حضرت مولانا محب اللہ لاری ندوی ایک کامیاب منتظم ایک باوقار مہتمم

106

محمد قمر الزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام کنڈہ انسان کی تربیت اور شخصیت سازی میں جو افراد مردم گر ہوتے ہیں، ان کو اپنا محسن و غم خوار اور بہی خواہ سمجھنا ضروری ہے، اور بعد از مرگ بھی ان کے رہنما خطوط اور ان کے طریقئہ کار کو لوگوں کے سامنے لانا ضروری ہے، تاکہ وہ خطوط، رہنما اصول اور ان کی دی گئی ہدایات، اصول و ضوابط دوسروں کے لیے نمونئہ عمل بنیں۔۔
حضرت مولانا محب اللہ لاری ندوی رح (ولادت 1905ء….. وفات 1993ء)کا شمار ان باکمال، بے مثال اور یکتائے زمانہ افراد اور کامیاب و لائق و فائق منتظم و مربی میں ہوتا ہے جن کی مثالیں آج کے دور میں تو بہت کم ہیں، میں نے اپنی زندگی میں بہت کم لوگوں کو اتنا کم سخن کم، گو لیکن انتہائی بارعب،باوقار شگفتہ مزاج، معاملہ فہم اور اخلاص و عمل کا پیکر اور علم و عمل کا جامع پایا۔۔۔
حضرت مہتمم صاحب رح کا نام پہلی بار اس وقت سنا اور ان کے دیدار سے مشرف ہوا جب راقم الحروف مدرسہ ضیاء العلوم میں عربی اول میں زیر تعلیم تھا اور بقرعید کی چھٹی گزارنے ندوہ اپنے مامو جان حافظ حامد الغازی صاحب کے پاس آیا تھا جو ان دنوں ندوہ میں عالیہ اولی میں زیر تعلیم تھے ، وہیں پہلی بار مولانا رح کو مسجد میں دیکھا اور خال مکرم نے بتایا کہ یہ حضرت مولانا محب اللہ لاری ندوی ہیں جو ندوہ کے کامیاب باوقار اور اصول پسند مہتمم ہیں، یاد پڑتا ہے کہ ایام تشریق میں کسی دن عصر کے بعد حضرت مہتمم صاحب رح کے گھر پر بھی گئے تھے اور چائے و ناشتے سے ضیافت ہوئی تھی۔۔۔۔
ندوہ میں ۱۹۸۹ء میں درجہ ثانویہ خامسہ میں میرا داخلہ ہوا، داخلہ کی کاروائی کے سلسلے میں ایک بار حضرت مہتمم صاحب کی خدمت میں دستخط کے لیے حاضر ہوا، اور ہر سال صرف داخلہ کے وقت ہی ایک بار مولانا مہتمم صاحب کے دفتر میں جانا ہوتا تھا، اس کے علاوہ مولانا کے سامنے حاضر ہونے کا کبھی موقع نہیں ملا یا یہ کہیئے کہ اس سعادت سے محروم رہا، تحدیث نعمت کے طور پر اس کا ذکر کردوں کہ سات آٹھ سالہ دور طالب علمی میں کبھی کوئی درخواست لے کر مہتم صاحب کی خدمت میں جانے کا موقع ہی نہیں آیا، کیونکہ درمیان سال یا دوران تعلیم کبھی گھر آیا ہی نہیں اور نہ کوئی بورڈ وغیرہ کا امتحان وغیرہ دیا، صرف ششماہی اور سالانہ کی چھٹیوں میں آنے جانے کی ترتیب تھی اور کنشیشین ٹکٹ ہونے کی وجہ سے بالکل وقت پر ندوہ آجاتا تھا۔ دوران تعلیم بقرعید کی چھٹیوں میں ندوہ ہی میں رکنے کا معمول رہا، کم عمری کی وجہ سے والد محترم زیادہ آنے جانے اور سفر کرنے سے منع کرتے تھے اور یکسو ہوکر تعلیم میں منہمک رہنے کی تاکید فرماتے تھے ،والد صاحب کی طرف سے بقرعید کی چھٹی میں ندوہ میں رکنے کا انعام یہ تھا کہ اس مہینے میں ہمیشہ ڈبل روپیہ بھیجتے تھے ۔۔۔۔ حضرت مہتمم رح کے پوتوں میں سے رئیس احمد لاری میرے ہم کلاس اور ہم درس تھے، اس لیے ان کے ساتھ کھیلنے کبھی کبھی حضرت مہتمم صاحب کے پارک( لان)میں چلے جاتے تھے،اور اس طرح چھٹی میں بوریت کچھ کم ہوجاتی تھی۔۔ ندوہ میں داخلہ کے وقت میری عمر بہت کم تھی، درجہ کے کم عمر طلبہ میں تھا اور درجہ کے اعتبار سے بھی نیچے تھا ثانویہ کا طالب علم تھا، اس لیے مہتمم صاحب سے باقاعدہ تعارف یا گفتگو کی نوبت کبھی نہیں آئی، لیکن حضرت مہتمم صاحب کے معمولات، اصول پسندی اور انتظامی سرگرمیوں کو دیکھتا تھا اور چرچا سنتا رہتا تھا، حضرت مہتمم صاحب رح روزانہ صبح آٹھ بجے شیروانی زیب تن فرما کر بڑے وقار کے ساتھ دفتر اہتمام جایا کرتے تھے، میانہ قد، گیہواں رنگ، ٹخنوں سے اوپر علی گڑھ پائجامہ، سفید ریش، منھ میں پان کی گلوری۔ مہتمم صاحب رح ذرا آگے جھک کر چلتے تھے، نگاہیں نیچی اپنے راستے پر رہتی تھیں، چال میں اتنی متانت تھی کہ جوتے کی آواز نہیں سنائی دیتی تھی ۔ یہی حضرت مہتمم صاحب کا روزانہ کا معمول تھا۔ نماز پنجگانہ اور باجماعت نماز کی پابندی میں وہ اپنی مثال آپ تھے۔ اذان ہوتے ہی گھر سے چل دیتے تھے اور صف اول میں سنت سے فارغ ہوکر بیٹھ جاتے اور جماعت کھڑی ہونے کا انتظار کرتے، مغرب کی نماز کے بعد نماز اوابین کا اہتمام کرتے، اخیر عمر تک اور علالت کے ایام میں بھی فجر اور عشاء کی نمازوں میں بھی مسجد آنے کا معمول رہا، جب بہت کمزور ہوگئے تو دو آدمی کے سہارے سے مسجد آتے اور کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے۔ جس طرح خود نماز باجماعت کے بیحد پابند تھے طلبہ سے بھی یہی امید کرتے اور اس کا مکلف بناتے۔۔ بقول مولانا علی میاں ندوی رح :
“اپنے زمانے اہتمام میں طلبہ کی دین داری، نمازوں کی پابندی اور مسجد کی حاضری پر ان کی خاص توجہ رہی۔ وہ کبھی کبھی اس کے لیے گشت کرتے اور اس پر نظر رکھتے، خود بھی ضعف اور مرض کی حالت میں جب تک ممکن ہوسکا، وہ خود چل کر مسجد آتے اور جماعت میں شرکت کرتے ”
مرشد الامہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی نے حضرت مہتمم صاحب رح کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے :
“جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بہت پابند تھے اور طلبہ کے لیے بھی اس کی فکر کرتے تھے کہ وہ کوتاہی نہ کریں۔۔ انہوں نے اپنا رویہ یہ بنا رکھا تھا کہ طلبہ کی نماز میں غفلت بالکل برداشت نہ کرتے۔ اس کے لیے سمجھانے کی کوشش کرتے، انتظامی سطح پر اس کی فکر کرتے اور ضرورت پر سرزنش کا بھی طریقہ اختیار کرتے”
حضرت مہتمم صاحب کا معمول تھا کہ کبھی کبھی فجر کی نماز کے بعد نگران حضرات اور بعض دیگر اساتذہ کو لے کر ہاسلٹس کا دورہ کرتے تھے جو طلبہ مل جاتے بطور سزا کچھ ٹائم کے لیے کھانا بند کر دیا جاتا۔ اس سختی کا نتیجہ تھا کہ طلبہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے تھے، اس سلسلے میں حضرت مہتمم صاحب طلبہ کی شرارتوں سے واقف تھے اس کے لیے مختلف تدبیریں اور ترکیبں کرتے تھے، کہ فجر کی نماز سے پیچھے رہ جانے والا کوئی طالب علم ان کی گرفت اور سزا سے بچ نہیں پاتا تھا۔۔
(اس تاثراتی تحریر کو تیار کرنے میں پرانے چراغ،تعمیر حیات اور مولانا ضیاء الدین ندوی قاسمی خیر آبادی اور مولانا رضی الاسلام ندوی کی تحریروں سے استفادہ کیا گیا ہے)
نوٹ باقی کل کے پیغام میں ملاحظہ کریں
تین چار قسطوں میں یہ مضمون مکمل ہوگا۔۔۔