ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزحضرت مولاناگل محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں لوگوں کاہجوم۔۔۔۔

حضرت مولاناگل محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں لوگوں کاہجوم۔۔۔۔

#حضرت_مولاناگل_محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں لوگوں کا #ہجوم۔۔۔۔
_________
ضلع ارریہ کے مجھوا گاؤں میں آج ایک ولی صفت عالم دین حضرت مولانا گل محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے جنازے میں علاقے اور قرب و جوار کے مسلمانوں کا ہجوم امنڈ آیا ۔پورا گاؤں اور گاؤں کی ہر گلی اور دروازے پر انسان ہی انسان نظر آئے۔
جنازہ جب آخری دیدار کے بعد جنازہ گاہ کی طرف نکلا تو کاندھا دینے کے لئے لوگوں کا حضرت مولاناگل محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں لوگوں کاہجوم۔۔۔۔جوش و خروش قابل دید تھا۔
مولانا دوسال قبل تصدیق نامہ لینے کے لئے میرے پاس یہاں گھر پر آئے تھے اور اس پیار سے گفتگو کی کہ میں ہمیشہ کے لیے ان کا گرویدہ ہوگیا۔
اسی محبت کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے ان کے جنازے میں شرکت کی توفیق دی۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کئی کلومیٹر تک انسانوں کی قطاریں تھیں اور سب کہ رہے تھے کہ حضرت مولاناگل محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں لوگوں کاہجوم۔۔۔۔اس علاقے کا ایسا پہلا جنازہ ہے۔
علاقے کے علماء نے نماز سے قبل چند منٹ گفتگو کی فرمائش کی تو عاجز نے عرض کیا:
لوگو!
آج آپ کے گاؤں اور علاقے سے عالم باعمل بھی رخصت ہورہاہے اور عامل کامل بھی آپ سب سے جدا ہورہاہے۔
آپ کا جوش و خروش قابل دید ہے لیکن اے کاش آپ اپنے علماء کرام کی جس طرح موت کے بعد قدر کررہے ہو،ان کی حیات میں بھی قدر کرلیتے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ صرف علماء کی،بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے علاقے میں جو انسان بھی قابل و باصلاحیت شخص ہوں،کاش ان کی زندگی میں بھی آپ ان کی قدر کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنا پیشوا،رہنما،قائد یا لیڈر تسلیم کرتے تو خدا کی حضرت مولاناگل محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں لوگوں کاہجوم۔۔۔۔قسم قوم مسلم آج جس زبوں حالی کا شکار ہے ،ہرگز ایسا نہیں ہوتا۔۔۔۔
آپ میں پہچاننے کی صلاحیت ضرور ہے مگر ہاتھ سے وقت کے نکل جانے کے بعد۔۔۔
آج طے کیجئے کہ آپ جس طرح حضرت مولانا کی محبت میں بعد از مرگ قدر کررہے ہیں اب ان سے سبق لےکر اپنے قرب و جوار کے منتخب زندوں کی بھی قدر کریں گے انشاءاللہ ۔۔۔
واقعی حضرت مولانا مرحوم ،حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے گل سرسبز تھے جن کی خوشبوؤں سے آج گریا چکنی ہی نہیں ایک علاقہ مشک آمیز ہے۔۔۔
آخری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عموماً لوگ اپنے ادارے کے ناظم یا معلم کی تو زندگی میں خوب قدر کرتے اور ان کے جنازے میں جوش و خروش سے شرکت بھی کرتے ہیں لیکن جن کی ذات سے خوب نفع اٹھایا،ان کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ اور بال بچوں کی خبر گیری تک نہیں لیتے،یہ سراسر احسان فراموشی ہے،امید کہ آپ سب ایسا نہیں کریں گے انشاءاللہ۔۔۔۔
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔۔۔
ان چند کلمات کے بعد ان کے بیٹے جو حافظ قرآن تھے نے جنازہ کے نماز پڑھائی اور کھیتوں اور کھلیانوں کی پگڈنڈیوں سے ہوکر ہجوم عاشقاں نے اپنی نم آنکھوں سے تین تین لپ مٹی دی اور ان کے لئے بلندی درجات کی دعائیں کی۔۔۔۔
طالب دعاء
#محمداطہرالقاسمی
25/07/2022

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے