ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتحضرت مولانا توفیق احمد صاحب شیرازی کی جامعہ مدنیہ تشریف آوری،اور اہم...

حضرت مولانا توفیق احمد صاحب شیرازی کی جامعہ مدنیہ تشریف آوری،اور اہم خطاب

حضرت مولانا توفیق احمد صاحب شیرازی کی جامعہ مدنیہ تشریف آوری،اور اہم خطاب
(پٹنہ،8مارچ2022)
نمونہ اسلاف،بزرگ عالم دین، حضرت مولانا توفیق احمدصاحب شیرازی مہتمم جامعہ حسینیہ لال دروازہ جونپور آج رات جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ تشریف لائے،آتے ہی خوشی کا اظہارکرتے ہوئے،بانی جامعہ مدنیہ حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ کی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:وہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے،و ضح رہے کہ حضرت مولانا توفیق احمدصاحب شیرازی ،حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ بانی جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کے فیق درس ہیں،دونوں میں بڑے اچھے روابط تھے،ارریہ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے حضرت مولانا توفیق احمدصاحب شیرازی جامعہ مدنیہ سبل پور تشریف لائے،جامعہ مدنیہ کے مہتمم جناب مولانامحمدحارث بن مولانامحمدقاسم صاحبؒ ،حضرت مولاناکو ساتھ لے کر ارریہ تشریف لاے گئے،اور اہم خطاب فرمایا،اس موقع پر جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ میں حضرت مولانا توفیق احمدصاحب شیرازی نے کئی مجلسوں میں بڑی مفیداور قیمتی باتیں بیان فرمائیں،پہلی اور خصوصی مجلس میں اساتذۂ،انتظامیہ کے ساتھ انہوں نے کہا: لاک ڈاؤن کے وقت میں نے دارالعلوم دیوبند کو اپنا رہنما بنایا، میں نے حضرت مفتی ابوالقاسم صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند سے مشورہ کیا اور ان کی رائے کے مطابق میں نے نہ کسی استاذ کی تنخواہ روکی، نہ کسی کو ہٹایا، نیت اچھی رکھی تو اللّٰہ تعالیٰ نے سارے انتظامات کرادیے، بلکہ دوسرے مدارس کا بھی تعاون کیا، نیت کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ فیصلے کرتا ہے، جن مدارس نے تنخواہیں روکی ان کے یہاں انتظام بھی نہیں ہوسکا۔دوسری مجلس میں حضرت نے جامعہ مدنیہ کی وسیع وعریض مسجد میں طلبہ کرام سے خطاب کیا، اور انہیں چند باتوں کی تاکید کی،آپ نے فرمایا:الله کے فضل اور انتخاب سے آپ کسی مدرسے میں آئے ہیں۔ایسے میں آپ کے لئے ضروری ہے کہ مدرسے کے اصول، ضابطے اور نظم و نسق کے پابند رہیں،اسباق کے پابند رہیں،یادرہے کہ اساتذہ کی تربیت آپ کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا:لاک ڈاؤن کی وجہ سے اداروں کا ہر طرح کا نقصان ہوا ہے، اس لئے اساتذہ سے زیادہ آپ کو محنت کی ضرورت ہے۔تیسری مجلس میں حضرت مولانا توفیق احمدصاحب شیرازی نے خصوصی طور پر توجہ دلائی:انہوں نے کہا: شعبہ حفظ کے اساتذہ کرام طلبہ کو قرآن کا اکرام سکھائیں، کسی کا قرآن بغیر غلاف کے نہ رہے، اس بات کی پوری تاکید کریں۔انہوں نے کہا:شعبہ عربی کے اساتذہ بھی اپنے طلبہ کو کتابوں کا احترام سکھائیں، مولانا فخر الدین صاحب دارلعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث بخاری شریف کے مطالعہ کے وقت بھی دو زانو ہوکر بیٹھتے تھے۔ ہمارے علماء مطالعہ کے وقت حاشیہ دیکھنے کے لیے کتاب کو نہیں گھماتے تھے بلکہ خود گھوم کر اور کتاب کے تابع ہوکر مطالعہ کرتے تھے۔تیسری اہم بات انہوں نے فرمائی کہ آپ حضرات میں سے کون لوگ صاحب نسبت ہیں؟اگر نہیں ہیں تو جلد از جلد کسی اللّٰہ والے سے رشتہ جوڑ لیں، پہلے بزرگوں سے بیعت ہوجائیں اس کے بعد تدریس میں لگیں۔حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ جیسے عالم دین، مفکراسلام اور ادیب وقت بھی بزرگوں سے بیعت تھے اور فرماتے تھے کہ میں بھی اصلاح کا محتاج ہوں، تو ہمہ شما کو تو بدرجہ اولی بیعت ہونا چاہیے۔جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کے مہتمم جناب مولانامحمدحارث بن مولانامحمدقاسم صاحبؒ،ودیگراساتذہ نے حضرت مولاناکا پرزور استقبال کیا۔اللہ تعالی حضرت مولانا کی آمد کو جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کے لئے خیر وبرکات کاذریعہ بنائے،اور آپ کاسایہ ہم پر اور امت مسلمہ پر تادیر قائم ودائم رکھے،آمین

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے