ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتحضرت مولانا جلال الدین عمری علم و عمل کے پیکر اور مخلص...

حضرت مولانا جلال الدین عمری علم و عمل کے پیکر اور مخلص داعی اسلام تھے: حضرت نائب امیر شریعت

حضرت مولانا جلال الدین عمری کے انتقال پر امارت شرعیہ میں تعزیتی نشست
برصغیرہندو پاک کے با وقار اور ممتاز محقق و مصنف ، جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدراور شریعہ کاؤنسل کے چیئر مین حضرت مولانا جلال الدین عمری رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال پر امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ذمہ داران و کارکنان نے گہرے غم اور صدمے کا اظہار کیا ۔حضرت مولانا جلال الدین عمری(پیدائش 1935، وفات 2022) مورخہ 26اگست 2022 جمعہ کی شب ساڑھے آٹھ بجے 88 سال کی عمر گزار کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
ان کے وصال پر ایک تعزیتی نشست نائب امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب کی صدارت میں مرکزی دفتر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا ایک نامور عالم دین ، علم و عمل کے پیکر ،مخلص داعی اسلام اور صاحب کردار شخصیت کے حامل انسان تھے ، انہوں نے ملک کے علمی و تعلیمی مراکز میں جماعت اسلامی سے متعلق پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کامیاب کوشش کی ، اور آپ کی ان کوششوں کے نتیجہ میں لوگوں کے درمیان سے بڑی حد تک غلط فہمیاں دور ہوئیں۔بہت ساری خوبیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی عمر عطا فرمائی تھی۔مولانا نے پچاس سے زیادہ گراں قدر علمی کتابیں تصنیف کیں جو علم کے بازار میں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی رہی ہیں ۔ بلا شبہ ایسے با فیض عالم دین کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا ایک بڑا علمی خسارہ ہے۔ امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنی تمہیدی گفتگو میں مولانا کی ہمہ جہت علمی و فکری شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کا امارت شرعیہ ، خانقاہ رحمانی مونگیر اور یہاں کے اکابر علماء و مشائخ سے گہرا تعلق تھا، اس رشتہ کی بنیاد پر امارت شرعیہ کے بڑے قدر دان اور اس کی خدمات کے مداح تھے۔انہوں نے مسلم پرسنل لابورڈ کے پلیٹ فارم سے امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ ، امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحبؒ اور امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ کے ساتھ مل کر بڑا کام کیا اورا س نسبت سے وہ امارت شرعیہ سے بھی قریب ہوئے۔قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب کے کہا کہ جب بھی اسلام اورقوانین اسلامی کے خلاف غیروں کی طرف سے اعتراض ہو تا وہ اس کا جم کر دفاع کرتے اور اسلام کا موقف واضح کرتے تھے۔امارت شرعیہ کے صدر مفتی مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صاحب نے کہا کہ حضرت مولانا جلال الدین عمری صاحبؒ علم وعمل اور تواضع و انکساری کا سمندر تھے ، آپ ایک با وقار اور با بصیرت عالم دین تھے ، دنیا کے حالات و واقعات پر گہری نگاہ رکھتے تھے، انسان مر جاتا ہے لیکن اس کے اعمال و کردار نہیں مرتے ، مولانا بھی اپنے اچھے حسن عمل اور اعلیٰ کردارکے ساتھ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ مفتی امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے کا غم صدیوں رہتا ہے ، مولانا جلال الدین عمری قدس سرہ العزیز کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی کہ مدتوں لوگ آپ کے اعلیٰ کردار اور کارناموں کو یاد کرتے رہیں گے۔ آپ ایک عظیم محقق، رمز شناس داعی، درجنوں کتاب کے مصنف اور ذی وجیہ عالم دین تھے، ان کے جانے سے ملت اسلامیہ کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ نائب قاضی شریعت مولانا مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے کہا کہ حضرت مولانا جلال الدین عمری صاحب مدبر ، محقق، مفکر اور با وقار عالم دین تھے ، چھوٹوں پر شفقت فرمانے والے اور عزیزوں کو آگے بڑھانے والے تھے ۔ ایسی سنجیدہ اور با وقار شخصیت کا چلا جانا ہم سب کا ذاتی نقصان ہے ۔مولانامفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے آپ کی زندگی کے احوال و آثار اور علمی و تصنیفی خدمات کا تفصیل سے تذکرہ کیا ۔آپ نے بتایا کہ مولانا پچاس سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے ، آپ کو شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ اپنی مدلل و محقق اورشگفتہ تحریروں کے ذریعہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مقبول تھے۔نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کہا کہ ان کے علم میں گہرائی اور گیرائی تھی ، وہ ایک فکر کے ساتھ رہ کر دوسری فکروں کو سراہتے اور اس کا احترام کرتے تھے۔مولانا رضوان احمد ندوی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس کو علم و حکمت کی دولت سے نوازتے ہیں انہیں خیر کثیر کی نعمت عطا کرتے ہیں ، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کی نعمت اور خیر کثیر کی دولت سے نوازا تھا، مولانا بنیادی طور پر داعی تھے، عظیم اور موقر جماعت کے امیر ہونے کے با وجود سادہ زندگی گزارتے تھے ، لیکن ساتھ ہی عالمانہ وقار کے حامل تھے ، آپ سے اللہ تعالیٰ نے افراد سازی کا بھی بڑا کام لیا ۔ آپ نے بہت سے علماء و دعاۃ کو تربیت دی جو آج جماعت اسلامی ہند کے پلیٹ فارم سے دینی و علمی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس تعزیتی نشست کا آغاز مولانا عبد اللہ جاوید صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور آخر میں حضرت نائب امیر شریعت اور تمام شرکاء نے مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے لیے مغفرت اور بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔اس نشست میں مولانا احمد حسین قاسمی، مولانا قمر انیس قاسمی، مولانا محمد ارشد رحمانی، جناب سمیع الحق صاحب ، مولانا محمد ابو الکلام شمسی ، مولانا مطیع الرحمن شمسی، مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی، مولانا مجیب الرحمن دربھنگوی، مولانا شمیم اکرم رحمانی، مولانا نصیرالدین مظاہری، مولانا شہنواز عالم مظاہری، مولانا محفوظ اختر صاحب ، مولانا منہا ج عالم ندوی، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا محمد عادل فریدی کے علاوہ دیگر کارکنان امارت شرعیہ بھی شریک تھے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے