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد، انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اپنے شہر ارریہ کے ککڑوا گورنمنٹ مڈل اسکول میں پرائیویٹ معلم کے طور پر کیا تھا؛ اس دوران انہوں نے اسکول کے ادھورے تعلیم کو پورا کیا؛ الشمش ملیہ کالج ارریہ، سے انٹر میڈیت، و گریجویشن، کی تعلیم مکمل کی، اسکے بعد، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے، پی جی، اسلامک اسٹیڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے سرفراز ہوے اور آپ کے اندر صالحیت، اور صلاحیت، دونوں چیزیں بیک وقت اکمل طور پر موجود تھی جس کی وجہ سے ہمہ وقت کچھ نہ کچھ کرنے کی فکر ہوتی تھی، یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے مایۂ ناز، فقیہ، مینارۂ علم و عمل ،یکتائے زمانہ، سلف، عارف باللّہْ، حضرت اقدس حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام رحمتہ اللہ علیہ نوَّراللہُ مرقدہٗ کی پاک نظر نے انکے اندر مخفی صلاحیتوں کو بھاںپ لیا، اور اپنے ہمراہ کر لئے، چونکہ قاضی صاحب رحمۃاللہ علیہ کو یقینِ کامل تھا، عبدالقادر، تَـوْ، پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تو نہیں بن سکتا، البتہ عبدالقادر الشمش بن سکتا ہے پھر کیا ہوا دنیاں نے دیکھا
اپنی قلم کی طاقت سے ،ہندوستان کو، تو فتح نہیں کیا البتہ ہندوستان کے راجدھانی دہلی کو فتح کرلیا،
ڈاکٹر _عبدالقادر شمش قاسمی صاحب رحمہ اللہ پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، کئی کتابوں کے مصنف تھے، صحافت کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور سیمانچل، خاص طور پر ارریہ، کی فلاحُ، بہبود اور وہاں کے مسائل اٹھانے کے لئیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے اور سیمانچل میڈیا منچ کے نائب صدر بھی تھے-