حضرت مولانا منفعت علی صاحب بہرائچی حیات و خدمات

57

 

تحریر _محمد سلمان قاسمی دھلوی (نواسہ حضرت مولانا منفعت علی بہرائچی رحمہ اللہ واسعہ)

حق جل مجدہ نے بنی آدم کی فلاح و بہبود کی خاطر ہر دور میں ایسے رجال کاز پیدا فرمائے ہیں جنہوں نے انسانوں کو انسانیت کا درس دیا اور دین متین کی صحیح تشریح و توضیح امت کے سامنے پیش کی ، سب سے پہلے اللہ جل شانہ نے اپنے بندوں کی راہنمائی کے لیے دنیا کی سب سے عظیم اور برگزیدہ شخصیات حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کا انتخاب فرمایا، چنانچہ یہ سلسلہ ابا آدم علی نبینا علیہ السلام سے شروع ہوکر حضرت نبی آخر الزماں امام الانبیا سید الکونین حضور اقدس ﷺ پر آکر ختم ہوگیاـ یومِ عرفہ یعنی ذی الحجہ کی نو تاریخ وہ مبارک اور مکرم دن ہے جسے اللہ رب العزت نے اپنے رسول پاک ﷺ کی زبان اقدس سے تمام دنوں کا سردار قرار دیا ہے۔ اسی محترم دن کو رب کائنات نے اپنے دین کی تکمیل کے لئے چنا اور میدان عرفات میں نبی مکرم ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع ارشاد فرماتے ہوئے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ” الیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الاِسۡلَامُ دیناً“ ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کوکامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا(سورہ مایدہ) سلسلہ نبوت و رسالت ختم ہونے کے بعد اللہ تعالی نے دین مبین کی حفاظت کے لیے یہ طریقہ منتخب فرمایا کہ وہ اپنے بندوں میں سے کسی کو بھی منتخب فرمالیتا ہے، چونکہ دین محمدی آخری دین اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی اس دنیا میں نہیں آے گا، اللہ تعالی نے خود نبوت کا دروزاہ بند کردیا ہے، اب اگر کوئی نبوت کا دعوی کرتا ہے تو قرآن و حدیث کی رو سے کذاب و دجال ہوگا، لہذا رسول اکرم ﷺ کے بعد دین مبین کی حفاظت کا پہرہ آپ کے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اٹھایا اور ذرہ برابر بھی کمی زیادتی کے بغیر اس دین کو پوری دنیا کے انسانوں تک پہنچایا، رفتہ رفتہ ہر قوم کی طرح اس امت میں کچھ بگاڑ پیدا ہونی شروع ہوگئی ـ جس کی اصلاح کی خاطر اللہ تعالی کے وہ چنیدہ بندوں کھڑے ہوتے ہیں جن کو اللہ نے منتخب کر رکھا ہوتا ہےـ اور وہ ہر دور میں ان تمام بدعات و خرافات کو جو عوام الناس میں پیدا ہوجاتی ہیں، دین سے نکال کر خالص دین اسلام کی صحیح راہنمائی وترجمانی کرتے ہیں. چنانچہ برصغیر میں بھی وقتاً فوقتاً جن علماء و مشائخ عظام نے دین اسلام کے لیے قربانیاں پیش کی ہیں، ان کی ایک لمبی فہرست اور طویل داستان ہے، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، سیدة الطائفہ مجدد الف ثانی ، سید سالار مسعود غازی، شاہ ولی اللہ محدث دھلوی، شاہ عبد الحق محدث دھلوی، شاہ عبد العزیز محدث دھلوی، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حجتہ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی،حیکم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، عارف باللہ قاری صدیق احمد باندوی، محی السنہ شاہ ابرار الحق ہردوی، شیخ العرب والعجم مولانا سید علی میاں ندوی، شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد المدنی علیھم الرحمہ وغیرھم کے نام قابل ذکر ہیں ـ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ کے شاگردوں میں ایک نام مولانا منفعت علی بہرائچی (رحمتہ اللہ علیہ واسعہ) کا بھی آتا ہے،

ولادت باسعادت
آپ تاریخی شہر بہرائچ کے قصبہ ریولیا میں04/ رمضان المبارک 1334ھ بمطابق 05جولائی/ 1916ء روز بدھ کو پیدا ہوئےـ ولادت کے بعد اہل خانہ نے آپ کا نام منفعت علی رکھا ـ والد محترم کا نام مدد علی تھاـ آپ کے اہل خانہ نے ضلع بہرائچ کے ایک موضع بلہری سے ہجرت کرکے موضع ریولیا میں آکر قیام فرمایا تھا.

تعلیم کا آغاز

ابتدا میں آپ نے مڈل اسکول قیصر گنج میں تعلیم حاصل کی، پھر 03/ جون سنــــ 1935ء بعمر 19 سال مشرقی یوپی کی مشہور دینی و تربیتی درسگاہ جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ میں داخلہ لیاـ 09/اگست سنــــ1937 تک نور العلوم میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ازہر ہند دارالعلوم دیوبند براے حصول تعلیم تشریف لے گیےـ پھر دوبارہ کسی عذر کی بناء پر 12/جنوری سنـــ 1940ء میں نور العلوم واپس تشریف لے آئے، اور اس وقت جامعہ مسعودیہ نور العلوم کے مایہ ناز اساتذہ عظام سے بھر پور اکتساب فیض کیاـ اہل خانہ کے مطابق آپ مظاہر العلوم سہارنپور بھی اپنی علمی تشنگی بجھانے کے لیے تشریف لے گیے، اس کے بعد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد المدنی علیہ الرحمہ سے بھی تعلیمی استفادہ کیا ـ

اصلاحی تعلق

رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد قرآن کریم نے تزکیہ قلب بیان کیا ہے، ارشاربانی ہے ھُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (سورہ جمعہ، آیت:۲) ”وہی ہے وہ ذات جس نے ان پڑھوں میں انہی میں کا ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کو پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔“
تزکیہ قلب دل کی پاکی کو کہا جاتا ہے یعنی انسان کے دل ودماغ کو بے حیائی اور دنیوی آلائشوں سے پاک کرکے اس میں خوفِ آخرت اور اللہ کی محبت پیدا کی جائے، عام طور پر انسانی نفوس کا رجحان ان چیزوں کی طرف ہوتا ہے جو شریعت کے خلاف ہیں، جن میں نفس کو لطف اور مزہ آتا ہے، ان رجحانات کو موڑ کر نفس کو رشد وہدایت اور خیر پر لگانے کی محنتوں کو تصوف وسلوک اور تزکیہ سے تعبیر کیاجاتا ہے، شریعت میں تزکیے کی بڑی اہمیت ہے، چنانچہ مولانا مرحوم بھی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوے علوم ظاہریہ سے فراغت کے بعد علوم باطنیہ کی تکمیل کیلئے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے۔ اور وقتاً فوقتاً دیوبند حضرت کی مجلس میں حاضری دیتے، بالخصوص رمضان المبارک کا آخری عشرہ حضرت مدنی کے ساتھ ہی گزارتے اور جب دیوبند تشریف لے جاتے تو اپنے شیخ ومرشد کے لیے حسب استطاعت تحفہ وغیرہ لیکر جاتے، مولانا مرحوم چونکہ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اس لیے حضرت مدنی کے لیے دیسی گھی بنواکر گھڑے میں لیکر ضرور جاتےـ اور یہ تعلق اس قدر دراز ہوا کہ آج بھی مولانا مرحوم کے اہل خانہ نے اپنا تعلق خاندانِ مدنی سے قائم کر رکھا ہےـ

*خدمات*
قرآن پاک اور احادیث کی تعلیمات میں پوری اُمت مسلمہ کے مسائل کا حل موجود ہے لیکن بد قسمتی سے اسلامی تعلیمات اور قرآن پاک سے دوری مسلمانوں کے زوال کا سبب بن رہی ہے، مولانا مرحوم نے تحصیل علم سے فراغت کے بعد جب اپنے علاقہ کی جانب توجہ فرمائی تو پورا کا پورا گاؤں بلکہ قرب و جوار میں بھی شرک و بدعت کا زور تھا، تعزیہ داری، اور طرح طرح کے رسم و رواج کے دلدل میں دھنسا پڑا تھا، اس کو لیکر مولانا مرحوم بہت زیادہ فکر مند ہوے؛ لہذا شرک و بدعات کے خاتمے اور غیر شرعی رسم و رواج کے روک تھام کے لئے بھر پور جدوجہد شروع کی اور اپنے علاقہ میں اولاً اپنے شیخ و مرشد کے نام کی جانب نسبت کرتے ہوے ایک مکتب قائم کیاـ اور گاؤں گاؤں جاکر لوگوں کے درمیان وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع کیا اور وہاں سے معصوم بچوں کو لاکر دِینی تعلیم دینی شروع کی ـ جو آج تک رب ذو الجلال کے فضل وکرم سے جاری ہے اور اس وقت اس کے سرپرست اعلی آپ کے بڑے بھتیجے موضع ریولیا کے سابق پردھان الحاج جناب شمس الدین صاحب ہیں ، جو مولانا مرحوم کی جانشینی کا حق ادا کر رہے ہیں ـ مولانا مرحوم صاحب الراے بزرگ ، صوم وصلاة کے علاوہ تہجد گزار، تلاوت کلام اللہ کے پابند تھےـ بیمشار لوگوں نے اللہ کے فضل سے آپ ہاتھ پر شرک و بدعت سے توبہ کی ہےـ

اولاد
نیک اولاد انسان کے لیے دنیا میں سکون وامن کا باعث ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ سے انتہائی عجز وانکسار کے ساتھ نیک اولاد کی دعا کرنی چاہیے! ررشاد ربانی ہے: ’’اب تم اپنی بیویوں سے شب باشی کیا کرو، اور اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لکھ دیا ہے اسے تلاش کرو۔‘‘
ابن عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ (ما کتب اللہ) سے مراد اولاد ہے۔(طبری) اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے زیادہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت والی عورتوں سے نکاح کا حکم دیا ہے: ’’زیادہ الفت کرنے والی زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کیا کرو، کیونکہ میں تمہارے ذریعے سے دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت بڑھانے والا ہوں‘‘۔ (ابوداؤد)
نیک اولاد انسان کے لیے دنیا میں باعث امن و سکون اور مرنے کے بعد اس کے لیے اولاد کی دعا موجب اجر و ثواب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے البتہ تین طرح کے اعمال کا اجر جاری رہتا ہے۔ (۱) صدقہ جاریہ، (۲) ایسا علم جس سے فائدہ حاصل ہو، (۳) نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے۔‘‘ اگر زندگی میں اولاد کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑجائے، تو اس پر بھی والدین کو اجر ملتا ہے۔ رسول اللہ
ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت شدہ ہوجائیں ان بچوں پر صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس مسلمان کو بھی جنت میں داخل فرمادے گاـ اولاد کی حسرت ہر انسان کی ہوتی ہے اور اولاد کا دینا یا نہ دینا یہ اللہ تعالی کی قدرت میں ہے وہ جس کو چاہے اولاد عطا کرے اور جس کو چاہے اولاد سے محروم کردے، کیونکہ اللہ کے ہر فیصلے میں اس کی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں اُس سے بہتر کون جان سکتا ہے، چنانچہ مشیت الہی کے تحت مولانا مرحوم کی تمام اولادیں بچپن میں ہی انتقال کر گئی تھیں ـ آپ کے خاندان کا سلسلہ آپ کے دوسرے حقیقی بھائی (جن کو اللہ تعالی نے مولانا مرحوم کی برکت سے تقوی و پرہیزگاری جیسی عظیم دولت سے سرفراز کیا تھا ) جناب الحاج محمد حنیف صاحب رحمہ اللہ سے چلا اور اللہ تعالی نے مولانا مرحوم کے برادر صغیر کو چار لڑکے اور تین لڑکیوں سے نوازا ـ مولانا مرحوم ہی کی جد وجہد کی وجہ سے مولانا کے گھرانے میں آج الحمدللہ علما و حفّاظ ایک بڑی تعداد موجود ہے ـ

*نور العلوم بہرائچ میں آپ کا بحیثیت رکن شوری کا انتخاب*

تحصیل علم سے فراغت کے بعد آپ کی دینی حمیت و خدمات اور جہد مسلسل کو دیکھتےہوئے اکابر نور العلوم نے آپ کو شوری کا ممبر منتخب کیا اور تا دم حیات آپ نور العلوم کی مؤقر مجلس شوری کے رکن رہے. اور جب بھی مجلس شوری عمل میں آتی آپ بڑے اہتمام سے اس میں شرکت فرماتے اور اپنی قیمتی آرا سے نوازتے تھے، آپ جامعہ نور العلوم کی ترقی کے بارے میں برابر کوشاں رہتے تھے ـ

*مشاہیر علماء سے تعلقات*

آپ علما و مشائخ سے بہت گہرا تعلق اور عقید رکھتے تھے اگر کسی بزرگ کی آمد کی خبر ملتی یا قیصر گنج ہوتے ہوے کوئی بھی بزرگ گزرتا تو مولانا مرحوم ان سے ملاقات کے لیے ضرور تشریف لے جاتے، ان کو اپنے علاقہ کے احوال سے واقف کراتے نیز ان کا قیمتی وقت طلب کرتے اور ان کو اپنے علاقہ میں لاتے، جس سے اہل علاقہ خوب استفادہ کرتے، اور اپنے قلب کی اصلاح کرتےـ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ سلسلہ بھی مولانا مرحوم کی روحانی اولادوں نے ہنوز جاری و ساری رکھا ہےـ اُس وقت کے کبار علماء کی ایک لمبی فہرست ہے جو مولانا مرحوم کی دعوت پر ریولیا تشریف لاے جس میں حضرت مولانا حمید الدین صاحب، حضرت مولانا رشید الدین صاحب، حضرت مولانا سلامت اللہ صاحب، حضرت مولانا حافظ محمد نعمان بیگ صاحب مہاجر مکی، حضرت مولانا کلیم اللہ صاحب نوری، حضرت مولانا حافظ حبیب صاحب اعمی، حضرت مولانا حیات اللہ صاحب قاسمی رحمھم اللہ وغیرھم کے نام قابل ذکر ہیں ـ

*وفات*
رنج وراحت ،خوشی وغمی حیات وممات ایسی اٹل حقیقتیں ہیں جن کا ہم آئے دن مشاہدہ کرتےرہتے ہیں۔بقا اور ثبات صرف اس ذات کو ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک ہے ۔اس ایک ذات کے سوا یہاں جو کچھ ہےان سب کو ایک وقت خاص میں فنا کے گھاٹ اتر جانا ہے ۔ہر نفس اس مرحلے سے گذرتا ہے اور رہ جاتی ہیں تو صرف یادیں ۔یہ سلسلہ ابتدائے آفرینش سے جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا تاہم انسانی تاریخ کی لمبی زنجیر میں کچھ کڑیاں ہمیشہ ایسی رہی ہیں جن کی چمک دمک سے ایک جہان روشن ہے ،جو ٹوٹ کر بھی اپنی کھنک چھوڑتی گئیں ہیں اور ان کی صدائے بازگشت ہمیں ہر طرف سنائی دیتی ہے۔ مولانا مرحوم اپنی ہمہ گیر شخصیت کے باعث کچھ ایسے ہی اوصاف کے حامل تھے۔
بالآخر آپ 1990 یا1991ء میں ہم اہل خانہ سمیت پورے علاقہ کو یتیم کرکے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون)

آسمان تیری لحد پہ شبنم آفشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گهر کی نگہبانی کرے!!