جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہارات  حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلیؒ کاسانحہ ارتحال ایک بڑاعلمی خسارہ:حضرت...

  حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلیؒ کاسانحہ ارتحال ایک بڑاعلمی خسارہ:حضرت امیر شریعت   

 

حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلیؒ کاسانحہ ارتحال ایک بڑاعلمی خسارہ:حضرت امیر شریعت

 

پھلواری شریف (محمد منہاج عالم ندوی)ملکی وبین الاقوامی شہر ت یافتہ عالم دین،محقق وادیب حضرت مولانا محمد عتیق الرحمٰن سنبھلی ؒ صاحب مختصرعلالت کے بعد مورخہ 23/جنوری 2022 کو دہلی کے ایک اسپتال میں رحلت فرماگئے،اناللہ واناالیہ راجعون،ان کے وصال پر امارت شرعیہ،بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت حضرت مولانااحمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم،سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیرنے گہرے صدمے کااظہار کیااور اپنے تعزیتی پیغام میں اسے ملت کا بڑا علمی اورادبی خسارہ قرار دیا،انہوں فرمایاکہ حضرت مولانا عظیم خانوادے کے چشم وچراغ تھے،حضرت مولانا منظورنعمانی ؒکے فرزنداکبرتھے،اوربڑے ہی ممتازعالم دین،ادیب اورمحقق تھے،درس قرآن میں ان کو درک حاصل تھااردو ادب میں ان کو ملکی سطح پر ایک خاص مقام حاصل تھا،ان کی کئی کتابیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ اورعلمی سرمایہ ہیں،خانقاہ رحمانی مونگیر اورامارت شرعیہ سے ان کااوران کے خانوادے کا عقیدت مندانہ تعلق رہاہے، دادا بزرگوارؒ امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی اور والد ماجد حضرت مولانا ولی صاحب رحمانی ؒ امیر شریعت سابع سے والہانہ رشتہ رہاہے،ملکی سطح پر مسلمانوں کے تشخص اور مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے یہ خانوادہ امارت شرعیہ، خانقاہ رحمانی اور مسلم پرسنل لابورڈ کے ساتھ ہمیشہ مضبوطی کے ساتھ کھڑارہا ہے، بلاشبہ ایسے نامو ر عالم دین کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا ایک بڑا علمی سانحہ ہے،اللہ ان کی مغفرت فرمائے، اور ملت کو ان کا نعم البدل عطافرمائے اور پسماندگا ن کو صبر جمیل عطافرمائے، امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ میں مولانا کے سانحہ ئ ارتحال کی جیسے ہی خبر ملی سب لوگ اس عظیم علمی خسارہ سے افسردہ ہوگئے اور مرکزی دفترامارت شرعیہ میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی،اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے فرمایا کہ حضرت مولاناعلم وتحقیق کے میدان میں بڑا اونچا مقام رکھتے تھے،ان کی کئی تصانیف مقبول خاص وعام ہوئیں،ان کے والد ماجدحضرت مولانا منظورنعمانیؒ نے اسلام اورشعائر اسلام کی حفاظت وصیانت کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہے،اوردرجنوں علمی وتحقیقی کتابیں تصنیف کیں،آپ کے صاحبزادے محترم حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی اپنے والد کے نقش قدم پر دین اوراشاعت دین کے لے ہمہ تن جدوجہد کرتے رہے،اس پورے خانوادے کا امارت شرعیہ سے بڑاگہراقلبی لگاؤ تھا،مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی صاحب کانام بانی امارت شرعیہ ابوالمحاسن محمد سجاد ؒکے افکارونظریات اورخدمات سے متاثر ہوکر حضرت مولانا منظورصاحب ؒ نعمانی نے رکھا،قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے کہاکہ حضرت مولانا کی دینی اورعلمی شخصیت کسی تعارف کا محتاج نہیں،قدرت نے انہیں متنوع خوبیوں اورکمالات سے نوازاتھا،تحریروتقریر کے ذریعہ اصلاح امت کا بڑاکارنامہ انجام دیا،ہم سب کو ان سب کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے،امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے مولانا سنبھلی کی دینی وفکری مختلف گوشوں پرروشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ مولانا ایک بڑے داعی تھے،ان کی تحریروں میں دعوت دین کا عنصرغالب رہتاتھا،الفرقان کے اداریے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مولانا کی تحریریں شگفتہ اوردل پذیز ہوتی تھیں، وہ خوب لکھتے تھے اورڈوب کر لکھتے تھے،انہوں نے تاریخ وسیر پر کئی مفید اورعلمی کتابیں بھی تصنیف کیں جو علمی حلقوں میں حددرجہ متعارف ہوئیں،1967ء میں علاج کی غرض سے لندن تشریف لے گئے اورپھر وہیں سکونت پذیر ہوئے،عرصہ ایک سال قبل ہندوستان تشریف لائے،دہلی میں زیر علاج تھے کہ رب کائنات کا پیغام اجل آیا اوراللہ کو پیارے ہوگئے،انہوں نے کہا کہ مولانا سے میری متعدد ملاقاتیں رہی ہیں وہ بڑے ملنسار اورخلیق آدمی تھے،مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے پرنسپل مولانا مشہوداحمد قادری ندوی صاحب نے فرمایا کہ مولاناکاوصال کسی ایک فرد،جماعت کا نہیں بلکہ پوری ملت کا سانحہ ہے،مولانا سے میرے گھریلوتعلقات بھی رہے ہیں،والد ماجد کی معیت میں لکھنؤ میں متعد بار ملا قاتیں ہوئیں،بڑاہی اعزازو اکرام فرمایا،مولانا رضوان احمد ندوی نائب مدیر ہفتہ روزہ نقیب پٹنہ نے کہا کہ مولانا کے اندر دو بڑی خوبیا ں تھیں،خرد نوازی اورتحقیق وریسرچ میں ممکن حد تک حقیقت حال تک پہونچنے کی خوبی یہ دونوں خوبیاں ان کی تحریروں اور تقریروں کو سننے کے بعد عیاں ہوتی ہیں،مولانا عبدالدیان صاحب رحمانی استاد حدیث جامعہ رحمانی مونگیر نے فرمایاکہ مولانا کی علمی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں،اللہ تعالیٰ ان کے حسنات کو قبول فرمائے اورجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرے اورپسماندگان کو صبروثبات کی توفیق عطاکرے،پھر آپ نے اجتماعی دعا کرائی جبکہ مجلس کی ابتدا مولانااسعداللہ قاسمی کی کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی،اس نشست میں جناب مولانا قمرانیس قاسمی صاحب،مفتی احتکام الحق قاسمی،جناب سمیع الحق صاحب،جناب ایس ایم شرف،الحاج سلام الحق صاحب،مولانا ارشد رحمانی صاحب،مولانا محمد منہاج عالم ندوی صاحب،مولانا شاہنواز عالم مظاہری صاحب،مولانا راشدالعزیری صاحب،مولانا ضیاء الاسلام قاسمی صاحب،جناب مولانا صابرحسین قاسمی صاحب،جناب مولانا مجاہد الاسلام قاسمی ، جناب خبیب صاحب،مولانا عبداللہ جاوید صاحب،مولانا مسرور صاحب،قاری مجیب الرحمٰن صاحب،جناب سلطان صاحب وغیرہ شریک ہوئے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے