حضرت مولانا مفتی عبدالرزاق (بھوپال) کی وفات ملت اسلامیہ کے لئے بڑا سانحہ : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

118

حیدرآباد ۔ 27؍مئی 2021 (پریس ریلیز)
حضرت مولانامفتی عبدالرزاق خان صاحب بھوپالی ؒ کی وفات ایک بڑا حادثہ ہے، وہ ملک کے ممتاز اور قدآور علماء میں تھے، وہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ کے شاگرد، حضرت مولانا محمد سالم قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ومجاز، جمعیۃ علماء ہندکے نائب صدر اور مدھیہ پردیش کی معروف دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ عربیہ ترجمہ والی مسجد کے بانی اور ذمہ دار تھے۔

ان خیالات کا اظہار آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے کارگزارجنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے اپنے تعزیتی بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھی حصہ لیا تھا، وہ سیاسی اثرورسوخ کے بھی حامل تھے اور مدھیہ پردیش کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرانے میں اہم رول ادا کرتے تھے، وہ پلند پایہ عالم دین، حسنِ تدبیر کے مالک ملی قائد، مصلح اور واعظ تھے۔

ان کی دینی اور دعوتی سرگرمیوں نے پورے مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کو دین سے جوڑنے اور غیر شرعی رسوم ورواجات سے بچانے میں اہم رول ادا کیا، دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔