بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتحضرت مولانا مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خدمات

حضرت مولانا مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خدمات

از: (مفتی) محمد خالد حسین نیموی قاسمی

 تفقُّہ فی الدین ،فقاہت اور دینی بصیرت وہ اعلی ترین صفات ہیں ،جن کے حصول کی ترغیب خود رب العالمین نے دی ہے ۔قرآن کریم میں ارشادربانی ہے: وما کان المومنون لینفروا کافۃفلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھو ا فی الدین ولینذرو قومھم اذا ذرجعوا الیھم لعلھم یحذرون (التوبہ ۱۲۲)ترجمہ:اور اہل ایمان کے لیے یہ تو ممکن نہیں کہ وہ سب کے سب نکل کھڑے ہوںتو ایسا کیوں نہیں ہوا کہ نکلتا ان کی آبادی کے ہر حصے میںسے ایک گروہ تاکہ وہ دین کا فہم حاصل کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ بھی نافرمانی سے بچتے ۔

 سرورکائنات حضرت محمد ﷺ نے ایسے افراد کے لیے جنھیں دین کی فقاہت حاصل ہوتی ہے ۔ان کے لیے خیر کی بشارت دی ہے : من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین ۔(صحیح بخاری ،صحیح مسلم )اللہ تعالی جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی فقاہت عطا فرمادیتا ہے ۔ان ترغیبی ارشادات کے نتیجے میں امت نے ہمیشہ فقہ وفقاہت اور علوم فقہ وشریعت کی طرف توجہ دی ہے۔صحابہ کرام میں ایک جماعت تھی جنھیں امت فقہاء صحابہ کے نام سے یاد کرتی ہے ۔جس میں حضرات خلفاء راشدین اور عبادلہ ثلثہؓ کے علاوہ حضرت معاذ بن جبلؓ حضرت زید بن ثابتؓ نمایاں ہیں ۔مدینہ کے فقہاء سبعہ سے تاریخ کا کونسا طالب علم ناواقف ہوگا۔بعد کے زمانہ میں ائمہ مجتہدین کی ایک لمبی فہرست ہے ۔بر صغیر سے تعلق رکھنے والے علماء کا فقہ وفتاوی سے دیرینہ تعلق اور والہانہ شغف رہا ہے۔فقہ وفتاوی اور اصول فقہ اور متعلقات فقہ پرایسی نمایا ں کتابیں یہاں تصنیف ہوئیں ہیں ۔جن پر عالم اسلام کو اعتماد ہے، جن میںحجۃ اللہ البالغہ ،فتاوی تاتار خانیہ ،فتاوی ہندیہ ۔ صنوان القضاء وعنوان الافتاء ،ارکان اربعہ ،فتاوی عزیزیہ ،نور الانوار ،تفسیرات احمدیہ،مسلم السلم ،فواتح الرحموت ،السعایہ فی شرح شر ح الوقایہ ۔فقہ کی مختلف کتابوں پر حواشی مولاناعبد الحی فرنگی۔وغیرہ اس سر زمین پر لکھی جانے والی اس فن کی نمایاں کتابیں ہیں ۔چودھویں صدی ہجری میں علوم فقہ شریعت کے کئی آفتاب وماہتاب بر صغیر میں جلوہ افروز ہوئے ،جن میں فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ،مولانا خلیل احمد سہارنپوری ،مولانا اشرف علی تھانوی ،مفتی عزیز الرحمن عثمانی ،مفتی سہول بھاگلپوری ،مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلوی ،فقیہ النفس حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بہاری ،مفتی محمد شفیع دیوبندی وغیرہ کا نام ممتاز مقام کا حامل ہے ۔اس قافلۂ علم وعرفان میں ایک نمایاں نام حضرت قطب عالم مولانا محمد علی مونگیری ؒکا بھی ہے ۔حضرت کی شخصیت اگر چہ فقہ وفتاوی کے عنوان سے زیادہ مشہور نہیں ہے ،ان کانمایان کارنامہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا قیام اور سر زمین بہار سے فتنۂ قادنیت کا استیصال وبیخ کنی اور لاکھوں فرزندان توحید کے قلوب کو عشق الہی اور عشق رسول سے گرمانا ہے ۔حضرت کاروحانیت کے اعلی مقام پر فائز ہونا شہرۂ آفاق ہے ۔لیکن اہل علم وتحقیق کی نظر میں آپ ایک بلند پایہ فقیہ ،ماہر شریعت وافتاء بھی ہیں ،جس کی گواہی مختلف فقہی موضوعات پر لکھی ہوئی آپ کی تحریر اور رسائل دیتے ہیں ۔

حضرت مونگیری ۔رئیس الفقہاء والمحدثین: آپ کے مستفیدین ومسترشدین آپ کو رئیس الفقہاء والمحدثین کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں ۔چنانچہ آپ کے ایک نامور خلیفہ حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب رحمانی مظفر پوری بانی جامع العلوم مظفر پور’’ القول المحکم فی خطابۃ العجم ‘‘کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں :

 ’’الحمد للہ کہ ان دنوں حضرت مولائی ومرشد ی قدوۃ السالکین ،رئیس الفقہاء والمحدثین ،شیخ الزہاد والمجاہدین مولانا سید محمد علی صاحب متع اللہ المسلمین بطول بقاء ہ کا ایک فتوی دیکھا جو کہ حضرت نے ابتدا میں لکھا تھا جب کہ آپ کو اس طرف توجہ تھی اور مسائل کا جواب لکھتے تھے ۔اس فتوے سے میری تشفی ہوگئی اور کامل اطمینان ہوگیا ۔‘‘(مقدمہ القول المحکم ص ۸)

 القول المحکم کے حوالہ سے حضرت مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی مدظلہ العالی کتاب کی دوسری طباعت کے پیش لفظ میں تحریر فرماتے ہیں ۔’’یہ کتاب اصل میں ایک استفتاء کا جواب ہے ،حضرت مونگیری جب کانپور رہا کرتے تھے ،تو وعظ وتبلیغ ،بیعت وارشاد ،درس وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ساتھ علماء اور عام مسلمانوں کے دینی سوالات کے جوابات بھی پابندی سے دیا کرتے تھے ،میرا خیال یہ ہے کہ یہ جواب بھی اسی زمانے میں لکھا گیا ،پھر اس کی اشاعت کا مشورہ ہوا، تو ملک کے ممتاز علماء کرام کی خدمت میں اسے مسودہ کتاب کی شکل میں بھیجا گیا اور اکثر وبیشتر حضرات نے اس کی تائید وتوثیق فرمائی مگر کتاب کی اشاعت اس زمانے میں نہیں ہوسکی۔ حضرت مونگیری رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۰۱ میں مرشد کامل حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی نور اللہ مرقدہ کے حکم سے مونگیر کو اپنا وطن بنالیا (پیش لفظ طبع دوم القول المحکم ص ۴)

 جذبۂ تحقیق ان کی درسی اور تدریسی زندگی دونوں سے عیاں ہے:حضرت مونگیری اعلی پایہ کے محقق بھی تھے۔مسائل کی تحقیق کرکے ان کی تہہ تک اور نتیجہ تک پہنچنا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ چاہے اس کے لیے کئی دن نہ لگ جائیں ۔اگر متعلقہ کتابیں آپ کے پاس موجود نہ ہوتیں ،تو کتابوں کی جستجو میں دور دراز مقامات کا سفر کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے ۔

آپ کے سوانح نگار حضرت مولانا محمد الحسنی تحریر فرماتے ہیں ۔

 مولانا کا علمی ذوق اور جذبہ تحقیق ان کی درسی اور تدریسی زندگی دونوں سے عیان ہے۔ چنانچہ زمانہ طالب علمی میں مولانا سید حسین شاہ سے (جو مدرسہ فیض عام میں ان کے استاذ اور متبحر عالم تھے ) بعض موضوعات پر تین تین رو ز تک علمی بحثیں ہوئی ہیں ،بعض مسائل کی تحقیق کے لیے اکثر لکھنو کا سفر کرتے اور کئی کئی روز قیام کرکے علمی تشنگی بجھاتے ۔

مولانا محمد اسیہول صاحب کو ایک خط میں لکھتے ہیں ۔

 میں نے عمر کا اکثرحصہ علم ہی کی خدمت میں گذارا ہے اور خدا کے فضل سے طالب علمی کے زمانے ہی سے تحقیق ِمطالب اور تنقیحِ مسائل کا شوق رہا ہے ۔ بعد ختم فقہی مسائل کی تحقیق کا شوق پیدا ہوا۔اس وقت کتابیں موجود نہ تھیں، صرف تحقیق کی غرض سے لکھنؤ جاتا تھا اور دس دس پندرہ روزقیام کرکے مولوی عبد الحی صاحب مرحوم سے کتابیں لے کر دیکھتا تھا اور بعد دیکھنے کے مولوی صاحب موصوف سے گفتگو ہوتی تھی ۔(مقامات ص ۱۴)(سیرت محمد علی مونگیری ص ۴۸)

 مولانا لطف اللہ صاحب سے بھی مختلف مسائل پر اسی طرح علمی مذاکرہ اور مباحثہ ہوتا تھا اور جب تک تشفی نہیں ہوجاتی تھی اس کا سلسلہ جاری رہتا تھا ایک مرتبہ بعض کتابوں کے لیے پٹنہ کا سفر کیا اور خدا بخش خاں اورنٹیل لا ئبریری میں بیٹھ کر ان کا مطالعہ کیا ۔(مقالہ ص ۱۴)سیرت محمد علی مونگیری ص ۴۹۔

فقہ پر گہری نظر :

 فقہ سے مولانا کی دل چسپی کا ذکر اوپر گذرا ہے۔اس کا اندازہ کرنے کے لیے لکھنو کے وہ اسفار کا فی شہادت ہیں ؛جو وقتا فوقتا کسی مسئلہ کی تحقیق کے سلسلہ میں کرتے تھے اس ذوق ودلچسپی کا فائدہ یہ ہوا کہ اس شعبہ میں ان کی نظر بہت گہری اور وسیع ہوگئی۔ رد عیسائیت کی کوششو ں کے ساتھ یہ سلسلہ بھی جاری رہا ۔اس درمیان میں بعض اکابر علماء کو ان سے کچھ اختلاف بھی ہوا؛ لیکن بعد میں صفائی ہو گئی ۔حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے مکہ معظمہ سے مولانا کے نام مکتوب میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ،لکھتے ہیں :

 ’’مکرر یہ کہ عزیزم مولوی رشید احمد صاحب محدث گنگوہیؒ کو آپ سے رنج ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔سوا اس کے کہ اختلاف بعض مسائل کی وجہ سے آپس میں حجاب ہوگیا ۔جس وقت کہ بدستور سابق خط وکتابت اور آمد وشد جاری ہوجائے گی تو بالکل صفائی ہوجائے گی۔ مسائل میں صحابہ کرام ،وائمہ مجتہدین ،علماء محققین رضوان اللہ عنہم اجمعین میں بھی آپس میں اختلاف تھا؛ لاکن اس کی وجہ سے کسی کو ذرہ برابر بھی کدورت نہ ہوئی۔‘‘ (مقالہ متعلقہ سوانح بحوالہ الجامعہ ص ۲۳۔(سیرت ص ۴۹)

 ’’مولانا کی ان فقہی آراء کا اچھا خاصہ ذخیرہ تیار ہوگیا ۔جو کتاب المسئلہ کے نام سے خانقاہ رحمانی میں مشہور ہے‘‘ ۔(سیرت محمد علی مونگیری )حضرت مولانا محمد الحسنی نے جس کتاب المسئلہ کی نشاندہی کی ہے ،اس عاجز نے نے اس کی جستجو کی کافی کوشش کی ،خانقاہ رحمانیہ کے اکابر سے بھی رابطہ کیا ،ندوۃ العلماء اور دیوبند میں بھی اس کی جستجو کی گئی لیکن افسوس کہ جستجو کامیاب نہ ہوسکی ورنہ حضرت کی فقاہت کے نادر نمونے امت کے سامنے آتے ۔

 میلاد کے مسئلہ پر ایک مرتبہ مولانا رشید احمد گنگوہی سے گفتگو ہوئی اور مولانا نے فرمایا کہ وہ اس طرح کے میلاد کے خلاف نہیں ہیں ۔جس طرح کا میلاد مولانا لطف اللہ صاحب پڑھتے ہیں ۔(ایضا )

دارالافتاء کے قیام پر مولانا کی تجویز :

  چوں کہ حضرت کو فقہ وفتاوی سے غیر معمولی شغف تھا اور ابتدائی زندگی کا ایک بڑا حصہ فقہ کی غواصی اور فتاوی کی شناوری میں گذارا تھا ، حالات حاضرہ پر گہری نظر تھی، اس لیے امت کو درپیش مسائل کا شرعی حل دریافت کرنے کے لیے ایک دار الافتاء کا قیام ضروری خیال کرتے تھے ۔

   چنانچہ مولانا محمد الحسنی روداد ندوہ کے حوالہ سے رقم طراز ہیں :

 تیسری نششت میں مولانا محمد علی نے یہ تجویز پیش کی کہ ندوۃ العلماء کی طرف سے ایک محکمہ افتاء قائم کیا جائے ،مولانا کو اس مسئلہ سے بہت دلچسپی تھی اور وہ اس کو بہت ضروری اور اہم خیال کرتے تھے، انھوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ تجویز پیش کی ۔مولانا عبد الحق حقانی اور شاہ سلیمان پھلوارویؒ نے اس کی تائید میں مختصر تقریر یں کیں؛ لیکن دوسرے اصحاب نے فوری طور پر اس کی منظوری سے اتفاق نہیں کیا اور یہ تجویز بالآخر ایک خصوصی جلسہ کے لیے ملتوی ہوگئی ۔‘‘(سیرت ۱۲۵)

در الافتاء کی ضرورت پر حضرت مونگیری کی تقریر :

 یکم محرم سن ۱۳۱۳ ھ کو جلسہ انتظامیہ میں مولانا محمد علی مونگیریؒ نے بہت قوت کے ساتھ دار الافتاء کے قیام پر زور دیا (یاد رہے کہ اس سے قبل اجلاس لکھنؤ میں مولانا یہ تجویز پیش کرچکے تھے )مولانا نے کہا کہ:’’ ایک سال میں جس قدر شہرت آپ کے ندوۃ العلماء کو ہوئی ہے ،دوسرے جلسوں کو دس پندرہ برس میں بھی نہیں ہوئی ہوگی ۔پھر خاص وعام جانتے ہیں کہ علماء کی یہ انجمن ہے اب بجز ان صاحبوں کے جو کسی خاص عالم سے خصوصیت رکھتے ہیں، تمام ہند کے مسلمانوں کی توجہ اس جلسہ کی طرف ہے ۔جب کوئی ضرورت انھیں پیش آئے گی اور جب کوئی مسئلہ متعلق اعتقادیات یا عملیات دریافت کرنا ہوگا تو ضرور ندوہ سے سوال کریں گے ۔‘‘(سیرت محمد علی مونگیری ۱۴۵)

فقہ میں اجتہاد اور وسیع النظری :

   اس کے بعد محکمہ افتاء کی ضرورت واہمیت پر علمی وشرعی نقطہ نظر سے مفصل تبصرہ کرنے کے بعد مولانا نے فرمایا کہ :

 ’’جو دقت میں نے فقہ میں بیان کی وہ علمی حیثیت سے تھی ؛مگر ایک اور دقت اس میں ہمارے علماء کے لیے یہ ہے کہ زمانہ کے حالات پر ان کی نظر نہیں ،دنیا کے معاملات سے اکثر ناواقف ان کی پیچیدگیوں کا سلجھانا دشوار ،جب فقہاء تصریح کرتے ہیں کہ زمانے کے بدل جانے سے احکام بھی بدل جاتے ہیں تو ضروری ہوا کہ مفتی زمانے کی حالت سے بھی واقف ہو اور اس طرح جب تک معاملات سے واقف نہ ہو گا اور اس کی پیچیدگیوں پر مطلع نہ ہوگا، تو صحیح جواب کیوں کر دے گا یہاں پر محکمہ افتاء کی ضرورت دوسرے طور سے ثابت ہوتی ہے کیوں کہ بغیر اس کی خاص توجہ کے یہ مرحلہ طے نہ ہوگا اور بنظر ہماری حالت کے غیر ممکن ہے ۔ہمارے علماء کو ادھر توجہ ہے نہیں کہ زمانہ کی حالت اور اس کی موجودہ اشیاء کو دریافت کریں جب یہ حالت ہے تو انصاف کرنا چاہیے کہ دین کی حیثیت سے اس محکمہ کی کیسی ضرورت ہے‘‘ (کاروائی جلسہ انتظامی (قلمی ) ص ۱۱)

  اس کے بعد مولانا نے گیارہ دفعات پر مشتمل محکمہ افتاء کا ایک خاکہ پیش کیا جس کے مطالعہ سے مولانا کے تبحر علمی وسیع النظری اور بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے ۔منشی اطہر علی صاحب رئیس کاکووی نے بڑی دیر تک اور جوش کے ساتھ اس کی حمایت میں تقریر کی اور کہا کہ :’’پیشتر میں اس کا مخالف تھا ؛لیکن مولانا صاحب کی تقریر نے میرا خیال بدل دیا ۔آخر میں مشروط طور پر دار الافتاء کا قیام منظور ہوا ۔‘‘(سیرت مولانا محمد علی مونگیری۱۴۶)

علوم دینیہ ،فقہ اور کلام میں ملکہ تامہ :

 ندوۃ العلماء کے ماتحت بڑے پیمانے پر ایک دار العلوم کے قیام کی تجویز سب سے پہلے مولانا کے ذہن میں آئی اور مولانا نے اس کا ایک واضح خاکہ تیار کرکے ۱۲ محرم الحرام ۱۳۱۳ ھ کے جلسہ انتظامی میں پیش کیا ،یہ تجویز منظور ہوئی اور اس کے بعد یہ خاکہ مسودہ دار العلوم کے نام سے شائع کرکے استصواب رائے کے لیے ممتاز علماء ،اکابرین اور اہل علم حضرات کو ارسال کیا گیا ،اس میں دار العلوم کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے مولانا نے دو چیزوں پر خاص زور دیا ۔ لکھتے ہیں:

 ’’سب سے مقدم یہ ہے کہ قوم میں ایسے علماء کی ایک جماعت موجود ہو، جو علوم مذہبی میں اعلی درجہ کا کمال رکھتی ہو، خصوصا علم کلام میں تاکہ غیر مذہب والوں کے مقابلہ میں اسلام کی حقیقت اور عمدگی ثابت ہوسکے اور علم فقہ میں اس کو ملکہ تام حاصل ہو تا،کہ عبادت اور معاملا ت سے متعلق احکام اور فتاوی اس کے مستند اور واجب العمل سمجھے جائیں۔‘‘ (تجویز دار العلوم ص ۳۱)

 حالات زمانہ سے واقفیت : فقہ کے اصول میں ایک اصل عرف وعادت بھی ۔متعدد فقہاء بالخصوص حجۃ الاسلام امام غزالی کا قول ہے : من لم یعرف باحوال اھل زمانہ فھو جاھل ۔(نثر الدر فی علماء القرن الرابع عشر ص۲۱۷)یعنی جو اپنے زمانے کے احوال نہ جانے وہ جاہل ہے ،یہ اصول حضرت مونگیری کے پیش نظر تھا ،اس لیے دنیا کے حالات اور واقعات سے علماء کی واقفیت کو مولانا محمد علی مونگیری ؒنیبطور خاص لازم قرار دیا ۔لکھتے ہیں :

 ’’بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جماعت علماء کی ،دنیا کے حالات اور واقعات سے بھی باخبر ہو،اس کو معلوم ہو کہ جس سلطنت میں وہ بسر کرتی ہے، اس کے اصولِ سلطنت کیا ہیں، اس کو سلطنت سے کس قسم کا تعلق ہے؟ مسلمانوں کی دنیوی حالت کیا ہے؟ ان کو کیا ضرورتیں درپیش ہیں؟ سلطنت کے انتظامات میں جو تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ؛ان سے مسلمانوں کی حالت پر کیا اثر پڑتا ہے ۔ملک میں علماء کا جو اثر کم ہوتا جارہا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ خیال عام طور پر پھیلتا جاتا ہے کہ علماء حجروں میں معتکف ہیں اور ان کو دنیا کے حال کی بالکل خبر نہیں ؛اس لیے دنیاوی معاملات میں ان کی ہدایت اور ان کا ارشاد بالکل ناقابلِ التفات ہے۔ بے شبہ جو علماء دنیا سے بالکل ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ان کو کثرت ِعبادت اور ذکر وفکر کی وجہ سے اپنے زن وفرزند کے ضروریات کی طرف بھی توجہ نہیں،اصحاب صفہؓ سے ان کو تشبیہ دی جاسکتی ہے ۔لیکن یہ ظاہر ہے کہ کل صحابہ کرامؓ اصحاب صفہ نہیں تھے اور نہ ہوسکتے تھے۔ بے شبہ اصحاب صفہ سے مشابہ ایک قوم ہمیشہ دنیا میں رہنا چاہیے؛ لیکن اس کے ساتھ نہایت ضرور ہے کہ ایک جماعت کثیرایسی بھی موجود ہو، جو واقفیت واطلاع ،انتظام وتدبیر اور حزم ومصلحت اندیش میں حضرت عمرؓ ،عمر بن العاصؓ ،خالد بن الولیدؓ، ابو عبیدہ امینؓ کے نقش قدم پر ہوں ۔(تجویز دارلعلوم ص ۳۱)

 بعد میں پیدا ہونے والے ندوہ کے اختلافات نے مذکور ہ نصب العین کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا ۔مولانا محمد الحسنی کے الفاظ میں :حقیقت میں یہ ایک بڑی بد قسمتی تھی اور اس اختلاف نے اس اہم دور رس نتائج کو جو مولانا محمد علی کے ذہن ونظر کی وسعت ،مجتہدانہ بصیرت ،منصب ارشاد وتربیت اور مولانا شبلی کی مرتبہ علمی عالی دماغ اور قوت فکریہ کے دو بازوؤں پر قائم ہورہا تھا ، بہت نقصان پہنچایا ۔جن کی توقع اتنے طویل عرسے کے بعدایک مؤرخ یاتذکرہ نویس کرسکتا ہے۔ (سیرت محمد علی مونگیری ص ۱۷۵)

’’القول المحکم‘‘ معرکۃ الآراء فقیہانہ تحریر :

 مذکورہ سطور سے یہ بات واضح طور پر مترشح ہو تی ہے کہ حضرت مولانا محمد علی مونگیری دیگر علوم وفنون کی طرح علم فقہ میں بھی یدِ طولی رکھتے تھے ۔حضرت کی ایک فقہی تصنیف اس وقت میرے سامنے ہے جس کا نام ہے ’’القول المحکم فی خطابۃ العجم ‘‘ جو پہلی مرتبہ سن ۱۳۳۹ ھ مطابق فروری ۱۹۲۱ء میں لالہ ٹھا کر داس کے زیر اہتمام دلی پرنٹنگ ورکس دلی سے چھپی ۔جب کہ دوسری مرتبہ اردو میں جمعہ وعیدین کا خطبہ کے نام سے دار الاشاعت خانقاہ رحمانی مونگیر سے شائع ہوئی ۔یہ ایک شاہکار فقہی تصنیف ہے، جس میں حضرت مونگیری نے کتاب اللہ ،سنت رسول اللہ ﷺ ،اجماع امت ،قیاس شرعیہ اور مصالح مرسلہ وغیرہ اصول شریعت سے بھر پور طور پر استفادہ کیا ۔اس رسالہ کے معروضی جائزہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقاصد شریعت پر بھی حضرت کی گہری نظر ہے ۔اور شریعت کی حکمتوں کو بھی بڑی فیاضی کے ساتھ بیان فرماتے ہیں ۔درحقیقت یہ کتاب ایک استفتاء کا جواب ہے ۔استفتاء یہ تھا ۔

 سوال : ’’کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تمام خطبہ عربی کے سوا دوسری زبان میں پڑھنا یا خطبہ میں صرف مواعظ اور پند کو اس زبان میں بیان کردینا، جس میں مخاطبین سمجھ سکیں۔ جائز ہے یا نہیں اور اگر جائز ہے ،تو بلا کراہت جائز ہے یا با کراہت ؟:بینوا وتو جرو!

 اس سوال کا حضرت مونگیری نے پہلے مختصر جواب تحریر فرمایا ۔’’آپ نے لکھا :’’ عربی کے سوا دوسری زبان میں خطبہ پڑھنا جائز ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ عربی زبان کو دوسری زبانوں پر فضیلت ہے ۔اس لیے خطبہ کا عربی زبان میں پڑھنا افضل ہے ۔مگر چوں کہ خطبہ کا اصل مقصود وعظ ونصیحت اور تعلیم وتذکیر ہے اور ہندوستان میں اس مقصد کا حاصل ہو نا ممکن نہیں ہے ،بغیر اس کے کہ اردو وغیرہ میں بیان کیا جائے ۔ اس وجہ سے یہ ہونا چاہیے کہ خطبہ میں مناسب وقت ،جو وعظ ونصیحت اور تعلیم کرنا مقصود ہو ،وہ اس زبان میں کی جائے جس میں حاضرین سمجھیں اور فائدہ حاصل کرسکیں اور بقیہ مضمون خطبہ کا عربی میں ہو، تاکہ خطبہ کا اصل مقصود فوت نہ ہو ۔اور حتی الوسع سلف کی پیروی اور عربی زبان کی فضیلت بھی حاصل ہوجائے ۔اس وقت میں اس کی زیادہ ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ مسلمان کو دینی امور کی طرف توجہ نہیں ہے ۔ سیدھے سادھے وعظ کو ہرگز نہیں سنتے ،نماز پڑ ھ کر راستہ لیتے ہیں ۔اس لیے خطبہ میں ضروری ہدایتیں حاضرین کی زبان میں کردینا ہر طرح مناسب ہے ۔کئی طریقوں سے کتب فقہ وغیرہ سے اس کا ثبوت ہوتا ہے ۔‘‘

       مذکورہ فتوی پر دلیل کے طور پر سب سے پہلے انھوں نے امام سرخسی کی یہ عبارت پیش کی ۔جس میں بہت صاف طریقہ پر اس کے جواز کی تصریح کی گئی ہے ۔لو خطب بالفارسیۃ جاز عند ابی حنیفۃ علی کل حال وروی بشر عن ابی یوسف انہ اذا خطب بالفارسیۃ وھو یحسن العربیۃ لا یجزیہ الا ان یکون ذکر اللہ فی ذلک بالعربیۃ فی حرف او اکثر ۔امام سرخسی کے قول سے ثابت ہوا کہ اگر خطبہ کے وعظ وپند سامعین کی زبان میں کیے جائیں ۔اور بقیہ خطبہ عربی زبان میں ہو تو بالاتفاق جائز ہے ۔

احادیث شریفہ سے استدلال: آیات قرآنیہ اور احادیث شریفہ سے بھی بھر پور استدلال کیا ہے ۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:’’ اب احادیث کو دیکھا جائے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے ۔یعنی جناب نبی کریم ﷺ جو خطبہ پڑھتے تھے اس میں کیا مضمون ہوتا تھا اور وہ مضمون اور اس کے الفاظ معین تھے یعنی جناب نبی کری ﷺ ہمیشہ ایک ہی خطبہ پڑھا کرتے تھے ۔اور اس کا مضمون اور الفا ظ مخصوص اور محفوظ تھے؟ جیسے اذکار نماز کے معین اور محفوظ ہیں ۔یا ایسا نہ تھا؛ بلکہ ہر موقع اور وقت کے مناسب خطبہ کا مضمون ہوتا تھا ۔اور ہر موقع پر نیا خطبہ اس وقت کے مناسب آپ پڑھتے تھے ۔ حدیثوں پر نظر کرنے اور جو خطبے آپ سے منقول ہیں؛ ان کے دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ نے خطبہ کے مضمون اور الفاظ کو معین نہیں فر ما یا ؛بلکہ ہر موقع کے مناسب آپ کے خطبوں میں وعظ ونصیحت ہوتی تھی اور جس طرح اذکارِنماز کے الفاظِ مخصوصہ پر آپ کا اور تمام صحابہ کا عمل برابر رہا اور اس کے بعد بھی وہی الفاظ امت محمدیہ میں کے عمل میں رہے ۔خطبہ کی یہ حالت نہیں رہی ۔صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ :

 کان النبی ﷺ یخرج یوم الفطر والاضحی الی المصلی فاول شییٔ یبدأ بہ الصلوۃ ۔ثم ینصرف فیقوم مقابل الناس والناس جلوس علی صفوفہم فیعظہم ویوصیہم ویامرھم الخ۔یعنی رسول اللہ ﷺ عید اور بقرعید کے موقع پر عیدگاہ تشریف لے جاتے تھے ۔اور وہاں جاکر پہلے عید الفطر اور عید الاضحی کی دوگانہ نماز ادا کرتے اس کے بعد نمازیوں کی طرف متوجہ ہوکر آپ وعظ فرماتے تھے ۔اور اور تمام نمازی صفیں باندھے اسی طرح بیٹھے رہتے تھے ۔آپ وعظ وپند فرماتے تھے ۔اور اگر اتفاقا کہیں لشکر بھیجنا ہو تا تو وہاں جانے کا حکم فرماتے تھے یا اگر کسی اور بات کی ضرورت ہوتی ،تو اس کا حکم فرماتے تھے ۔

 اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد حضرت مونگیری استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔’’یہ حدیث صحیحین کی ہے اس میں عیدین کے خطبہ کا ذکر ہے؛ مگر بجز وعظ وپند اور اس وقت کے مناسب ضروری باتوں کے اور کوئی مضمون خطبہ کا بیان نہیں فرمایا ۔ اس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ خطبہ کا اصل مقصود وعظ وپند اور ضرورت کے مناسب امر ونہی کرنا ہے ۔تاکہ حاضرین سن کر اس پر عمل کریں ۔یہاں اس پر نظر کرنا چاہیے کہ عام وعظ کے بعد حدیث میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ حاضرین کو وصیت بھی کرتے تھے ۔اور ضروری بات کا حکم دیا کرتے تھے ۔اب اگر خطبہ عربی میں پڑھنا ضروری ہو، تو یہ سنت نبوی ہندوستان میں کیسے ادا کی جائے ۔اگر اس وقت کے مناسب ضروری بات عربی میں کہ دی گئی تو کہنا بیکار ہوا ۔کیوں کہ مخاطبین اسے نہیں سمجھتے ،پھر وہ عمل کیا کریں گے ۔اس لیے اس کے کہنے سے جو مقصود تھا وہ حاصل نہ ہوا اور خطیب کا کہنا فضول ہوا ۔اس لیے حدیث کا مقتضا یہ ہوا کہ خطبہ پڑھنے والا مخاطبین کی زبان میں ضروری باتیں بیان کرے ‘‘

  ایک دوسری روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کرتے ہیں : شہدت الصلاۃ مع النبی ﷺ فی یوم عید فبدأ بالصلوۃ قبل الخطبۃ بغیر اذان ولا اقامۃ فلما قضی الصلوۃ قام متکئا علی بلا ل ۔فحمد اللہ واثنی علیہ ۔ووعظ الناس وذکرھم وحثھم علی طاعۃ الخ ۔یعنی میں عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہوا ۔آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان وتکبیر کے نماز شروع کی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے ۔اور خدا کی حمد وثنا کی اور لوگوں کو وعظ ونصیحت فرمایا اور تمام حاضرین کو اللہ تعالی کی اطاعت اور پیروی پر ابھا را ۔اور آمادہ کیا ۔۔

 اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے حضرت مونگیریؒ لکھتے ہیں :’’اس حدیث میں بھی وہی مضمون ہے کہ خطبہ میں آپ نے وعظ ونصیحت فرمائی ۔اور تمام حاضرین کو اللہ تعالی کی اطاعت اور پیروی پر ابھا را اور آمادہ کیا ۔جب حدیث کے راوی آپ کے خطبہ کا مضمون اسی قدر بیان کرتے ہیں تو یہ حدیث بھی ثابت کرتی ہے کہ خطبہ کا مقصود صرف وعظ ونصیحت ہے ۔اور حمد وثنا اس کا پہلا جزء ہے ۔اس حدیث کے آخری الفاظ یعنی ’’وعظ الناس وذکر ھم وحثھم ‘‘اس بات کو پوری طور پر ثابت کرتے ہیں کہ خطبہ میں وعظ ونصیحت ہونا چاہیے اور حاضرین کو ضروری امر کی طرف ابھارنا چاہیے ۔جس سے وہ اس ضروری بات کی طرف آمادہ ہوں ۔اور یہ بات حاصل نہیں ہوسکتی جب تک خطبہ پڑھنے والا مخاطبین کی زبان میں اپنے خطبہ میں وعظ وتذکیر نہ کرے ۔جسے وہ اچھی طرح سمجھتے ہوں ۔اس لیے اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ خطبہ کے مواعظ حاضرین کی زبان میں ہونا چاہیے ۔

 تیسری حدیث حضرت مونگیری نے سیدنا جابر بن عبد اللہ کی پیش فرمائی۔ جو صحیح مسلم میں مروی ہے ۔کانت للنبی خطبتان یجلس بینھما یقرأ القرآن ویذکرالناس (کتاب الجمعۃ ۲۸۳) یعنی رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ جمعہ میں دو خطبہ پڑھتے تھے ۔ اور دونوں خطبوں کے درمیان آپ بیٹھتے تھے ۔اور خطبہ میں آپ قرآن کریم پڑھتے تھے ۔اور لوگوں کو وعظ نصیحت فرماتے تھے ۔

 اس سے استدلا ل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ رسول اللہ خطبہ میں وعظ ونصیحت کیا کرتے تھے ۔اور قرآن کا پڑھنا بھی اسی غرض سے تھا اور کلام الہی کی تبلیغ بھی عام طور پر منظور ہوتی تھی ۔

 پھر خلاصہ کے طور پر لکھتے ہیں کہ:’’ الحاصل ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ خطبہ کا مقصود وعظ اور حاضرین کے لیے تذکیر اور تبلیغ ہے ۔اب وہ خطبہ عید کا ہو یا جمعہ کا۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سب خطبوں میں یہی کیا کرتے تھے ۔آپ نے کبھی یہ نہیں کیا کہ خطبہ میں صرف اللہ کی تعریف پر قناعت کی ہو اور حاضرین کو تعلیم وتذکیر نہ فرمائی ہو ۔اس بیان کی توضیح ان خطبوں سے بخوبی ہوتی ہے ۔جو جناب رسول اللہ سے منقول ہیں ۔اور بعض علماء نے انھیں اپنی کتابوں میں نقل کیے ہیں۔اور بعض خطبے علحدہ بھی چھپے ہیں ۔ان سے ظاہر ہے کہ خطبوں میں آپ نے وعظ وپند فرمایا ۔اور اس کے مضامین متعین نہیں رہے۔ ہمیشہ نیا خطبہ پڑھا ہے اسی طرح صحابہؓ کے خطبے بھی علحدہ علحدہ رہے ۔اور اب تک یہی حال ہے ۔حرمین شریفین میں جو خطیب عالم اور ادیب ہیں اکثر نیا خطبہ پڑھتے ہیں ۔

قواعد فقہیہ اور اصول شریعت سے استدلال : اس رسالہ میںحضرت مونگیری نے اصول اور قواعد فقہیہ سے بھی جا بجا استدلال کیا ہے ۔مثلا ایک جگہ علامہ طحطاوی کے حوالہ سے لکھتے ہیں ۔’’اس سے معلوم ہوا کہ طحطاوی کے نزدیک بھی خطبہ کا پڑھنا زبان فارسی وغیرہ میں جائز ہے ۔کیوں کہ ’’عدم البیان فی معرض البیان بیان ‘‘

 اسی طرح ایک جگہ قواعد سے استنباط کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ۔’’فقہاء اکثر مواظبت رسول ﷺ سے وجوب ثابت کرتے ہیںبشرطے کہ وہ فعل علی سبیل العبادۃ ہو اور خطبہ میں وعظ پرآں حضرت ﷺ کی مواظبت ظاہر ہے ۔‘‘

 مشہور فقہی قاعدہ ’’ ما لا یتم الواجب الا بہ ‘‘سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :کہ تعلیم وتذکیر کا مخاطبین کی زبان میں اسی قدر ضروری ہے، جس قدر وہ خود ضروری ہے ۔اس لیے جن انبیاء پر کتابیں نازل ہوئیں وہ اس قوم کی زبان میں نازل ہوئیں ۔اسی طرح مشہور فقہی قاعدہ:’’ لا ضرر ولا ضرار۔‘‘سے استدلا ل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یہ امر یا د رکھنا چاہیے کہ عام تعلیم وتذکیر میں یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک مخاطب تعلیم دینے والے اور نصیحت کرنے والے کے ہر ایک جملہ کو سمجھ لے ۔کیوں کہ اس تقدیر پر تکلیف مالا یطاق لازم آتی ہے ۔اور’’ الدین یسر‘‘ کے خلاف ہوجاتا ہے ۔اس لیے کہ مخاطب مختلف زبان اور مختلف افہام کے ہوسکتے ہیں ۔

 مشہور فقہی قاعدہ : ’’ تتغیر الاحکام بتغیر الزمان ‘‘سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں : الغرض جب عربی خطبہ کا دوام ان مصالح پر مبنی تھا، تو محققین کو ملاحظہ کرنا چاہیے کہ یہ مصالح ہند وغیرہ میں پائے جاتے ہیں یا نہیں ؛اگر پائے جاتے ہیں ،تو بلا شبہ اسی روش پر قائم رہنا چاہیے ۔اور اگر نہیں پائے جاتے تو خطبہ کے مقصود کو بلا بدل فوت نہیں کرنا چاہیے ،مگر اس میں تامل نہیں ہوسکتا کہ مصالح مذکور کی بنا غلبہ اسلام اور قرب زمان رسول اللہ ﷺہے۔اور وہ ہند ،وغیرہ میں مفقود ہے ۔پس لامحالہ یہ کہنا پڑے گا کہ ان ممالک میں وہ مصالح نہیں پائے جاتے ۔جن کی وجہ سے عربی میں خطبہ پر دوام تھا۔‘‘

 حضرت مونگیریؒ نے اس فتوی میں حدیث اور فقہ وفتاوی ودیگر کتابوں کے حوالہ دیئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کی فقاہت کتنی مضبوط اور آپ کا علم کتنا عمیق تھا ۔آپ نے اس ایک فتوی کے استدلا ل کے لیے مندرجہ ذیل کتابوں کی عبارتیں نقل کی ہیں اور ان کے حوالے دیئے ہیں ۔(۱) ،صحیح بخاری ،(۲)صحیح مسلم ،شرح صحیح مسلم از علامہ نووی ،(۳)سنن نسائی ،(۴)مشکوۃ المصابیح اور اس کی شروحات (۵)امام سرخسی کی المبسوط ۔اور(۶) المحیط ۔(۷)علامہ شرنبلالی کی نور الایضاح ،(۸)مراقی الفلاح ۔اور(۹) اس کی شرح از علامہ طحطاوی ۔(۱۰)فتاوی سراجیہ ،(۱۱)ہدایہ اور اس کی شروحات ،فتح القدیر از علامہ ابن ہمام ،عنایہ شرح ہدایہ از علامہ عینی ،کفایہ ،(۱۲)کنز الدقائق اور اس کی شروحات تبیین الحقائق ،از علامہ زیلعی البحر الرائق از علامہ ابن نجیم ،اور النہر الفائق ،(۱۳)مجمع الانہر ،ملتقی الابحر(۱۴) الدر المختا ر ازعلامہ حصکفی ،الدر المحتار از علامہ شامی۔(۱۵)احیاء العلوم ازامام غزالی ،شرح احیاء العلوم از علامہ مرتضی زبیدی بلگرامی ، ( ۶ ۱ ) الوقایہ ، شرح الوقایہ ،(۱۷)نقایہ شرح الوقایہ از ملا علی قاری،(۱۸)جامع الرموز از علامہ قہستانی ،(۱۹)شرح سفر السعادۃ از شیخ عبد الحق محدث دہلوی ، (۲۰)رسالہ تنبیہ الخطایا ، (۲۱)فتاوی ہندیہ المعروف بہ فتاوی عالم گیریہ ،(۲۲)صراط المستقیم ،(۲۳) علامہ اصفہانی کی مفردات القرآن وغیر ذلک ۔

 ایک مختصر تحریر میں حدیث وفقہہ کی درجنوں کتابوں کا حوالہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ حضرت فقاہت وعلمیت وبصیرت کے اعلی معیار پر فائز تھے ،اسی لیے بڑی بصیرت کے ساتھ آپ نے اپنے موقف کو اس حد تک مستدل کردیا کہ کسی صاحب ِعلم اور ارباب افتاء کے لیے اس سے مفر کی کوئی گنجائش نہیںرہ جاتی ۔

ممتازعلماء ومفتیان کرام کی تصدیقات : جب یہ تحریر اس زمانہ کے ممتاز اہلِ افتاء کی خدمت میں کے ارسال کی گئی۔ تو ان حضرات نے اس معرکۃ الآراء تحریر کوبنظراستحسان دیکھا اور اس موقف کی تائید کرتے ہوئے اس پر اپنے تصدیقی دستخط ثبت کیے اور اپنی مہروں سے بھی اسے مزین کیا اور بعض حضرات نے اس پر مختصر یا مفصل تائیدی نوٹ بھی تحریر کیے ۔چوں کہ اس رسالے کو لکھے ہوئے ایک زمانہ گذرا،اس لیے وہ اوراق ضائع ہوگئے ۔بعض علماء کے جو دستخط ضائع ہونے سے محفوظ رہے ،ان میں سے بعض کو نقل کیا جاتا ہے ۔

 ان میں سب سے اہم آپ کے استاذ گرامی قدر حضرت مولانا لطف اللہ علی گڈھی کی تصحیح ہے ۔حضرت مولانا علی گڈھی کی شخصیت اس زمانہ میں جامع کمالات اور مجمع برکات تھی آپ استاذا الاساتذہ تھے ۔لہذا ان کی تائید اس تحریر کو مزید مضبوطی فراہم کرتی ہے ۔اسی طرح آ پ کے ممتاز ہم عصر مولانا لطف الللہ علی گڈھی کے شاگرد رشید شیخ عبد الغنی نے لکھا کہ :الجواب حق والحق احق بالاتباع ۔(ص:۶۰)

 اس زمانہ کے مشہور فقیہ وعالم مولانا احمد حسن کا نپوریؒ، مدرس مدرسہ فیض عام کانپورنے لکھا کہ:الجواب صحیح والمجیب نجیح وتصریحات الفقہاء بالعظۃ والتذکیر بحیث لا یخفی تائید صریح ،والاصرار علی خلافۃ لیس الا التعصب القبیح ۔یعنی جواب صحیح ہے اور جواب تحریر کرنے والے نے کامیابی کے ساتھ درست جواب لکھا ہے ۔خطبہ کے سلسلہ میںفقہاء نے جویہ تصریح کی ہے کہ :یہ وعظ ونصیحت ہے۔ اس سے اس جواب کی صراحتا تائید ہوتی ہے۔ لہذا اس کے خلاف پر اصرار کرنا ،یہ ہٹ دھرمی کی بدترین شکل ہے ۔اس کے بعد حضرت مولانا احمد حسن کانپوری نے ایک تفصیلی نوٹ بھی حجۃ اللہ البالغہ ،قسطلانی شرح بخاری ،مصفی شرح مؤطا کے حوالہ سے اردو اور عربی میں اس فتوی کی تائید میں تحریر فرمایا ۔

 حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اس وقت کانپور مدرسہ جامع العلوم میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔یہ فتوی آپ کی خدمت میں بھی پہنچا ،تو آپ نے تصدیق دستخط ثبت کرتے ہوئے لکھا : الجواب صواب ۔بعد میں حضرت تھانوی نے اس نقطہ نظر سے رجوع کرلیا تھا ،جس کی تفصیل امداد الفتاوی میں موجود ہے ۔

 مولانا سید احمد حسینی جو پشاور کے مشہور قاضی ومفتی تھے، انھوں نے تائید کے طور پر لکھا :المجیب مصیب ۔مولانا عنایت علی نے لکھا : ’’اصل جواب فصل خطاب وباصواب است‘‘ ۔مولانا علی احمد حسینی القادری نے لکھا :الجواب ھوالجواب ۔

 بحر العلوم محمد عباس علی خاں صدر مدرس مدرسہ محمد یہ حیدر آباد نے عربی زبان میں طویل نوٹ لکھ کر تائید کرتے ہوئے فرمایا : فما قال المجیب انہ الحق الیقین من سنن سید المرسلین ﷺ وعلی آلہ اجمعین ۔یعنی جو جواب حضرت مولانانے لکھا ہے، وہ حق الیقین ہے اور یہی سید المرسلین ﷺ کی سنت بھی ہے ۔

 اسی طرح ضلع پشاور کے مشہور فقیہ مولانا سید عالم حبیب عبد اللہ القرشی نے بھی تائیدی کلمات لکھے ۔مولانا عبد الجمیل صدر مدرس مدرسہ لطیفیہ ویلور تمل ناڈ نے تحریر فرمایا : فیقول العبد الذلیل المدعو بعبد الجمیل انی طالعت ھذہ الرسالۃ المؤلفۃ للعالم النحریر محرز قصبات السبق فی التقریر والتحریر المولوی الالمعی محمد علی سلمہ اللہ العلی الکانفوری فوجدتھا صحیح المعانی سدید المبانی قمی بانامل القلب علیہ مع الاعتقاد فانہ اجاد فیما افاد جزاہ اللہ یوم التناد غب حشر الاجساد ۔یعنی پر تقصیر بندہ عبد الجلیل یہ عرض کرتا ہے کہ میں نے اس رسالہ کا مطالعہ کیا ہے جو جلیل القدر عالم ،تحریر وتقریر کی دنیا کے شہسوار ،بابصیرت شخصیت مولانا محمد علی کانپوری حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔ میں نے اس کتاب کو صحیح مفاہیم، بنیادی اصول کے مطابق پایا۔ یہ اس لائق ہے کہ اس کو اعتقاد کے ساتھ دل سے قبول کیا جائے ۔انھوں نے جو تحقیقات پیش کی ہیں؛ وہ بہت عمدہ اور بہتر ہیں اللہ تعالی اس رسالہ کو ان کے لیے ذخیر ہ ٔآخرت بنائے ۔‘‘

 ان تمام تصدیقی دستخط اور مہر اور بلند پایہ کلمات سے واضح ہوتا ہے کہ اس وقت ملک کے اکابر علماء ومفتیان کرام کا حضرت مونگیری کی تحقیقات پر بڑا اعتماد تھا ۔

علامہ مناظر احسن گیلا نی کی تحقیق : حضرت مونگیری کی تحقیقات کو بعد کے علماء محققین نے بھی قبول کیا ۔ان میں ایک نمایاں نام مشہور صاحب تحقیق عالم دین ،شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی اور علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد رشیدسلطان القلم علامہ مناظر احسن گیلانیؒ کا ہے۔

 علامہ گیلا نی فرماتے ہیں کہ یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ ہے اور اس میں علماء احناف میں سے کچھ کا خیال ہے کہ نمازیوں کی مادری زبان میں جمعہ کا خطبہ دینا مکروہ نہیں ہے ۔بلکہ بلا کراہت جائز ہے ۔اور صحیح یہی ہے اور اس پر امام ابو حنیفہ امام ابویوسف اور امام محمد کا اجماع ہے ۔

   جو لوگ خطبہ جمعہ کا عربی کے دوسری زبان میں دینا مکروہ سمجھتے ہیں، ان کے سلسلہ میں لکھتے ہیں :

 ’’ایک زمانہ سے ہندوستان کے حنفی علماء میں یہ مسئلہ مابہ النزاع بنا ہوا ہے عربی زبان کے سوا دوسری زبان میں خطبہ جمعہ غیر مسنون قرار دینے والے حضرات کے دلائل عام طور پر مشہور ہیں ۔غالبا ان میں سب سے قوی تر دلیل وہی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ نے پیش فرمائی ہے کہ غیر عربی ممالک میں حالاں کہ جمعہ وجماعت کا عہد صحابہ میں ظاہر ہے کہ ہر مفتوحہ ملک میں انتظام تھا ؛لیکن کو ئی ایسی شہادت نہیں ملتی جس سے ثابت ہو تا ہو کہ ان غیر عربی ممالک میں باشندوں کی رعایت سے سننے والوں کی زبان میں خطبہ ک ترجمہ کی اجازت دی گئی ہو‘‘ (برہان دہلی مارچ ۱۹۴۷ء )

  اس دلیل کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

 ’’شہادت کا نہ ملنا اس کو وجود شہادت قرار دینا ،یا کسی مباح فعل کو نہ کرنا، فعل کے عدم اباحت کی دلیل کیا بن سکتی ہے ؟کتاب وسنت میں ترجمہ کی ممانعت نہیں ہے، اس لیے اس کو مباح سمجھنا چاہیے ۔صحابہ ؓنے اگر کسی فعل مباح پر عمل نہ کیا تو کیا ان کا عمل نہ کرنا اس فعل کی اباحت کو کراہت سے بدل دے گا ؟نیز غیر عربی زبانوں سے عموما صحابہ کی ناواقفیت بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے کہ ترجمہ کے فعل مباح پر وہ عمل نہ کرسکے ۔‘‘(برہان مارچ ۱۹۴۷)

    جواب دینے کے بعد پھر مسلک حنفی کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

 ’’دوسرا مسئلہ قرآن کے سوا دوسرے اذکار مثلا تکبیر ،تسلیم ،تشہد ،درود ،خطبہ وغیرہ کا کہ بجائے عربی الفاظ کے اسی مفہوم کو جو عربی الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں ۔غیر عربی الفاظ میں ترجمہ کرکے نمازوں میں کوئی پڑھے؟ تو اس کا کیا حکم ہے ۔متن کنز الدقائق میں لکھا ہے: او بالفارسیۃ صح ۔یعنی عربی کے ان اذکا ر کو اگر کوئی فارسی میں ترجمہ کرکے پڑھے تو درست ہے ۔‘‘

 پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو عربی پرقادر ہے اور دوسراجو عربی پر قدرت نہیں رکھتا۔کیا دونوں کا ایک ہی حکم ہے ۔فقہی کتابوں میں ہے کہ قدر ت والے کے لیے دوسری زبان میں خطبہ وغیرہ مکروہ ہے ۔او رجو قادر نہیں ہے ،اس کے لیے غیر عربی اختیار کرنا مکروہ نہیں ہے ،لیکن اس باب میں امام اعظم ؒاور صاحبینؒ اما م ابویوسف ؒاور امام محمد ؒکا اختلاف نقل کیا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ تو عربی پر خواہ قادر ہو، خواہ قادر نہ ہو دونوں صورتوں میں غیر عربی کو جائز فرماتے ہیں ۔اور صاحبین قدرت والے کے لیے مکروہ قرار دیتے ہیں ۔یہاں مولانا گیلا نی نے فتح المعین سے نقل کیا ہے : محصلہ انہ فی مسئلۃ الشروع بالفارسیۃ ولو مع القدرۃ علی العربیۃ رجعا الی قولہ بخلاف القرائۃ بھا مع القدرۃ علی العربیۃ فانہ رجع الی قولھما ۔(فتح المعین ص ۱۸۳)یعنی خلاصہ یہ ہے کہ با وجود عربی پر قادر ہونے کے فارسی زبان میں نماز کو شروع کرنا یعنی فارسی میں تکبیر کا ترجمہ کرنا اس مسئلہ میں امام ابو یوسف اور امام محمد نے امام ابوحنیفہؒ کا مسلک اختیار کرلیا ہے ۔اور قرآن کی قرائت میں امام ابو حنیفہ نے ابو یوسف اور محمد کے قول کی طرف رجوع کیا ہے ۔جن کتابوں میں اس کے خلاف لکھا ہے وہ اشتباہ اور نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوا ہے ۔اس کی صاحب فتح المعین نے صراحت کی ہے ۔ومن ھھنا حصل الاشتباہ اس کے نہ سمجھنے سے دوسرے مصنفین کو اشتباہ ہوا ہے ۔علامہ مزید لکھتے ہیں : اب میں سمجھتا ہوں کہ عربی زبان پر قادر ہونے کے باوجود قرآن کے سوا دوسرے اذکا ر جس میں خطبہ جمعہ بھی بالاتفاق داخل ہے ۔ان کے متعلق ہمارے تینوں امام یعنی مام ابو حنیفہ ،قاضی ابو یوسف اور محمد بن حسن سب ہی اس بات کے قائل ہیں کہ بغیر کراہت غیر عربی الفاظ میں ان کا ترجمہ جائز ہے ۔مبسوط کے حوالہ سے اس موقع پر فتح المعین ہی میںنقل کیا ہے : من غیر کراھۃ علی الاصح علی ما ذکرہ السرخسی ۔ایسامعلوم ہوتا ہے کہ شروع میں صاحبین کا رجحان ان اذکار کے متعلق بھی کراہت کا تھا اور امام ابو حنیفہ جوا ز کے قائل تھے ۔لیکن بعد میں دونوں صاحبان اپنے استاذ کے ہمنوا ہوگئے ۔ اس لیے حنفی مذہب کا یہ اجماعی مسئلہ ہوا کہ سارے غیر قرآنی اذکار جن میںخطبہ جمعہ بھی شامل ہے۔ ان کا ترجمہ عربی پر قادر ہونے کے با وجود خطیب کرسکتا ہے اور کسی قسم کی کراہت اس میں نہیں ہے ۔تاتار خانیہ کے حوالہ کے بعد صاحب فتح المعین نے صراحت کی ہے : فظاہر ہ کالمتن رجوعھما الیہ لا ھو الیھما فاحفظہ فقد اشتبہ علی کثیر حتی الشرنبلالی ۔یعنی تاتار خانیہ کا حاصل بھی وہی ہے جو متن کنز کا ہے ،غیر قرآنی اذکار میں صاحبین نے ہی امام ابوحنیفہ کے قول کی طرف رجوع کیا ہے نہ کہ ابو حنیفہ نے صاحبین کے قول کی طرف۔ اس کو یاد رکھو اس لیے کہ اس مسئلہ میں اکثر کو اشتباہ ہو گیا ہے۔ حتی کہ شرنبلالی کو بھی ۔مولانا گیلانی نے اس تحقیقی مضمون میں مولانا فخر رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ : ’’پس اگر خطبہ بلفظ ہندی درین مملکت خواندہ شود برائے چیزے موضوع است حاصل شود ۔‘‘یعنی اگر خطبہ ہندی زبان میں اس ملک میں پڑھاجائے ۔تو خطبہ کا مقصد حاصل ہوجائے گا ۔(مستفاد از:حیات گیلانی مصنفہ حضرت مفتی ظفیر الدین مفتاحی )

 حضرت مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کی فقہی خدمات کے ضمن علامہ مناظر احسن گیلا نی کی تحقیقات کو اس لیے تفصیل سے ذکر کیا گیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ اردو میں جمعہ وعیدین کے جواز کا مسئلہ حضرت مونگیری کا تفرد نہیں؛ بلکہ بڑے بڑے محقق علماء بھی اس کے قائل رہے ہیں ۔ ان سے قبل علامہ عبد الحی لکھنوی نے بھی اردو میں خطبہ جمعہ کے جواز کا فتوی دیاتھا (مجموعۃ الفتاوی فصل ۲۵)

مکہ مکرمہ فقہ اکیڈمی کا فیصلہ : بعد میں دیگر مفتیان کرام نے بھی اسی رائے کو پسند کیا ۔مختلف فقہ اکیڈمیوں میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا اور اس کے مطابق فیصلہ ہوا ، اسلامک فقہ اکیڈمی مکہ مکرمۃ نے اپنے پانچویں اجلاس منعقدہ ۸۔۴۱ ربیع اثانی سن ۱۴۰۲ھ میںیہ فیصلہ کیا کہ’’ :ایک متوازن رائے جسے فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ پسند کرتی ہے یہ ہے کہ جن ممالک میں عربی زبان نہیں بولی جاتی ہے ،وہاں جمعہ اور عیدین کا خطبہ عربی زبان میں دینا خطبہ کے صحیح ہونے کی شرط نہیں ہے ۔؛لیکن بہتر یہ ہے کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے انھیں خطبہ کا ابتدائی حصہ اور قرآن کریم کی آیتیں عربی زبان میں سنائی جائیں ۔تاکہ جو لوگ عرب نہیں ہیں ؛وہ قرآن کریم اور عربی زبان سنیں ۔اور ان کے لیے عربی زبان سیکھنے اور قرآن مجید عربی میں پڑھنے کی راہ کھلے ،پھر خطیب حاضرین کی زبان میں وعظ وتبلیغ کرے اور شریعت کے احکام پر روشنی ڈالے ۔‘‘ (مکہ فقہ اکیڈمی کے فقہی فیصلے ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی طبع دوم ۲۰۰۲ء ص ۱۰۷)

   آپ کی فقاہت وعلمیت معاملہ فہمی اس وقت کے اہل علم میں کس حدتک مسلم تھی ،اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگا یا جاسکتا ہے ۔مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے جب ارباب حل عقد کو امارت شرعیہ کی ضرورت کے سلسلہ میں جوڑنا چاہا، تو ایک سوال امیر شریعت کے انتخاب اور اس کے لیے مطلوبہ صفات کاسامنے آیا ۔تاریخ امارت شرعیہ میں ہے : اِس زمانے میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر جیسے امراء کی تلاش اوحضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک جیسے ائمہ کی جستجو کام نہ کرنے کا ایک بہانہ بن سکتی ہے لیکن وجوب کے ساقط ہونے کا ذریعہ نہیں بن سکتی ۔تو پھر اس زمانے میں آخر امیر کے لیے کیا شرطین ہونی چاہیے ۔حضرت سجاد نے اس کا جواب یہ دیا کہ چوں کہ امارت شرعیہ کے کام سیاسی اور شرعی دونوں ہوں گے ۔اس لیے ان دونوں باتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے میرے نزدیک جن شرائط کے سااتھ امیر کا انتخاب ہونا چاہیے وہ حسب ذیل ہیں۔

(۱) امیر شریعت عالم باعمل صاحب ِفتوی اور علماء کے طبقہ میں اپنی علمی حیثیت سے ایک حد تک وقار رکھتا ہو ۔مشائخ طریقت میں صاحب وجاہت ہو ۔اور صوبہ کے اندر اپنا ایک حلقہ رکھتا ہو ۔اور مسلمانوں کی ایک معتد بہ جماعت اس سے متعلق ہو کہ تنظیم شرعی اور اجتماعی قوت جلد از جلد پیدا ہوسکے ۔

(۲) صاحبِ بصیر ت ،حق گو حق بیں ،اور بے باک ہو کبھی مادی طاقت سے بظاہر مرعوب نہ ہونے والا ہو۔

(۳) مسائل حاضرہ میں بھی ایک حد تک بصیرت کے ساتھ رائے دے سکتا ہو اور حسن ِتدبیر کے ساتھ کام کرسکتا ہو ۔لا پر واہی اور خود رائی کے مرض سے پاک ہو ۔

آپ علمیت وفقاہت پر حضرت امیر شریعت اول کی شہادت : ان تینوں شرائط میں سب سے اول شرط ہے عالم باعمل صاحب فتوی ہونا اور اپنی علمی حیثیت سے باوقار ہونا ۔اس کے بعد دیگر اوصاف ہیں؛ آپ غور فرمائیں کہ اس وقت بہار میں دوخانقاہیں مرجع خواص وعوام تھیں ۔ان میں سے ایک بہار کے دار الحکومت پھلواری شریف، پٹنہ میں خانقاہ مجیبیہ جہاں زبدۃ السالکین اور بدر الکاملین حضرت شاہ بد الدین قادری صاحب سجادہ تھے ۔اور دوسری خانقاہ رحمانیہ مونگیر جہاں ہمارے ممدوح حضرت مونگیر ی منبع رشد وہدایت بنے ہوئے تھے ۔حضرت مولاناابوالمحاسن محمد سجاد ؒکے مذکورہ مکتوب کے جواب میں حضرت شاہ بد ر الدین قادری (امیر شریعت اول ) نے جو کچھ تحریر فرمایا وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔آپ نے لکھا :

 ’’محکمہ شرعیہ کے امیر کے لیے میری رائے میں جو پانچ صفات ہونی بتائی گئی ہیں ؛بہت مناسب ہیں، اس صوبہ بہار میں ان صفات سے موصوف اس وقت جناب مولانا شاہ محمد علی رحمانی کے سوا دوسرے کو نہیں پاتا، اس لیے میری رائے ہے کہ اس منصب پر وہی مقرر کیے جائیں اگر علالت مزاج کے عذر سے وہ تشریف نہ لائے ہوں تو ان کا موجود رہنا ،اس جلسہ میں ضروری نہیں ہے ۔ان کے منتخب ہونے کے بعد کوئی ان کی نیابت کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں ان کی اطاعت کا اقرار لے لے ۔‘‘(تاریخ امارت شرعیہ )

 اس گراں قدر جوابی مکتوب سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مولانا محمد علی مونگیر ی کی علمیت ،فقاہت معاملہ فہمی اور دور اندیشہ کا سکہ رائج الوقت چلتا تھا ،جس کی گواہی ایک عظیم علمی وروحانی ہستی نے دی ہے ۔۔

  امارت شرعیہ کے قیام کے لیے پتھر کی مسجد میں پہلے اجلاس میں آپ نے خودتو بوجہ علالت حاضر نہ ہوسکے ؛البتہ اپنے نواسہ کو نمائندہ بنا کر بھیجا ، (تاریخ امارت ص ۷۳)اور وعدہ کیا کہ آئندہ اجلاس کے موقع پر امارت شرعیہ کی شرعی وفقہی حیثیت پر ایک تفصیلی مقالہ ارسال کروں گا، چنانچہ آپ نے حسب ِوعدہ امارت شرعیہ کی شرعی وفقہی حیثیت پر ایک مفصل ومبسوط تحقیقی مقالہ تحریر فرمایا۔ ۹ربیع الاول ۱۳۴۳ھ کو امیر شریعت دوم حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری کے انتخاب کے لیے خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ میں اجلاس منعقد ہوا تھا یہ اجلاس آپ کی صدارت میں منعقد ہونے والا تھا لیکن علالت شدیدہ کی وجہ سے آپ کو عین وقت پر سفر ملتوی کرنا پڑا اور اپنے صاحب زادے حضرت شاہ لطف اللہؒ کو اپنا نائب بنا کر بھیجا جنھوں نے حضرت مونگیر ی کی نیابت میں اجلاس کی صدار ت بھی کی اور حضرت مونگیری کے تحریر کردہ خطبہ صدارت کو بھی پیش فر مایا،جیساکہ کہ تاریخ ِامارت کے مطالعہ سے واضح ہے ؛لالحمد للہ یہ خطبہ ’’مسلمان ایک امت ایک جماعت ‘‘ کے نام سے مطبوع ہے ۔۔اس کتاب کے مطالعہ سے حضرت کی فقہی بصیرت کے نئے نقوش سامنے آتے ہیں ۔اس کتاب میں آپ نے قرآن وسنت کے نصوص، امت کے تعامل اور فقہاء کی تصریحات کی روشنی میں غیر مسلم ممالک میں بھی ایک امیر کی ماتحتی میں شرعی زندگی کے وجوب کو ثابت کیا ہے ۔۔۔کتاب کے مشمولا ت میں خالص تیس صفحات پر مشتمل خالص فقہیہانہ تجقیقات کے جواہر بکھرے ہوئے ہیں جن آپ کی اعلی فقہی بصیرت نمایا ں ہے ۔ اوروہ حضرت کی فقہی بصیرت کے لیے شاہد عدل ہیں ۔

 حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کی فقہی خدمات کے حوالہ سے گذشتہ سطور میں جو کچھ لکھا گیا؛ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ حضرت ایک بلند پایہ فقیہ اور بابصیرت مفتی بھی تھے ۔ایک مفتی کے طور پر اپنی ابتدائی عملی زندگی کی شروعات کی ،پھر جب ندوۃ العلماء کی تحریک آپ نے شروع کی تو وہاں دار الافتاء قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور آپ کی تحریک وتجویز پر ندوۃ العلماء میںدار الافتاء کا قیام عمل میں آیا ۔اور آپ کی نگرانی میں یہ سفر جاری رہا اور امت آپ کی فقہی خدمات سے مستفید ہوتی رہی ۔جب آپ اپنے پیر ومرشد کے حکم پر مونگیر تشریف لائے تو تحفظ ختم نبوت اور تحفظ شریعت کا عظیم کارنامہ آپ کے ذریعہ انجام پایا ۔اس درمیان آپ کی فقہی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی رہیں ۔اور ملت اسلامیہ کو آپ اپنی فقہی خدمات سے بھی فیض یاب کرتے رہے ۔ جزاہ اللہ تعالی عن المسلمین خیر الجزاء ۔

  ٭ناظم تعلیمات مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے بہار٭ رکن الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین دوحہ قطر

 سابق معین المدرسین دار العلوم دیوبند یوپی رابطہ : 9905387547.email.khalidnimvi@gmail.com

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے