حضرت مولانا مفتی جنید احمد قاسمی صاحب کی دو کتابوں کا رسم اجراء۔

130

 

(چلنہیاں/ارریہ،بہار 10/جون 2021)۔ مشہور قلم کارجناب مولانا و مفتی جنید احمد قاسمی صاحب استاذتفسیروفقہ وادب عربی جامعہ رحمانی, خانقاہ مونگير کی تصنیف کردہ دو کتابوں: “العلامۃ المحقق السید مناظر أحسن الکیلانی: حیاتہ ومآثرہ” اور” مروجہ سودی معاملات: نقل و عقل کی روشنی میں” کا رسم اجراء عمل میں آیا۔ رسم اجراء کی اس محفل کا اہتمام ضلع ارریہ کے مشہور گاؤں “چلہنیاں “کے معزز علماءِ کرام ودانشوران اور سرپرست جمعیت علماء ارریہ وخانوادہ شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے عاشق زار جناب الحاج بذل الرحمن صاحب کی جانب سے چیلنہیاں کی مدنی مسجد میں کیا گیا۔
اس موقع پر اہل علم اور دانشواران نے رسم اجراء کی اس پر رونق تقریب میں شرکت کر کے مفتی جنید احمد قاسمی صاحب کی مذکورہ بالا دونوں تصنیفات کی کافی پذیرائی کی۔
حضرت مولانا و مفتی احتشام اختر صاحب ندوی امام وخطیب عیدگاہ چلہنیاں نے اپنا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: “رفیقِ محترم ،فاضل بزرگوار جناب مفتی موصوف صاحب ہندوستان کے معتبر قلم کاروں میں سے ایک ہیں- اب تک حضرت مفتی صاحب کی پانچ اہم کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں- طلبہ مدارس و عصری درس گاہوں کے طلبہ کے لیے “جوہر خطابت ونظامت( اردو) اور “الخطب الضیائیہ (عربی)- عوام و خواص کے لیے یکساں طور پر مفید:”مروجہ سودی معاملات: نقل وعقل کی روشنی میں” اور خانقاہ رحمانی مونگیر کی تین بزرگ شخصیات پر مشتمل “الأماجد الثلاثۃ” یہ پانچوں کتابیں اپنے آپ میں بہت اہم ہیں –
مجلس سے خطاب کرتےہوئے جناب مولاناجرجیس اکرم قاسمی صاحب, قاضی شریعت بیگوسرائے نے کہا: مفتی صاحب کو میں لمبے عرصے سے جانتا ہوں- جب میرا دار العلوم دیوبند میں سال دوم عربی میں داخلہ ہوا تھا تو محترم حضرت مفتی صاحب کا ہفتم عربی میں داخلہ ہوا تھا- وہ ہمیشہ اپنے ساتھیوں میں ممتاز رہے- دار العلوم دیوبند نے ان کی لکھی ہوئی کتاب”العلامۃ المحقق السید مناظر أحسن الكيلاني: حیاتہ ومآثرہ” شائع کر کے ہم سب کا سر بلند کر دیا- ان کی کتاب” مروجہ سودی معاملات: نقل و عقل کی روشنی میں ” ایک عمدہ پیش کش ہے- یہ کتاب ہر کلمہ گو کی ضرورت ہے۔ ہر گھر ,ہر مسجد اور کتب خانوں میں خرید کر رکھی جاۓ-
مولانا وماسٹر ناہید حسن صاحب ندوی نے کہا: میں نے دونوں کتابوں کا جا بجا مطالعہ کیا دونوں کتابیں لاجواب ہیں عربی تو خاص علماء ودانشوران طبقہ کے لیے ہے- “مروجہ سودی معاملات: نقل و عقل کی روشنی میں” میں خواص کے ساتھ عوام کے لیے بھی سب کچھ ہے- مطالعے سے معلوم ہوا کہ: یہ کتاب بڑی عرق ریزی کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ ان تمام مسائل پر پوری جامعیت کے ساتھ کلام کیا گیا ہے جن کا تعلق سود اور اس کی مختلف شکلوں سے ہے- پڑھنے لکھنے والے جانتے ہیں۔کہ: کتنی جانکاہی اور عرق ریزی کے ساتھ یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ ایسے میں ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ: زیادہ سے ِ ان کتابوں کو خریدیں اور تقاریب وغیرہ میں اپنے مہمانوں اور رشتہ داروں کو پیش کریں- ان کے لیے یہ کتاب بہترين تحفہ ثابت ہو گی ان شاءاللہ تعالی-
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد رحمت اللہ قاسمی صاحب امام جامع مسجد چلہنیاں نے کہا: اپنے علاقہ کے مشہور و معروف علمی گاؤں” ڈومریا”رانی گنج کے معزز عالم دین جناب مولانامفتی جنید احمد صاحب القاسمی استاد جامعہ رحمانی,خانقاہ, مونگیر کی عربی زبان میں تازہ ترین تصنیف
“العلامة المحقق، السيد مناظر أحسن الكيلاني: حياتہ ومآثرہ” ماشاءاللہ! ایک شاہکار وشاندار اور اہم کتاب ہے۔ کتاب کی اہمیت کے پیش نظر مجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند نے اس کی دار العلوم دیوبند سے اشاعت کومنظوری دی- یہ یقینًا مسلمانان بہار اور بہ طور خاص ضلع ارریہ کے لیے فخر کی بات ہے-
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ: اللہ پاک نے ہمارے ضلع کے لیے یہ سعادت لکھ دی تھی کہ: یہیں کا فاضل اتنا اہم کام کرے گا- الحَمْدُ للهِ! ہمارے اور آپ کے لیے یہ سعادت مبارك ہو-
سرپرست وصدر اجلاس، جناب الحاج بذل الرحمن صاحب نے کہاکہ: میں نے مختلف اخبارات میں مفتی صاحب کی کتابوں کے متعلق پڑھا تھا- میں بہت خوش تھا – الحَمْدُ للهِ! آج تفصيلی ملاقات کا شرف حاصل ہوا- ضلعی سطح پر بھی جمعیت علماء ارریہ کے اراکین کے ساتھ مل کرہم مفتی صاحب کو استقبالیہ دیں گے۔ ان شاءاللہ تعالی
انھوں نے کہا: یقینًا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے- ہم سب کو اس کی قدر کرنی چاہیے-
اس تقریب کی صدرارت فرما رہے جناب بذل الرحمن صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں عربی و اردو کتابیں تصنیف کرنے پر حضرت مفتی صاحب کو اپنی جانب سے مبارکباد پیش کی اور ان کی اس کاوش کو خوب سراہا۔
اور کہا: ان کا یہ غیر معمولی کارنامہ ہے۔
ان
دونوں کتابوں کے مصنف حضرت مفتی جنید احمد قاسمی صاحب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: فضل و کمال میں آدمی جس قدر چاہے آگے بڑھ سکتا ہے۔ کتابیں لکھنا یقینًا بڑی عرق ریزی والا کام ہے- اللہ پاک ہم سے یہ کام لے رہا ہے۔ میرے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہے ۔ دعاء کیجیئے! اللّہ پاک اس کاوش کو قبول فرما لے- محترم حضرت مفتی صاحب نے اپنی دونوں کتابوں کے تعارف میں بتایا کہ: عربی کتاب کی تصنیف میں ایک سو سات کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔
اردو کتاب: “مروجہ سودی معاملات: نقل و عقل کی روشنی میں ” کی تصنیف میں مروجہ سودی معاملات پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب ایک فنی کتاب ہو گئی ہے۔ قاری کو ان شاءاللہ سودی مسائل کی معلومات بہم پہنچانے میں کافی مددگار ثابت ہو گی-
اخیر میں مفتی صاحب نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا- اور مفتی صاحب ہی کی دعاؤں پر مجلس کا اختتامِ ہوا-
ماشاءاللہ! اس تقریب میں اہل محلہ کے علاوہ گاؤں کے علماء دین اور حفاظ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت فرمائی – جن میں جناب حافظ شمس رضا صاحب،جناب مولانا محمد وسیم اکرم صاحب، جناب مولانا محمد غفران صاحب،جناب حافظ عبد المعیدصاحب،جناب حافظ محمد حامد صاحب،جناب الحاج ماسٹر محمد ایوب صاحب،جناب محمداسلم صاحب , جناب عبد السلام صاحب،جناب حافظ وقاری محمد خالد صاحب رحمانی کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں-